Posts

Showing posts from March, 2026

ٹرمپ نے برطانیہ اور دیگر ممالک سے کہا کہ آبنائے ہرمز سے 'اپنا تیل خود لے لو'

Image
 امریکی صدر Donald Trump کا حالیہ بیان کہ برطانیہ اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز سے "اپنا تیل خود لے لیں"، عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے چکا ہے۔ یہ جملہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر چھپی ہوئی حکمتِ عملی، طاقت کی سیاست، اور عالمی ذمہ داریوں سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خصوصاً جب بات Strait of Hormuz جیسے حساس اور اہم تجارتی راستے کی ہو، تو اس قسم کے بیانات محض الفاظ نہیں بلکہ پالیسی کے اشارے ہوتے ہیں۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو نہ صرف تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں امریکہ جیسے طاقتور ملک کا یہ کہنا کہ دوسرے ممالک خود اپنے مفادات کا تحفظ کریں، ایک بڑی پالیسی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ کا یہ بیان دراصل امریکہ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کا تسلسل ہے،...

ٹرمپ کا ایران معاہدہ: امید کی کرن یا ایک اور ڈھونگ؟

Image
 پاکستان کی سفارتی کوششوں کا کردار ‎واشنگٹن سے تازہ خبر — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک "بہت اہم" معاہدہ ہونے کا "کافی یقین" ہے۔ لیکن اس بیان کے پیچھے کیا حقیقت ہے؟ اور کیا پاکستان جیسے ممالک اس تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ‎ ‎ٹرمپ کا یقین — حقیقت یا سیاست؟ ‎ ‎ٹرمپ کا یہ بیان ان کی معروف "ڈیل میکر" شبیہ کو برقرار رکھنے کی ایک اور کوشش نظر آتی ہے۔ وہ ہمیشہ سے بڑے، تاریخی معاہدوں کا دعویٰ کرتے رہے ہیں — کبھی شمالی کوریا، کبھی افغانستان، اور اب ایران۔ لیکن ان کے دعووں اور حقیقت کے درمیان اکثر و بیشت ایک بڑا خلا رہتا ہے۔ ‎ ‎یاد رہے کہ 2018 میں ٹرمپ خود ہی ایران جوہری معاہدے (JCPOA) سے نکلنے کا اعلان کرنے والے تھے۔ اب اچانک وہی معاہدہ — یا اس سے بھی کمتر شرائط پر — ایک "فتح" کے طور پر پیش کرنے کی تیاری میں ہیں۔ یہ سیاسی چال ہے یا حقیقی سفارتی پیش رفت؟ ماہرین کے مطابق، سچائی شاید درمیان میں کہیں ہے۔ ‎ ‎ایران کی cautiously optimistic کا رویہ ‎ ‎تہران کی طرف سے ا...

پاکستان: ہرمز کا پل

Image
 پاکستان: ہرمز کی کشیدگی میں پل کا کردار ‎جب پڑوسیوں کی لڑائی میں دانشمندی سے کام لینا پڑے ‎خلیج فارس میں جو ہوا، وہ کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ ایک لمحے میں ہر چیز بدل گئی۔ ایران کی جانب سے ہرمز آبنائے بند کرنے کا اعلان، اور پھر دنیا بھر میں جو ہلچل مچی، وہ تاریخ میں رقم ہو گئی۔ لیکن اس سارے منظر میں ایک ملک نے ایسی دانشمندی کا مظاہرہ کیا جو شاید کسی کو نظر نہیں آئی — وہ تھا پاکستان۔ ‎ ‎جب بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو الزام دے رہی تھیں، جب تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، جب جنگ کی آہٹیں سنائی دے رہی تھیں — تب پاکستان نے ایک خاموشی سے، لیکن پوری سنجیدگی سے، اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ‎ ‎کیوں پاکستان؟ ‎ ‎یہ سوال بہتوں کے ذہن میں آتا ہے۔ ایران کے پڑوس میں، خلیج کے قریب، اور ایک ایسا ملک جو خود کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے — اس نے یہ ذمہ داری کیوں لی؟ ‎ ‎جواب دراصل پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں نہیں، بلکہ اس کی سفارتی روایت میں ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سے تنازعات کے حل میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے افغانستان کا مسئلہ ہو، یا مشرق وسطیٰ کی کشیدگی — پاکستان نے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔...

