ٹرمپ نے برطانیہ اور دیگر ممالک سے کہا کہ آبنائے ہرمز سے 'اپنا تیل خود لے لو'
امریکی صدر Donald Trump کا حالیہ بیان کہ برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے "اپنا تیل خود لے لیں"، عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ یہ جملہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر چھپی ہوئی حکمتِ عملی، طاقت کی سیاست، اور عالمی ذمہ داریوں سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خصوصاً جب بات Strait of Hormuz جیسے حساس اور اہم تجارتی راستے کی ہو، تو اس قسم کے بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ پالیسی کے اشارے ہوتے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں امریکہ جیسے طاقتور ملک کا یہ کہنا کہ دوسرے ممالک خود اپنے مفادات کا تحفظ کریں، ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان دراصل امریکہ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کا تسلسل ہے،...