Posts

Showing posts from April, 2026

تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند

Image
 تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند ‎ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے والی خبروں نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے لیے ابھی کوئی طے شدہ تاریخ نہیں ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ‎ ‎تہران کے اس موقف نے بہت سے سوال اٹھا دیے ہیں۔ کیا یہ محض ایک تدبیر ہے؟ یا پھر ایران واقعی مذاکرات میں تاخیر چاہتا ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔ ایک طرف امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے، دوسری طرف ایران اپنا رخ سخت کیے ہوئے ہے۔ ‎ ‎اسی دوران ایک اور خطرناک خبر نے خطے میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔ اگر یہ بند ہو گیا تو عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو جائیں گی اور بہت سے ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ‎ ‎ایران کا یہ قدم اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے...

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع

Image
 امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع  ‎ پیر کا انتظار: امید کی گھڑی پاکستان میں ‎18 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اترا۔ اس میں بیٹھے تھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سفیر اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کوشنر—وہ لوگ جو دنیا کی سب سے خطرناک جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ان کا انتظار پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، فوجی سربراہ عاصم منیر، اور ایک پوری قوم کر رہی تھی جو امن کا پیغام بننا چاہتی تھی۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، تہران میں ایک اور ملاقات ہو چکی تھی۔ 16 اپریل کو، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو ناکام ہو گئے۔ ‎ ‎اب ایرانی ذرائع نے اعلان کیا—"مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہو سکتا ہے" ۔ یہ پیر، 21 اپریل، وہ تاریخ تھی جب دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے والی تھی ۔ یہ آخری موقع تھا، آخری سانس، آخری امید۔ ‎ ‎امریکی عہدیدا...

پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات

Image
 پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات  ‎16 اپریل 2026 کی صبح، تہران کے سرکاری محل میں دو ہاتھ ملے—ایک طرف پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ناکام ہو گئے ۔ ‎ ‎یہ ملاقات صرف ایک پروٹوکول کا تبادلہ نہیں تھا، یہ "بریک تھرو" کی تلاش تھی—ایسا شگاف اندھیرے میں جو روشنی کی امید دے سکے ۔ پاکستان، جو خود ایٹمی طاقت ہے، جانتا تھا کہ جوہری معاملات میں "اعتماد" سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہی اعتماد تعمیر کرنے کے لیے منیر تہران آئے تھے۔ ‎ ‎قالیباف کے چہرے پر 21 گھنٹے کی ناکام مذاکرات کی تھکن تھی۔ وینس نے کہا تھا—"ہم ایک معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایران کے لیے برا خبر ہے" ۔ لیکن قالیباف نے جواب دیا تھا—"اگر وہ میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، اسے مذاکرات میں حاصل کرنے کی کو...

پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔

Image
 پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔ ‎15 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ اس میں بیٹھے تھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، اپنے ہمراہ پوری قوم کی امیدیں لے کر۔ ان کا پہلا پڑاؤ ریاض تھا، جہاں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان منتظر تھے ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک دورہ نہیں تھا، یہ "شٹل ڈپلومیسی" کا ایک اہم مرحلہ تھا—ایسا رقص سفارت کاری کا جو ایک دارالحکومت سے دوسرے میں، ایک ملک کے درد کو دوسرے کے کانوں تک پہنچاتا ہے۔ شہباز شریف کا مشن واضح تھا—امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا، خطے کو جنگ کی آگ سے بچانا ۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، ایک اور کردار ادا ہو چکا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، پہلے ہی "شٹل کمیونیکیشن" کا سلسلہ شروع کر چکے تھے ۔ وہ سعودی عرب میں تھے جب جنگ شروع ہوئی، اور فوری طور پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ ‎ ‎ڈار نے عراقچی سے کہا—"ہمارا سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہے" ۔ عراقچی نے جواب دیا—...