USE ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بین الاقوامی فورس پر زور دیتا ہے۔USE ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بین الاقوامی فورس پر زور دیتا ہے۔

Image
 ہرمز کی بندش: USE کی فکر اور دنیا کی ذمہ داری  خلیج میں کشیدگی، عالمی منڈی میں کھلبلی ‎گذشتہ چند ہفتوں سے خلیج فارس میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی باشعور انسان کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ہرمز آبنائے بند کرنے کی دھمکیاں، اور اب متحدہ عرب امارات (USE) کا اس پر سخت ردعمل — یہ سب کچھ ایک ایسی لہر کی مانند ہے جو ساحل سے ٹکرانے والی ہے۔ ‎ ‎متحدہ عرب امارات نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ یہ معاملہ اب صرف علاقائی نہیں رہا، بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ اور ان کی یہ بات محض ایک سفارتی بیان نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہماری روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ ‎  کیوں یہ ہم سب کا مسئلہ ہے؟ ‎ ‎ذرا سوچیے — جب آپ صبح گاڑی میں بیٹھتے ہیں، جب آپ کے گھر میں بجلی جلتی ہے، جب فیکٹریوں میں مشینیں چلتی ہیں — ان سب کے پیچھے تیل ہے۔ اور اس تیل کا ایک بڑا حصہ ہرمز آبنائے سے گزر کر آتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو کیا ہوگا؟ ‎ ‎پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی۔ بجلی کے بل بڑھ جائیں گے۔ ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے گی کیونکہ транспорт مہنگا ہو جائے گا۔ یہ صرف ایک جغرافیائی تنگی ...

خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ ٹرمپ ایران جنگ کا خاتمہ کریں

Image
 مشرق وسطیٰ کے خلیجی ممالک نے ایک آواز ہو کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کریں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، اور عمان سمیت تمام خلیجی ریاستوں کا یہ موقف ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ ‎ ‎یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب ایران اور اسرائیل کے درمیان میزائل حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خلیجی ممالک پہلے ہی معاشی بحران، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، اور علاقائی عدم استحکام سے تنگ آ چکے ہیں۔ انھیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید طول پکڑی تو ان کی معیشتیں تباہ ہو جائیں گی، ان کے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی، اور خطے میں ایک نئی پناہ گزینوں کی لہر اٹھے گی۔ ‎ ‎سعودی عرب نے سب سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے براہ راست رابطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اس جنگ کا خاتمہ آپ کے ہاتھ میں ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کا اتحادی ہے، اور اگر واشنگٹن چاہے تو تل ابیب کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب خود ایران سے تعلقات بہتر ...

جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ شرائط جاری کر دیں،

Image
 جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ شرائط جاری کر دیں۔ تاریخ کے اوراق میں جنگیں اور امن ایک دوسرے کے سائے کی طرح چلتے رہے ہیں۔ انسان نے ہمیشہ تباہی کے بعد تعمیر کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے۔ آج جب دنیا کے کئی خطوں میں جنگیں جاری ہیں، ان کے خاتمے کے لیے پانچ اہم شرائط کی نشاندہی کرنا ضروری ہے جو مستقل امن کی بنیاد ڈال سکتی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی پر رضامند ہوں۔ جنگ کا پہلا قدم ہمیشہ رکنا ہوتا ہے۔ جب تک گولیاں چل رہی ہیں، میزائل گر رہے ہیں، اور بم برس رہے ہیں، بات چیت کا کوئی راستہ نہیں نکل سکتا۔ جنگ بندی صرف ایک عارضی روک نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ عزم کا مظہر ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ایک قابل اعتماد ثالث کی ضرورت ہوتی ہے، جو دونوں فریقین پر یکساں دباؤ ڈال سکے۔ اقوام متحدہ، علاقائی ادارے، یا عالمی طاقتیں اس کردار میں آ سکتی ہیں۔ دوسری شرط یہ ہے کہ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ جنگ میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوتا ہے۔ بچے بھوکے رہ جاتے ہیں، مائیں علاج سے محروم ہو جاتی ہیں، اور بوڑھے سردی میں ٹھٹھرتے ہیں۔...

ٹرمپ کی بات چیت سے انکار کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی نئی لہر داغ دی۔

Image
 مشرق وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے گرداب میں پھنستا نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ بات چیت کی تجویز کو ٹھکرائے جانے کے بعد، تہران نے اسرائیل پر میزائلوں کی ایک نئی اور ہولناک لہر داغ دی ہے۔ یہ حملے نہ صرف دونوں ممالک کی کشیدہ تعلقات میں ایک نیا باب ہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت بھی ہیں۔ ‎ ‎یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ "بغیر کسی شرط" بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اسرائیل اور امریکی کانگریس میں انتہا پسند حلقوں کے شدید دباؤ کے بعد، ٹرمپ نے یہ تجویز واپس لے لی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے "جارحیت" ختم کرے، پھر بات چیت ہو سکتی ہے۔ یہ شرط ایران کے لیے ناقابل قبول تھی، کیونکہ اس کے نزدیک اسرائیل ہی جارح ہے۔ ‎ ‎ایران نے اس "موقع کی ناکامی" کو ایک سیاسی فتح کی طرح استعمال کیا۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک تقریر میں کہا کہ "امریکہ کی دھوکے بازی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے"۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی یا بات چیت کا ر...

اسرائیل کی جوہری تنصیب ایرانی میزائل

Image
 تاریخ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے اس حساس موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں سے جنگ اور امن کے درمیان کا فرق صرف ایک غلطی یا غلط فہمی کا شکار بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی ایک اہم جوہری تنصیب کے قریب ایرانی میزائل حملوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف دونوں ممالک کی کشیدہ تعلقات میں ایک نیا باب ہے، بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔ ‎ ‎یہ حملے رات کے اندھیرے میں کیے گئے جب اسرائیل کا نگیو نامی جوہری ری ایکٹر، جو دنیا کی قدیم ترین جوہری تنصیبات میں سے ایک ہے، اپنے معمول کے مطابق کام کر رہا تھا۔ اچانک فضا میں میزائلوں کی آوازیں گونجنے لگیں اور پھر دھماکوں کی لہریں۔ اسرائیلی دفاعی نظام "آئرن ڈوم" اور "ایرو" نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، لیکن کچھ میزائل تنصیب کے قریب گرے اور آگ کی لپٹیں اٹھنے لگیں۔ ‎ ‎اسرائیلی فوج نے فوری طور پر الرٹ جاری کیا اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی۔ نگیو شہر میں ہر جگہ خوف اور افرا تفری کا سماں تھا۔ لوگوں کو یاد آیا 1981 کا وہ دن جب اسرائیل نے عراق کے اوسیراک جوہری ری ایکٹر پر حملہ کیا تھا۔ اب و...

ایرانی نئے سال کے موقع پر اسرائیل نے تہران کو فضائی حملوں سے نشانہ بنایا

Image
 نوروز کا تہوار، جو ایرانیوں کے لیے نئے سال کی امید اور خوشی کا پیغام لے کر آتا ہے، اس سال خون اور آنسوؤں میں بدل گیا۔ اسرائیل نے اس مقدس موقع پر تہران اور دیگر شہروں پر فضائی حملے کر کے نہ صرف ایرانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا، بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسرائیل کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایرانی گھر نئے سال کی تیاریوں میں مصروف تھے، بچے تحائف کی امید لگائے بیٹھے تھے، اور خاندان ایک دوسرے سے ملنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔ یہ حملے رات کے اندھیرے میں کیے گئے، جب تہران کے آسمان پر آتش بازی کا رواج ہے۔ لیکن اس بار آتش بازی نہیں، بموں کی برسات تھی۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دفاعی نظام کو چکما دے کر دارالحکومت کے اہداف پر حملے کیے۔ تہران کے ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات، اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں، اور شہر کے مختلف حصوں میں آگ کی لپٹیں اٹھتی نظر آئیں۔ ایران کی سول ڈیفنس نے فوری طور پر الرٹ جاری کیا۔ شہریوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت کی گئی، اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، اور فوجی دستے گل...

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ

Image
 عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں ہچکولے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ خلیج فارس کے مختلف ممالک میں تیل و گیس کی تنصیبات پر ہڑتالوں کے سلسلے میں تیزی آ گئی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے، بلکہ عام صارفین کی جیب پر بھی براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ‎ ‎یہ ہڑتالیں کسی ایک ملک تک محدود نہیں، بلکہ سعودی عرب، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، اور عمان سمیت کئی خلیجی ریاستوں میں یکے بعد دیگرے شروع ہو گئی ہیں۔ ہڑتال کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے بہتر تنخواہوں، محفوظ کام کے حالات، اور بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن ان کی آوازیں کسی نے نہیں سنی۔ اب جبکہ عالمی تیل کی قیمتیں پہلے ہی بلند ہیں، انہیں اپنے مطالبات منوانے کا بہترین موقع مل گیا ہے۔ ‎ ‎سعودی عرب میں ارامکو کی تنصیبات پر ہڑتالوں نے سب سے زیادہ تشویش پیدا کی ہے۔ ارامکو دنیا کی سب سے بڑی تیل پیدا کرنے والی کمپنی ہے اور اس کی کسی بھی رکاوٹ کا عالمی منڈیوں پر فوری اثر پڑتا ...

