Posts

تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند

Image
 تہران کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں، آبنائے ہرمز بند ‎ایران کے دارالحکومت تہران سے آنے والی خبروں نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ ایرانی حکام نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے لیے ابھی کوئی طے شدہ تاریخ نہیں ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ‎ ‎تہران کے اس موقف نے بہت سے سوال اٹھا دیے ہیں۔ کیا یہ محض ایک تدبیر ہے؟ یا پھر ایران واقعی مذاکرات میں تاخیر چاہتا ہے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔ ایک طرف امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے، دوسری طرف ایران اپنا رخ سخت کیے ہوئے ہے۔ ‎ ‎اسی دوران ایک اور خطرناک خبر نے خطے میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ آبنائے دنیا کی تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ ہے۔ اگر یہ بند ہو گیا تو عالمی معیشت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو جائیں گی اور بہت سے ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ‎ ‎ایران کا یہ قدم اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے...

امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع

Image
 امریکا ایران مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہونے کا امکان: ایرانی ذرائع  ‎ پیر کا انتظار: امید کی گھڑی پاکستان میں ‎18 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اترا۔ اس میں بیٹھے تھے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، سفیر اسٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کوشنر—وہ لوگ جو دنیا کی سب سے خطرناک جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ان کا انتظار پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، فوجی سربراہ عاصم منیر، اور ایک پوری قوم کر رہی تھی جو امن کا پیغام بننا چاہتی تھی۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، تہران میں ایک اور ملاقات ہو چکی تھی۔ 16 اپریل کو، پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو ناکام ہو گئے۔ ‎ ‎اب ایرانی ذرائع نے اعلان کیا—"مذاکرات کا اگلا دور پیر کو پاکستان میں ہو سکتا ہے" ۔ یہ پیر، 21 اپریل، وہ تاریخ تھی جب دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے والی تھی ۔ یہ آخری موقع تھا، آخری سانس، آخری امید۔ ‎ ‎امریکی عہدیدا...

پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات

Image
 پاکستان جوہری 'بریک تھرو' پر کام کر رہا ہے جیسا کہ سی ڈی ایف منیر کی ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر غالب سے ملاقات  ‎16 اپریل 2026 کی صبح، تہران کے سرکاری محل میں دو ہاتھ ملے—ایک طرف پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر، دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ۔ یہ وہی قالیباف تھے جنہوں نے چند دن قبل اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات کی قیادت کی، جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ناکام ہو گئے ۔ ‎ ‎یہ ملاقات صرف ایک پروٹوکول کا تبادلہ نہیں تھا، یہ "بریک تھرو" کی تلاش تھی—ایسا شگاف اندھیرے میں جو روشنی کی امید دے سکے ۔ پاکستان، جو خود ایٹمی طاقت ہے، جانتا تھا کہ جوہری معاملات میں "اعتماد" سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ اور یہی اعتماد تعمیر کرنے کے لیے منیر تہران آئے تھے۔ ‎ ‎قالیباف کے چہرے پر 21 گھنٹے کی ناکام مذاکرات کی تھکن تھی۔ وینس نے کہا تھا—"ہم ایک معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ ایران کے لیے برا خبر ہے" ۔ لیکن قالیباف نے جواب دیا تھا—"اگر وہ میدان میں جو کچھ حاصل نہیں کر سکے، اسے مذاکرات میں حاصل کرنے کی کو...

پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔

Image
 پاکستان نے سعودی عرب میں وزیراعظم، تہران میں سی ڈی ایف کے ساتھ شٹل ڈپلومیسی کو تیز کیا۔ ‎15 اپریل 2026 کی صبح، اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خصوصی طیارہ اڑان بھرنے کو تیار تھا۔ اس میں بیٹھے تھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، اپنے ہمراہ پوری قوم کی امیدیں لے کر۔ ان کا پہلا پڑاؤ ریاض تھا، جہاں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان منتظر تھے ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک دورہ نہیں تھا، یہ "شٹل ڈپلومیسی" کا ایک اہم مرحلہ تھا—ایسا رقص سفارت کاری کا جو ایک دارالحکومت سے دوسرے میں، ایک ملک کے درد کو دوسرے کے کانوں تک پہنچاتا ہے۔ شہباز شریف کا مشن واضح تھا—امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنا، خطے کو جنگ کی آگ سے بچانا ۔ ‎ ‎لیکن اس سے پہلے، ایک اور کردار ادا ہو چکا تھا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، پہلے ہی "شٹل کمیونیکیشن" کا سلسلہ شروع کر چکے تھے ۔ وہ سعودی عرب میں تھے جب جنگ شروع ہوئی، اور فوری طور پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ ‎ ‎ڈار نے عراقچی سے کہا—"ہمارا سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاع کا معاہدہ ہے" ۔ عراقچی نے جواب دیا—...