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی سے جنگ بندی کا خطرہ ہے۔

Image
 ‎16 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج خلیج فارس کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک آواز بھی گونجی—ایران کی چेतावنی۔ میجر جنرل علی عبداللہی، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر، نے اعلان کیا—"اگر جارحانہ اور دہشت گرد امریکا خطے میں بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی پیش درآمد ہوگی، اور ایران کی طاقتور مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی درآمد و برآمد جاری نہیں ہونے دیں گی" ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک قوم کی آخری سانس تھی جو کہہ رہی تھی—"اب اور نہیں"۔ چار ہفتوں کی بمباری، ہزاروں شہید، تباہ حال شہر، اور پھر ایک عارضی جنگ بندی جو 22 اپریل تک تھی۔ اس کے درمیان امریکی ناکہ بندی نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا تھا ۔ ‎ ‎ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ "ختم ہونے کے قریب" ہے ۔ لیکن کیا واقعی؟ جب ایک طرف "امن" کے دعوے ہو رہے ہوں، دوسری طرف ناکہ بندی کی تلوار لہرا رہی ہو، تو یہ "امن" تھا یا "غاصبانہ قبضہ"؟ ‎ ‎عبداللہی کے الفاظ میں وہی پرانی ایرانی استقامت تھی جو کہتی...

ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔

Image
 ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔   ہرمز کی ناکہ بندی: جنگ بندی کا امتحان  ایک انسانی داستان امید، خوف اور سفارت کاری کی ناکامی کی ‎14 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج ہرمز آبادی کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ یہ وہ ناکہ بندی تھی جو اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لگائی گئی تھی، اور یہ جنگ بندی کا سب سے سخت امتحان تھا ۔ ‎ ‎ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔ لیکن اس بار یہ مختلف تھا—یہ ناکہ بندی ایک عارضی جنگ بندی کے دوران لگائی گئی تھی، جو 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی اور 22 اپریل تک جاری تھی ۔ ‎ ‎یہ امتحان تھا کہ آیا دو دشمن ایک دوسرے پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ آیا لفظوں کی جگہ عمل لے سکتا ہے؟ لیکن 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ "ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا"، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان ہوا ۔ ‎ ‎...

امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Image
 امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: جب مذاکرات کی کشتی ڈوبی  ایک انسانی داستان اقتدار کی لالچ اور عوام کے زخموں کی ‎13 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج آبنائے ہرمز کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ ٹرمپ کا اعلان ہوا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔ ‎ ‎یہ وہی آبنائے تھا جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا تھا، جہاں سے یورپ کی factories چلتی تھیں، جہاں سے ایشیا کی ترقی کی سانسیں آتی تھیں۔ آج وہیں پر امریکی بحریہ کی طلوار لہرا رہی تھی، اور ایران کے بندرگاہوں میں کھڑے جہازوں پر تالے لگنے لگے تھے ۔ ‎ ‎اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ اختتام تھا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹے تک ایرانی وفد سے بات چیت کی، لیکن جب صبح ہوئی، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان تھا ۔ وینس نے کہا—"ایران...

چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔

Image
 چین کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کے ساتھ کچھ تعلقات بحال کرے گا۔ ‎بیجنگ کے عظیم الشان عوامی ہال میں دو ہاتھ ملے، اور ایسا لگا جیسے تاریخ نے ایک لمبے وقفے کے بعد سانس لی ہو۔ 10 اپریل 2026 کی صبح، چینی صدر شی جن پنگ نے تائیوان کی اپوزیشن لیڈر چینگ لی وون کا استقبال کیا—یہ وہ ہاتھ تھے جو ستر سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے کے مخالف تھے، آج امید کی نئی صبح لے کر مل رہے تھے ۔ ‎ ‎چینگ لی وون، قومیت پسند جماعت (KMT) کی چیئرپرسن، چھ روزہ "امن مشن" پر چین آئی تھیں ۔ ان کے کندھوں پر نہ صرف اپنی پارٹی کا بوجھ تھا، بلکہ 24 ملین تائیوانی عوام کی امیدوں کا بوجھ بھی۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ دورہ آسان نہیں ہوگا—ایک طرف چین کی "ایک چین" پالیسی کی سخت گیریاں، دوسری طرف تائیوان کی حکمران جماعت (DPP) کی تنقید کہ وہ "غدار" بن کر بیجنگ جا رہی ہیں۔ ‎ ‎لیکن چینگ نے کہا، "جنگ نہیں، بات چیت چاہیے"۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانی چینی حکمت تھی جو کہتی ہے—"پل بنانے والے کو پتھر بھی پھول نظر آتے ہیں"۔ ‎ ‎دو دن بعد، 12 اپریل 2026 کو، چین نے اعلان کیا ...

امریکہ اور ایران کے براہ راست مذاکرات طویل مذاکرات کے بعد بھی کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

Image
 12 اپریل 2026 کی شام، اسلام آباد کے سرینا ہوٹل سے ایک مایوس کن خبر سامنے آئی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 40 سال میں پہلی براہ راست مذاکرات، جو 12 گھنٹے سے زائد جاری رہے، کسی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ یہ مذاکرات، جنہیں مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ قرار دیا جا رہا تھا، اب ایک نئے بحران کا پیش خیمہ بنتے نظر آ رہے ہیں۔ ‎ ‎مذاکرات کا پس منظر اور اہمیت ‎ ‎یہ مذاکرات 11 اپریل 2026 کو پاکستان میں شروع ہوئے تھے، جو 40 روزہ امریکا-ایران جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت کا موقع تھا۔ امریکی نائب صدر JD وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد شرکت کر رہا تھا، جبکہ ایران کی طرف سے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے۔ ‎ ‎صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ سفارتی کوششیں شروع ہوئی تھیں۔ پاکستان نے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا۔ ‎ ‎مذاکرات میں سامنے آنے والے اختلافات ‎ ‎مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ واضح طور پر سامنے آیا۔ امریکا کا 15 ن...

ایران کے ساتھ امن مذاکرات سے قبل امریکی مذاکرات کار پاکستان پہنچ گئے۔

Image
 امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات سے قبل امریکی مذاکرات کاروں کا پاکستان پہنچنا بظاہر ایک سفارتی معمول لگ سکتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک بڑی جغرافیائی و سیاسی بساط پر چال ہے—ایسی چال جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ‎ ‎پاکستان کا انتخاب بطور میزبان یا عبوری اسٹیشن محض اتفاق نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل ترین سفارتی حالات میں پل کا کردار ادا کیا ہے۔ چاہے وہ افغان امن عمل ہو یا چین اور امریکہ کے درمیان خفیہ سفارتکاری، اسلام آباد نے اکثر ایسے مواقع پر ایک “خاموش سہولت کار” کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ اس بار بھی حالات کچھ مختلف نہیں لگتے۔ ‎ ‎امریکی مذاکرات کاروں کی آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے درمیان پراکسی محاذ آرائی، اور عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات—یہ سب عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایسے میں براہِ راست مذاکرات کا آغاز ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے، اور یہی وہ جگہ...

‎لبنان پر حملہ

Image
 لبنان پر حملہ   ‎لبنان پر حملہ — ایک انسانی المیہ، ایک سیاسی داستان ‎مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین ایک بار پھر بارود کی بو میں لپٹی ہوئی ہے۔ لبنان، جو کبھی اپنی خوبصورتی، ثقافت اور زندگی کی رنگینیوں کے لیے جانا جاتا تھا، آج خوف، تباہی اور غیر یقینی کے سائے میں کھڑا ہے۔ حالیہ حملوں نے نہ صرف عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا ہے بلکہ انسانوں کے دلوں میں امید کے چراغ بھی مدھم کر دیے ہیں۔ ‎ ‎یہ حملے صرف فوجی کارروائیاں نہیں ہیں؛ یہ انسانی زندگیوں پر گہرے زخم ہیں۔ جب ایک میزائل فضا کو چیرتا ہوا کسی شہر پر گرتا ہے، تو وہ صرف اینٹوں اور پتھروں کو نہیں توڑتا بلکہ خاندانوں کو بکھیر دیتا ہے، خوابوں کو روند دیتا ہے اور آنے والے کل کی امید کو بھی خاک میں ملا دیتا ہے۔ لبنان کے عام شہری، جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور روزمرہ کی مشکلات سے نبرد آزما تھے، اب ایک نئی آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ ‎ ‎بیروت کی گلیاں، جو کبھی زندگی سے بھرپور ہوا کرتی تھیں، اب سنسانی کی تصویر پیش کر رہی ہیں۔ بچوں کی ہنسی کی جگہ سائرن کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، اور کھیل کے میدان اب پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ...

وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔

Image
 وینس ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے روانہ ہوئے کیونکہ لبنان میں تعطل نے جنگ بندی کی دھمکی دی ہے۔ ‎مشرق وسطیٰ کے تازہ ترین خطے میں ایک نیا باب کھلنے کو ہے جب امریکی نائب صدر JD وینس پاکستان کے لیے روانہ ہوئے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ اہم مذاکرات کا آغاز کر سکیں۔ تاہم، یہ سفارتی مشن ایک ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ‎ ‎مذاکرات کا پس منظر ‎ ‎یہ مذاکرات 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں، جو کہ ایک غیر متوقع ثالث کی حیثیت سے پاکستان کی کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کریں گے، جو کہ ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ ‎ ‎یہ مذاکرات ایک دو ہفتہ کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد شروع ہو رہے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 اپریل 2026 کو کیا تھا۔ تاہم، اس جنگ بندی کی نوعیت اور دائرہ کار کو لے کر امریکا اور ایران کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ‎ ‎لبنان: جنگ بندی کا تنازعہ ‎ ‎ایران کا موقف ہے ...

اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔

Image
 اسرائیل نے لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے لوگوں کو بھاگنے کا حکم دیا۔ ‎لبنان کی سرزمین پر ایک بار پھر تباہی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھروں کو خالی کر دیں اور شمال کی جانب نقل مکانی کریں۔ یہ وارننگ اس وقت دی گئی جب اسرائیل نے مزید وسیع فوجی کارروائیوں کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ ‎ نقل مکانی کا جبری حکم ‎ ‎اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان اویچے ادرعی نے ایک بیان میں کہا کہ "جو بھی افراد حزب اللہ کے جنگجوؤں، تنصیبات یا ہتھیاروں کے قریب موجود ہیں، وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جنوب کی جانب کوئی بھی نقل و حرکت آپ کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔" ‎ ‎یہ حکم صرف ماضی کی کارروائیوں کی تکرار نہیں بلکہ ایک نئی اور وسیع تر فوجی مہم کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 25 دیہات کے رہائشیوں کو فوری طور پر عوالی دریا کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقہ لیتانی دریا سے بھی شمالی طرف ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے تحت حزب اللہ کی موجودگی کی حد مقرر کی گئی تھ...

اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے جب ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی 'منت کی'

