شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔



 شمالی کوریا سے 29 دسمبر 2025 کو ایک اہم عسکری خبر سامنے آئی، جس کے مطابق کم جونگ اُن نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے تجربے کی نگرانی کی۔

‎یہ میزائل تجربہ ملک کے مغربی ساحل کے قریب کیا گیا، جہاں سے شمالی کوریا نے اسٹریٹجک طویل فاصلے کے کروز میزائل فائر کیے، جنہیں ریاستی میڈیا نے دفاعی صلاحیت اور خارجہ خطرات کے تناظر میں “ذمہ دارانہ مشق” قرار دیا ہے۔ 

‎میزائل تجربے کی تفصیلات

‎1. تجربے کا مقصد:

‎شمالی کوریا نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کا تجربہ اپنی جوہری اور دفاعی صلاحیتوں کی جانچ کے لیے کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ خطرات جو وہ بیرونی طاقتوں کی موجودہ فوجی سرگرمیوں سے محسوس کرتے ہیں۔ 

‎2. کم جونگ اُن کی نگرانی:

‎ریاستی میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے خود میزائل تجربے کا مشاہدہ اور نگرانی کی، اور تجربے کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش “بیرونی خطرات” کے پیش نظر یہ مشقیں ضروری ہیں۔ 

‎3. میزائل کی کارکردگی:

‎مختلف ذرائع نے بتایا ہے کہ فائر کیے گئے میزائلوں نے اپنے اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا اور پرواز کے دوران مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کیا، حالانکہ شمالی کوریا نے اپنے حکومتی بیانات میں میزائلوں کی صحیح ترین رینج یا تکنیکی صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں۔ 

‎4. سامنا کرنے والی تنقید:

‎جنوبی کوریا اور دیگر بین الاقوامی مبصرین نے اس تجربے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل عام طور پر کم روشنی میں پرواز کرتے ہیں، ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے اور روایتی دفاعی نظاموں سے بچنا آسان ہوتا ہے۔ 

‎عسکری اور جغرافیائی تناظر

‎کروز میزائلوں کی خصوصیات:

‎کروز میزائل، روایتی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں زیادہ نشاندہی اور چھپی ہوئی پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں، جنہیں زمین یا سمندر سے فائر کیا جا سکتا ہے اور یہ کم اونچائی پر پرواز کرتے ہوئے ریڈار کا شکار کم بنتے ہیں۔ 

‎پچھلے تجربات اور رویّے:

‎شمالی کوریا نے ماضی میں بھی کروز میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، جن میں کچھ ہتھیار جوہری یا جوہری صلاحیت رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی درست صلاحیت اور حقیقتیت بین الاقوامی ماہرین کے لیے اب بھی زیر بحث ہے۔ 

‎علاقائی اور عالمی ردعمل

‎1. جنوبی کوریا اور امریکہ:

‎جنوبی کوریا نے ان تجربات کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مسلح افواج اور فضائی نگرانی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ امریکہ نے بھی اپنے ساتھ مل کر شمالی کوریا کی فوجی سرگرمیوں کو نزدیک سے دیکھا اور نگرانی کی ہے، خصوصاً دفاعی اتحاد کے تناظر میں۔ 

‎2. بین الاقوامی برادری کا ردعمل:

‎اقوام متحدہ کی بعض سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم کروز میزائلوں پر واضح طور پر ایسی پابندیاں موجود نہیں ہیں، جسے پیانگ یانگ اپنی پالیسی کے مطابق مستحکم دفاعی پوزیشن کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے باوجود، کئی عالمی طاقتیں اسے علاقائی عدم استحکام اور ہتھیاروں کی دوڑ کے تناظر میں خطرناک پیش رفت قرار دیتی ہیں۔ 

‎3. مستقبل کی توقعات:

‎تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ شمالی کوریا مزید تجربات یا عسکری مظاہرے کر سکتا ہے، خاص طور پر 2026 میں ہونے والی اہم سیاست پارٹی کانگریس کے پیش نظر جہاں ملک کی آئندہ حکمت عملی واضح ہوگی۔ 

‎نتیجہ

‎شمالی کوریا کا طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کا تجربہ ایک نمایاں عسکری پیش رفت ہے جس نے علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ کم جونگ اُن کی نگرانی میں ہونے والا یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ پیانگ یانگ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہے، جس کا مقصد اپنے دعووں کے مطابق جوہری اور دفاعی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا