Posts

Showing posts from April, 2026

ایران کی 'توسیع' ناکہ بندی کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمت $120 سے بڑھ گئی

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎السلام علیکم ‎دیکھیں، بات بہت سیدھی ہے… مگر اثر بہت بڑا ہے۔ ‎ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں توسیع کی بات کی، اور تیل کی قیمت سیدھی $120 سے اوپر چلی گئی۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر ہر انسان کی جیب پر پڑتا ہے۔ ‎ ‎تیل مہنگا ہوتا ہے تو سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے۔ ‎پیٹرول مہنگا → کرایہ مہنگا → سبزی مہنگی → زندگی مہنگی۔ ‎ ‎یہ ایک چین ری ایکشن ہے، اور اس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ‎ ‎اب ذرا سمجھیں کہ ایران ایسا کیوں کر رہا ہے۔ ‎ ‎ایران پر کافی عرصے سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس کی معیشت دباؤ میں ہے، اور اسے عالمی سطح پر زیادہ سپورٹ نہیں مل رہی۔ ایسے میں اس کے پاس ایک ہی بڑا کارڈ ہے—آبنائے ہرمز۔ ‎ ‎یہ وہ جگہ ہے جہاں سے دنیا کا بہت سا تیل گزرتا ہے۔ اگر ایران یہاں تھوڑا سا بھی مسئلہ پیدا کرے، تو پوری دنیا ہل جاتی ہے۔ ‎ ‎اور یہی ہوا۔ ‎ ‎صرف خبر آئی کہ ناکہ بندی بڑھ سکتی ہے… اور مارکیٹ گھبرا گئی۔ قیمت اوپر چلی گئی۔ یعنی کبھی کبھی اصل نقصان عمل سے نہیں، بلکہ "خوف" سے ہوتا ہے۔ ‎ ‎اب ذرا اپنے ملک کو دیکھیں۔ ‎ ‎پاکست...

متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے نکلنے کا مقصد ہرمز آئل بحران سعودی عرب کے لیے ایک دھچکا ہے۔

Image
 ‎مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ سے تیل کے گرد گھومتی رہی ہے، اور تیل صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور عالمی سیاست کا محور رہا ہے۔ ایسے میں اگر United Arab Emirates جیسا اہم ملک OPEC سے نکلنے کا فیصلہ کرے، تو یہ محض ایک معاشی قدم نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک زلزلہ ہوگا—جس کے جھٹکے نہ صرف خلیج بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ ‎ ‎اوپیک، جس کی بنیاد 1960 میں رکھی گئی، کا مقصد تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایک پلیٹ فارم دینا تھا تاکہ وہ عالمی منڈی میں اپنی شرائط منوا سکیں۔ اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت اس کی اجتماعی پالیسی رہی ہے، خاص طور پر پیداوار کو کنٹرول کر کے قیمتوں پر اثر ڈالنا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، ہر ملک کے اپنے مفادات نے اس اتحاد کو کمزور بھی کیا ہے۔ ‎ ‎متحدہ عرب امارات، جو تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایک جدید اور متنوع معیشت رکھتا ہے، شاید اب اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں وہ اپنی تیل پالیسی کو مکمل آزادی کے ساتھ چلانا چاہتا ہے۔ اوپیک کی پابندیاں، خاص طور پر پیداوار کی حد، ایسے ملک کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں جو اپنی صلاحیت سے زیادہ پیداوار کر کے زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتا ہ...

ٹرمپ نے آبنائے کی ناکہ بندی ختم کرنے کی ایران کی تجویز پر شکوک کا اظہار کیا۔

Image
 دنیا کی سیاست کبھی سیدھی نہیں ہوتی، اور جب بات امریکہ اور ایران کی ہو تو معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ایران نے ایک اہم پیشکش کی—آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کی۔ یہ وہی راستہ ہے جہاں سے دنیا کا بڑا حصہ تیل گزرتا ہے، اور اس کی بندش سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ ‎ ‎پہلی نظر میں یہ خبر کافی مثبت لگتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں، کشیدگی کم ہوگی، اور تجارت دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔ لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بارے میں سوال کیا گیا، تو ان کا جواب کچھ مختلف تھا۔ انہوں نے اس پیشکش پر شک کا اظہار کیا۔ ‎ ‎اب سوال یہ ہے کہ آخر ٹرمپ کو شک کیوں ہوا؟ ‎ ‎اس کی ایک بڑی وجہ ماضی ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات کبھی بھی زیادہ اچھے نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوئے، معاہدے بھی ہوئے، لیکن اکثر وہ زیادہ دیر نہیں چل سکے۔ ٹرمپ خود بھی اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے نکل چکے ہیں، اس لیے ان کے ذہن میں پہلے سے ہی ایک بداعتمادی موجود ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کی یہ پیشکش بظاہر اچھی ضرور لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے...

ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز- ایکسیوس کو دوبارہ کھولنے کی نئی تجویز پیش کی ہے۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎السلام علیکم ‎ ‎آبنائے ہرمز: طاقت، خوف اور مفاہمت کے درمیان ایک نئی کہانی ‎ ‎خلیج فارس کی گرم ہواؤں میں ہمیشہ سے ایک عجیب سی بے چینی رہی ہے۔ یہ صرف موسم کی شدت نہیں، بلکہ وہ سیاسی درجہ حرارت ہے جو اس خطے کو دنیا کے سب سے حساس مقامات میں بدل دیتا ہے۔ انہی پانیوں کے بیچ واقع آبنائے ہرمز—ایک ایسا راستہ جس سے دنیا کی توانائی کی شہ رگ گزرتی ہے—آج پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے۔ ‎ ‎حالیہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ یہ خبر صرف ایک سفارتی پیشکش نہیں، بلکہ ایک ایسا اشارہ ہے جو بتاتا ہے کہ کشیدگی کے سائے میں بھی مفاہمت کی کوئی نہ کوئی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز: صرف پانی نہیں، طاقت کی علامت ‎ ‎آبنائے ہرمز کو اگر دنیا کی معیشت کا دل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ روزانہ لاکھوں بیرل تیل اس تنگ راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے، تو صرف تیل کی قیمتیں ہی نہیں بڑھتیں، بلکہ عالمی سیاست کے توازن بھی ہل جاتے ہیں۔ ‎ ‎ایران اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس...

ٹرمپ نے ایران امن مذاکرات کے لیے وٹ کوف اور کشنر کا پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خبر بظاہر ایک سادہ سفارتی فیصلہ لگ سکتی ہے، مگر اس کے اندر چھپی کہانی کہیں زیادہ پیچیدہ، گہری اور معنی خیز ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے اپنے قریبی ساتھیوں—اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر—کا پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا محض ایک شیڈول کی تبدیلی نہیں، بلکہ عالمی سیاست کے شطرنج بورڈ پر ایک اہم چال ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک طے شدہ سفارتی قدم اچانک روک دیا گیا؟ کیا یہ واقعی وقتی حکمت عملی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی پالیسی تبدیلی چھپی ہوئی ہے؟ واشنگٹن میں اس وقت جو فضا ہے، وہ غیر یقینی، دباؤ اور توازن کے درمیان جھول رہی ہے۔ ایران کے ساتھ مذاکرات ہمیشہ سے امریکہ کے لیے ایک حساس معاملہ رہے ہیں۔ ایک طرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کی خواہش، اور دوسری طرف داخلی سیاسی دباؤ—یہ دونوں عوامل ہمیشہ فیصلہ سازی کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ ٹرمپ، جو اپنی غیر روایتی اور بعض اوقات غیر متوقع پالیسیوں کے لیے جانے جاتے ہیں، اس بار بھی ایک ایسا قدم اٹھا چکے ہیں جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ پاکستان کا کردار اس پوری صورتحال میں نہایت ا...

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے پر گولی چلنے سے ٹرمپ محفوظ رہے۔

Image
 بسم اللہ الرحمن الرحیم ‎السلام علیکم ‎ ‎واشنگٹن کی راتیں اکثر سیاست، طنز اور طاقت کے مظاہرے سے روشن رہتی ہیں، مگر اس رات کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے سالانہ عشائیے میں جہاں روایتی طور پر ہنسی، مذاق اور سیاسی چبھتے جملوں کی گونج ہوتی ہے، وہاں اچانک ایک ایسی آواز سنائی دی جس نے لمحوں میں فضا کا رنگ بدل دیا—گولی چلنے کی آواز۔ ‎ ‎یہ وہ لمحہ تھا جب وقت جیسے تھم گیا ہو۔ ‎ ‎ہال میں موجود سینکڑوں افراد، جن میں صحافی، سیاستدان، اداکار اور طاقت کے ایوانوں کے نمائندے شامل تھے، پہلے تو یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ یہ واقعی گولی کی آواز ہے یا کسی مذاق کا حصہ۔ مگر چند ہی سیکنڈز میں چیخیں، بھگدڑ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی تیز حرکت نے واضح کر دیا کہ معاملہ سنگین ہے۔ ‎ ‎اس تمام ہنگامے کے مرکز میں ایک نام تھا—ڈونلڈ ٹرمپ۔ ‎ ‎عینی شاہدین کے مطابق، جب فائرنگ کی آواز آئی تو ٹرمپ اسٹیج کے قریب موجود تھے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے بغیر کسی تاخیر کے انہیں گھیرے میں لے لیا اور فوراً محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا۔ یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ بہت سے لوگوں کو بعد میں احساس ہوا کہ وہ ایک ممکنہ سانحے کے کت...

ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔

Image
 ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔ ‎جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 25 اپریل 2026 کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کے چہرے پر وہی پراسرار مسکراہٹ تھی جو سفارت کاروں کو اس وقت آتی ہے جب وہ ایک ایسے کھیل میں اتر رہے ہوں جس کے قواعد صرف وہی جانتے ہوں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا، لیکن یہ رسمی جلوس دراصل ایک ایسے خطے کی نازک سفارت کاری کا آغاز تھا جہاں ہر قدم پر دہشت گردی، جوہری تنازعات اور بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا سایہ منڈلاتا ہے۔  ‎ ‎اسلام آباد میں عراقچی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اپنی تاریخی کمزوری کا شکار ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں واضح کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں "جلدی" نہیں کریں گے، اور اسرائیل-لبنان جنگ بندی کی توسیع کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی انتہا پر ہے۔  ایسے میں پاکستان کا کردار ایک اہم ترین "پل" کا بن جاتا ہے — ایک ایسا ملک جو ایران کا پڑوسی ہے، امریکہ کا قدیم اتحادی ہے، اور چین کا "سب سے قریب ترین دوست...

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل-لبنان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع، لیکن وہ ایران کے معاہدے میں 'جلدی' نہیں کریں گے

Image
 جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے ساتھ ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع ہوگی، تو یہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی انتہا پر تھی۔ اس اعلان نے نہ صرف لبنان میں ہزاروں جانیں بچانے کا امکان پیدا کیا، بلکہ امریکہ کے ایران کے ساتھ جاری تنازعے کے تناظر میں ایک نئی سفارت کاری کی راہ بھی دکھائی۔ ‎ ‎یہ دوسرا موقع تھا جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے۔ پہلا دور 14 اپریل کو ہوا تھا، جو 1993 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی بات چیت تھا۔  ٹرمپ نے اس ملاقات کو "تاریخی" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون جلد ہی وائٹ ہاؤس میں ان سے ملاقات کریں گے۔  ‎ ‎لیکن اس خوشخبری کے پیچھے ایک سرد جنگ جاری ہے۔ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ اور اسرائیل ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ جمعرات کے روز ہی، جب مذاکرات وائٹ ہاؤس میں جاری تھے، حزب اللہ نے شمالی اسرائیل...

بحری جہازوں کے قبضے کی اطلاع سے امن مذاکرات پر نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

Image
 بحری جہازوں کے قبضے کی اطلاع سے امن مذاکرات پر نئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ‎تصور کیجئے ایک ایسے کپتان کو جو رات کے اندھیرے میں اپنے جہاز کو ہرموز آبنائے سے گزار رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک خاندان ہے جو اس کی آمد کا انتظار کر رہا ہے، اس کے سامنے ایک ایسا سمندر جو اب دشمن بن چکا ہے۔ اچانک، اندھیرے سے نکلتی ہیں IRGC کی گن بوٹس، اس کے برج پر فائرنگ کرتی ہیں، اور اسے "خلاف ورزی" کا مجرم قرار دیتے ہوئے قبضے میں لے لیتی ہیں۔ یہ نہیں، کوئی فلم کا منظر نہیں، یہ 22 اپریل 2026 کی رات تھی، جب MSC Francesca اور Epaminondas کے عملے نے موت کا سامنا کیا۔ ‎ ‎صرف چند گھنٹے قبل، صدر ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ پر لکھا تھا کہ وہ "امن" کی خاطر جنگ بندی بڑھا رہے ہیں۔ لیکن اس "امن" کے اعلان کے بعد جو ہوا، اس نے کروڑوں دلوں میں امید کی بجائے خوف کا بیج بویا۔ کیونکہ ٹرمپ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ناکہ بندی جاری رہے گی — وہی ناکہ بندی جو ایران کے لیے "جنگ کا فعل" ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو تہران کی تباہ حال گلیوں میں روٹی کے ایک ٹکڑے کی تلاش میں ہے، یہ "ام...

ٹرمپ نے ایران میں جنگ بندی میں توسیع کرتے ہوئے ایرانی حکومت کو 'سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ' کا حوالہ دیا۔

Image
۔تصور کیجئے ایک ایسے گھر کو جہاں دیواریں ہر طرف سے دھمکیوں کی لہریں محسوس کر رہی ہوں۔ یہ گھر ایران ہے، اور اس کی دیواریں اب ٹرمپ کے الفاظ سے لرز رہی ہیں۔ "سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ" — یہ نہیں، صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں، یہ ایک ایسی دھمکی ہے جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے ۔ ‎ ‎میں سوچتا ہوں ان لوگوں کے بارے میں جو تہران کی تباہ حال گلیوں میں چل رہے ہیں۔ 50 دنوں بعد پہلی بار ایران ایئر کی اندرونی پروازیں دوبارہ شروع ہونے جا رہی ہیں ۔ یہ ایک امید کی کرن ہے، لیکن ٹرمپ کا بیان اس امید پر بھی سایہ ڈال دیتا ہے۔ ایک بزرگ جو اپنے نواسے کے ساتھ تہران کے ایک تباہ شدہ مکان کو دیکھ رہا ہے — کیا وہ سمجھ پائے گا کہ "سنگین ٹوٹ پھوٹ" کا مطلب کیا ہے؟  ‎ ‎ٹرمپ نے جو کچھ کہا، اس کے پیچھے ایک دردناک حقیقت ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ نے "ایران کی بحریہ، فضائیہ اور رہنماؤں کو تباہ کر دیا ہے" ۔ یہ الفاظ سننے میں عام لگ سکتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے کتنے گھروں کے چراغ بجھے ہیں، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو کھویا ہے، کتنے بچے یتیم ہوئے ہیں؟ ‎ ‎لیکن سب سے زیادہ افسوس ...

ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں کیونکہ ڈیڈ لائن کم ہے۔

Image
 ٹرمپ کا جنگ بندی میں توسیع کا امکان نہیں کیونکہ ڈیڈ لائن کم ہے۔ ‎واشنگٹن میں آج کل ایک عجیب سی ہلچل ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان دیا ہے جس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی کیونکہ وقت بہت کم ہے۔ یہ سن کر ایک امریکی شہری نے کافی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے اپنے دوست سے کہا، "ٹرمپ پھر وہی کر رہے ہیں جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، سب کو حیران کر دیتے ہیں۔" ‎ ‎ٹرمپ نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ جو ڈیڈ لائن مقرر تھی اس میں اب صرف چند دن باقی ہیں۔ "میں کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کروں گا جو صرف کاغذ پر اچھا لگے،" ان کے یہ الفاظ میں وہی پرانا ٹرمپ تھا جو ہمیشہ سخت فیصلے کرتا نظر آتا ہے۔ ان کی آواز میں وہ یقین تھا جو کسی بھی بحث کو ختم کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو کسی نئے منصوبے کی نشانی دیتی ہے۔ ‎ ‎نیویارک کے ایک کاروباری شخص نے اس بیان پر اپنی رائے دی۔ "ٹرمپ جانتے ہیں کہ وقت کم ہے، لیکن شاید وہ کچھ اور سوچ رہے ہیں،" اس نے کہا۔ اس کی بات میں وہ تجربہ تھا جو سالوں کی کاروباری چالوں سے سی...

امریکی بحری جہاز کے قبضے پر کشیدگی کے درمیان تہران مذاکرات کو چھوڑ سکتا ہے۔

Image
 ‎تہران کی سڑکوں پر آج کل ایک عجیب سی خاموشی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر وہی پرانی پریشانی نظر آتی ہے جو ہر بار کشیدگی بڑھنے پر دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں ایک خبر نے پورے شہر میں ہلچل مچا دی۔ ایک امریکی بحری جہاز کو ایرانی فورسز نے روک لیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے۔ ‎ ‎ایران کے وزیر خارجہ نے ٹی وی پر آ کر جو کچھ کہا، اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔ "اگر امریکہ نے ہمارے پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ہم میز مذاکرات سے اٹھ جائیں گے۔" ان کی آواز میں وہ سختی تھی جو کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کرتی نظر آ رہی تھی۔ یہ وہی وزیر خارجہ تھے جو چند ہفتے قبل مذاکرات کے امکان پر امید ظاہر کر رہے تھے۔ ‎ ‎تہران کے ایک کافی ہاؤس میں بیٹھے ہوئے ایک بوڑھے ایرانی نے اپنی رائے دی۔ "امریکہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے۔ ایک طرف ہاتھ ملانے آتا ہے، دوسری طرف جیب میں چاقو چھپائے بیٹھا ہوتا ہے۔" اس کے الفاظ میں وہ ناراضگی تھی جو عام ایرانیوں میں امریکہ کے بارے عام ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں 1953 کا وہ سال جب امریکی مداخلت نے ان کی جمہوریت کو تباہ کردیا تھ...

تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند

Image
 تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند ‎ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے والی خبروں نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے لیے ابھی کوئی طے شدہ تاریخ نہیں ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ‎ ‎تہران کے اس موقف نے بہت سے سوال اٹھا دیے ہیں۔ کیا یہ محض ایک تدبیر ہے؟ یا پھر ایران واقعی مذاکرات میں تاخیر چاہتا ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔ ایک طرف امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے، دوسری طرف ایران اپنا رخ سخت کیے ہوئے ہے۔ ‎ ‎اسی دوران ایک اور خطرناک خبر نے خطے میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔ اگر یہ بند ہو گیا تو عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو جائیں گی اور بہت سے ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ‎ ‎ایران کا یہ قدم اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے...

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع

Image
 امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع  ‎ پیر کا انتظار: امید کی گھڑی پاکستان میں ‎18 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اترا۔ اس میں بیٹھے تھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سفیر اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کوشنر—وہ لوگ جو دنیا کی سب سے خطرناک جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ان کا انتظار پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، فوجی سربراہ عاصم منیر، اور ایک پوری قوم کر رہی تھی جو امن کا پیغام بننا چاہتی تھی۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، تہران میں ایک اور ملاقات ہو چکی تھی۔ 16 اپریل کو، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو ناکام ہو گئے۔ ‎ ‎اب ایرانی ذرائع نے اعلان کیا—"مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہو سکتا ہے" ۔ یہ پیر، 21 اپریل، وہ تاریخ تھی جب دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے والی تھی ۔ یہ آخری موقع تھا، آخری سانس، آخری امید۔ ‎ ‎امریکی عہدیدا...

پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات

Image
 پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات  ‎16 اپریل 2026 کی صبح، تہران کے سرکاری محل میں دو ہاتھ ملے—ایک طرف پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ناکام ہو گئے ۔ ‎ ‎یہ ملاقات صرف ایک پروٹوکول کا تبادلہ نہیں تھا، یہ "بریک تھرو" کی تلاش تھی—ایسا شگاف اندھیرے میں جو روشنی کی امید دے سکے ۔ پاکستان، جو خود ایٹمی طاقت ہے، جانتا تھا کہ جوہری معاملات میں "اعتماد" سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہی اعتماد تعمیر کرنے کے لیے منیر تہران آئے تھے۔ ‎ ‎قالیباف کے چہرے پر 21 گھنٹے کی ناکام مذاکرات کی تھکن تھی۔ وینس نے کہا تھا—"ہم ایک معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایران کے لیے برا خبر ہے" ۔ لیکن قالیباف نے جواب دیا تھا—"اگر وہ میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، اسے مذاکرات میں حاصل کرنے کی کو...

پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔

Image
 پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔ ‎15 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ اس میں بیٹھے تھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، اپنے ہمراہ پوری قوم کی امیدیں لے کر۔ ان کا پہلا پڑاؤ ریاض تھا، جہاں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان منتظر تھے ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک دورہ نہیں تھا، یہ "شٹل ڈپلومیسی" کا ایک اہم مرحلہ تھا—ایسا رقص سفارت کاری کا جو ایک دارالحکومت سے دوسرے میں، ایک ملک کے درد کو دوسرے کے کانوں تک پہنچاتا ہے۔ شہباز شریف کا مشن واضح تھا—امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا، خطے کو جنگ کی آگ سے بچانا ۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، ایک اور کردار ادا ہو چکا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، پہلے ہی "شٹل کمیونیکیشن" کا سلسلہ شروع کر چکے تھے ۔ وہ سعودی عرب میں تھے جب جنگ شروع ہوئی، اور فوری طور پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ ‎ ‎ڈار نے عراقچی سے کہا—"ہمارا سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہے" ۔ عراقچی نے جواب دیا—...

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی سے جنگ بندی کا خطرہ ہے۔

Image
 ‎16 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج خلیج فارس کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک آواز بھی گونجی—ایران کی چेतावنی۔ میجر جنرل علی عبداللہی، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر، نے اعلان کیا—"اگر جارحانہ اور دہشت گرد امریکا خطے میں بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی پیش درآمد ہوگی، اور ایران کی طاقتور مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی درآمد و برآمد جاری نہیں ہونے دیں گی" ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک قوم کی آخری سانس تھی جو کہہ رہی تھی—"اب اور نہیں"۔ چار ہفتوں کی بمباری، ہزاروں شہید، تباہ حال شہر، اور پھر ایک عارضی جنگ بندی جو 22 اپریل تک تھی۔ اس کے درمیان امریکی ناکہ بندی نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا تھا ۔ ‎ ‎ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ "ختم ہونے کے قریب" ہے ۔ لیکن کیا واقعی؟ جب ایک طرف "امن" کے دعوے ہو رہے ہوں، دوسری طرف ناکہ بندی کی تلوار لہرا رہی ہو، تو یہ "امن" تھا یا "غاصبانہ قبضہ"؟ ‎ ‎عبداللہی کے الفاظ میں وہی پرانی ایرانی استقامت تھی جو کہتی...