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی سے جنگ بندی کا خطرہ ہے۔

Image
 ‎16 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج خلیج فارس کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک آواز بھی گونجی—ایران کی چेतावنی۔ میجر جنرل علی عبداللہی، ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر، نے اعلان کیا—"اگر جارحانہ اور دہشت گرد امریکا خطے میں بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے، تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی پیش درآمد ہوگی، اور ایران کی طاقتور مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی درآمد و برآمد جاری نہیں ہونے دیں گی" ۔ ‎ ‎یہ صرف ایک بیان نہیں تھا، یہ ایک قوم کی آخری سانس تھی جو کہہ رہی تھی—"اب اور نہیں"۔ چار ہفتوں کی بمباری، ہزاروں شہید، تباہ حال شہر، اور پھر ایک عارضی جنگ بندی جو 22 اپریل تک تھی۔ اس کے درمیان امریکی ناکہ بندی نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا تھا ۔ ‎ ‎ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ "ختم ہونے کے قریب" ہے ۔ لیکن کیا واقعی؟ جب ایک طرف "امن" کے دعوے ہو رہے ہوں، دوسری طرف ناکہ بندی کی تلوار لہرا رہی ہو، تو یہ "امن" تھا یا "غاصبانہ قبضہ"؟ ‎ ‎عبداللہی کے الفاظ میں وہی پرانی ایرانی استقامت تھی جو کہتی...

ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔

Image
 ہرمز کی امریکی ناکہ بندی نے جنگ بندی کا امتحان لیا ہے۔   ہرمز کی ناکہ بندی: جنگ بندی کا امتحان  ایک انسانی داستان امید، خوف اور سفارت کاری کی ناکامی کی ‎14 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج ہرمز آبادی کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ یہ وہ ناکہ بندی تھی جو اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد لگائی گئی تھی، اور یہ جنگ بندی کا سب سے سخت امتحان تھا ۔ ‎ ‎ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔ لیکن اس بار یہ مختلف تھا—یہ ناکہ بندی ایک عارضی جنگ بندی کے دوران لگائی گئی تھی، جو 8 اپریل سے شروع ہوئی تھی اور 22 اپریل تک جاری تھی ۔ ‎ ‎یہ امتحان تھا کہ آیا دو دشمن ایک دوسرے پر اعتماد کر سکتے ہیں؟ آیا لفظوں کی جگہ عمل لے سکتا ہے؟ لیکن 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ "ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا"، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان ہوا ۔ ‎ ‎...

امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

Image
 امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت نافذ العمل ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے ایران سے جوہری پروگرام ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔  آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: جب مذاکرات کی کشتی ڈوبی  ایک انسانی داستان اقتدار کی لالچ اور عوام کے زخموں کی ‎13 اپریل 2026 کی صبح، جب سورج آبنائے ہرمز کے نیلے پانیوں پر چمکا، تو اس کے ساتھ ہی ایک سایہ بھی پھیلا—امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں کا سایہ۔ ٹرمپ کا اعلان ہوا تھا کہ "فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل یا خارج ہونے والے ہر جہاز کی ناکہ بندی شروع کرے گی" ۔ ‎ ‎یہ وہی آبنائے تھا جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا تھا، جہاں سے یورپ کی factories چلتی تھیں، جہاں سے ایشیا کی ترقی کی سانسیں آتی تھیں۔ آج وہیں پر امریکی بحریہ کی طلوار لہرا رہی تھی، اور ایران کے بندرگاہوں میں کھڑے جہازوں پر تالے لگنے لگے تھے ۔ ‎ ‎اسلام آباد میں 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ اختتام تھا جو کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 21 گھنٹے تک ایرانی وفد سے بات چیت کی، لیکن جب صبح ہوئی، تو معاہدے کی جگہ ناکہ بندی کا اعلان تھا ۔ وینس نے کہا—"ایران...