ایران کا سیکیورٹی چیف کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم اسرائیل نے وسطی بیروت پر حملہ کیا۔

Image
 لبنان کی سرزمین ایک بار پھر آگ اور خون میں نہا گئی۔ اسرائیل نے وسطی بیروت پر ایک ہولناک حملہ کر دیا جس میں ایران کے سیکیورٹی چیف سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایک محتاط انداز میں کیا گیا تھا، لیکن اس کے نتائج پورے خطے میں زلزلے کی طرح محسوس ہوئے۔ ایران نے فوری طور پر بدلہ لینے کا عزم ظاہر کر دیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے۔ ‎ ‎یہ واقعہ بیروت کے ایک مصروف علاقے میں پیش آیا جہاں ایران کی سیکیورٹی کمانڈ کے اہم عہدیدار ایک خفیہ اجلاس میں شریک تھے۔ اسرائیلی فضائیہ نے اس مقام کو نشانہ بنایا اور فضا سے میزائل برسائے۔ حملے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور آس پاس کی گاڑیاں آگ کے گولے بن گئیں۔ ‎ ‎ہلاک ہونے والے ایرانی سیکیورٹی چیف ایران کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اپریٹس کے سربراہ تھے۔ وہ لبنان میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور حزب اللہ کی معاونت کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کا قتل ایران کے لیے ایک سنگین صدمہ ہے، نہ صرف فوجی نقصان کی وجہ سے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ اسرائیل کی جاسوسی اور آپریشنل صلاحیت کا مظہ...

کابل میں منشیات کی بحالی کے مرکز پر پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے۔

Image
 افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ کابل میں واقع ایک منشیات کی بحالی کے مرکز پر پاکستانی فضائیہ کے مبینہ حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا میں ہلچل مچا گئی۔ ایک ایسا مرکز جو نشہ کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ خود تباہی اور موت کا گڑھ بن گیا۔ ‎ ‎یہ واقعہ کابل کے نواح میں واقع "تبیان" بحالی مرکز میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ مرکز نشہ کے عادی افراد، خاص طور پر منشیات کے شکار نوجوانوں کی بحالی کے لیے کام کرتا تھا۔ افغانستان میں منشیات کا مسئلہ کوئی نیا نہیں، دہائیوں کی جنگ، غربت، اور بے روزگاری نے لاکھوں افراد کو افیون، ہیروئن، اور دیگر منشیات کی لعنت میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں یہ بحالی مراکز انسانیت کی آخری امید کی مانند تھے۔ ‎ ‎حملے کی اطلاع ملتے ہی کابل میں ماتم کا سماں چھا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان تھے جو نشہ سے نجات پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے اہل خانہ، جو پہلے ہی اپنے پیاروں کی بیماری سے تڑپ رہے تھے، اب ان کی لاشوں پر رو رہے ہیں۔ یہ منظر کسی بھی انسان کو ہلا ...

امریکی اتحادی ٹرمپ کے دباؤ کے بعد ہرمز کھولنے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

Image
 خلیج فارس کی لہروں میں بظاہر سکون دکھائی دیتا ہے. اس سکون کا نیچے سے گھری بےچینی کی حالت موجودہ عالمیہ سیاسی نظام کی بنیاد پر عمل کررہی ہے. سمندر کی گزرگاہ جسے دنیا توانائی کی بنیادی شریان سمجھتی ہے آبنائے ہرمز اب دوبارہ عالمی توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے. حالیہ دنوں میں یہ خبر سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے اتحادی ممالک اس تنگے کو ہر حال میں کھلا رکھنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہےہیں. اس تنگے کے کھلے رکھنے کے بارے میں ہونے والی بحث اس وقت موجودہ دباؤ کی وجہ سے سابق امریکی صدر Donald Trump کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ چل رہی ہے. ‎ ‎یہ مسئلہ صرف ایک سمندری راستے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت، سیاست اور توانائی کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز وہ مقام ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتا ہے۔ Saudi Arabia، United Arab Emirates، Kuwait اور Iraq جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت بڑی حد تک اسی راستے پر انحصار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی گزرگاہ میں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ واضح اور کسی حد تک سخت مو...

او آئی سی نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منایا

Image
 اسلامی تعاون تنظیم یعنی Organisation of Islamic Cooperation (او آئی سی) نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کو منانے کا عمل جسے وہ درمیان میں رکھتے ہیں تو یہ دن بنیادی طورپر اسلامی دنیا کے ناسے انسان کو اپنی احسا س اور اپنی امنگوں اور اپنی ڈوہنوں کو دکھانے کے اپنے لمحات. انسان جسے آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی اور ترقی اور گلوبلائزیشن کی موجودہ حالت میں انسان کو اپنے مذہب کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا. اس لیے لوگ اب ضرورت مند ہیں کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف اپنا مظاہرہ دکھائیں. ‎اسلاموفوبیا دراصل ایک ایسا رویہ ہے جس میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خوف، غلط فہمی اور نفرت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی معاشروں میں ایک سماجی رجحان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ خاص طور پر مغربی دنیا کے بعض حلقوں میں مسلمانوں کو ایک ایسے گروہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو معاشرتی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان عام انسانوں کی طرح اپنی زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں، کاروبار کر رہے ہیں اور اپنے معاشروں کی ت...