Image
 منت کی آواز: لبنان  ‎شام کا سورج لبنان کے آسمان پر خون کی طرح سرخ تھا۔ بیروت کی گلیوں میں آگ کی لپٹیں چاند کی طرح روشن تھیں، لیکن یہ چاند کسی عید کا پیغام نہیں، بلکہ موت کا پیغام لے کر آیا تھا۔ اسرائیلی طیاروں نے دارالحکومت پر ایسے حملے کیے جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو۔ لبنانی ریڈ کراس کے مطابق صرف ایک دن میں 300 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، اور ملبے تلے اب بھی سینکڑوں جانیں دبھی پڑی تھیں ۔ ‎ ‎یہ 8 اپریل 2026 کی شام تھی۔ ایک طرف امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبریں گردش کر رہی تھیں، دوسری طرف لبنان کا سر اٹھانا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح اعلان کر دیا تھا: "ایران کے ساتھ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا" ۔ یہ دوہرا کھیل تھا—ایک طرف امن کا ڈھول بجانا، دوسری طرف آگ کی ہولی کھیلنا۔ ‎ ‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں فخر سے اعلان کیا: "ایران نے جنگ بندی کی منت کی، یہ ہم سب جانتے ہیں" ۔ ان کے الفاظ میں وہی امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے اپنے پاؤں تلے روندتا آیا ہے۔ ان کا کہنا ت...

ٹرمپ کے 'جہنم' کو اتارنے کی دھمکی پر گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ہی ایران کی مخالفت ‎

Image
 گھڑی کی ٹک ٹک: جہنم کی دہلیز پر ایران  ایک انسانی داستان کشمکش اور استقامت کی ‎گھڑی کی سوئی رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ حرکت کر رہی تھی۔ ہر ٹک ایک دھمکی، ہر ٹاک ایک جواب تھا۔ واشنگٹن کے اوول آفس میں بیٹھے ایک صدر نے جوہری معاہدے کی میز پر ہتھیلی مار دی، جبکہ تہران کی گلیوں میں ایک قوم نے اپنی تاریخ کے سب سے سخت امتحان کا سامنا کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ ‎ ‎یہ اپریل 2026 کا وہ لمحہ تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو "جہنم میں اتارنے" کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے ہرمز آبادی نہ کھولی، تو امریکا چند گھنٹوں میں ایران کے ہر پل، ہر بجلی گھر، ہر انفراسٹرکچر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا۔ ان کے الفاظ میں وہی پرانا امریکی غرور تھا جو مشرق وسطیٰ کو برسوں سے خون میں نہلاتا آیا ہے: "ایران کے ہر پل کو تباہ کر دیا جائے گا، ہر بجلی گھر جل کر خاکستر ہو جائے گا" ۔ ‎ ‎لیکن گھڑی کی ٹک ٹک صرف ایک طرف سے نہیں سنائی دے رہی تھی۔ تہران میں، ایرانی قوم نے بھی اپنی گھڑی دیکھی۔ ان کی گھڑی میں استقامت کا وقت تھا، تاریخ کی وہ گھڑی جو 2500 سالہ فارسی تہذیب کی گواہی دیتی ہے۔ ایرا...

ٹرمپ کی آخری ڈیڈ لائن — ثالثوں کی جانب سے 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز ‎

Image
 2026 ‎ ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر آخری ڈیڈ لائن دی ہے، جس میں انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر منگل کی شام 8 بجے تک معاہدہ نہ ہوا تو "وہاں سب کچھ اڑا دیں گے" ۔ یہ ڈیڈ لائن اصل میں پیر کی شام ختم ہونے والی تھی، لیکن ٹرمپ نے اس میں 20 گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔ ‎ ‎اس پس منظر میں، علاقائی ثالثوں نے آخری کوشش کے طور پر 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستانی، مصری اور ترک ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز دونوں فریقین تک پہنچائی گئی ہے ۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 45 روز کی جنگ بندی ہوگی، جس کے دوران دونوں فریقین مستقل امن معاہدے پر بات چیت کریں گے۔ ‎ ‎ٹرمپ نے ایکسائوس نیوز کو بتایا کہ امریکا ایران کے ساتھ "گہری مذاکرات" میں ہے اور منگل کی ڈیڈ لائن سے پہلے معاہدہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو وہاں کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دیے جائیں گے۔ یہ دھمکیاں ایرانی شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم تصور ہو سکتی ہیں ۔ ‎ ‎ثالثوں کی کوششوں کا مقصد اس جنگ کو مزید وسعت دینے سے روکنا ہے، کیو...