Posts

ویڈن کے سکول میں تلوار کے حملے میں جاں بحق ہونے والی 17 سالہ طالبہ کی شناخت ظاہر

Image
 سویڈن کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وسطی سویڈن کے شہر فاگرستا میں ایک ہائی سکول پر ہونے والے مہلک تلوار کے حملے میں جان سے جانے والی طالبہ کی عمر محض 17 برس تھی۔ ہفتے کے روز جاری بیان میں پولیس نے کہا "اس واقعے میں جان سے جانے والی ایک 17 سالہ لڑکی تھی، اس کے خاندان کو مطلع کر دیا گیا ہے۔" تاہم مزید تفصیلات جاری کرنے سے گریز کیا گیا۔ ‎ ‎واقعہ کیسے پیش آیا ‎ ‎یہ واقعہ جمعے کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب سٹاک ہوم سے شمال مغرب میں واقع برنیل ہائی سکول میں کلاسیں جاری تھیں۔ 18 سالہ حملہ آور نے سکول پر تلوار سے حملہ کیا، جہاں تقریباً چار سے پانچ سو طلبہ زیرِ تعلیم تھے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ ویسٹمن لینڈ کاؤنٹی حکام کے مطابق شدید زخمی ہونے والے دو لڑکوں کی عمریں 12 اور 17 برس تھیں، جبکہ ایک تیسرا نوجوان معمولی زخموں کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ ‎ ‎پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو سکول میں کارروائی کے دوران گولی مار کر گرفتار کر لیا گیا، اگرچہ فائرنگ کے باوجود وہ زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے واضح کیا کہ اس بات...

کینیڈا امریکہ تجارتی جنگ

Image
 کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو دنیا کے مضبوط ترین تجارتی اور معاشی رشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک برسوں سے ایک دوسرے کے بڑے تجارتی شراکت دار رہے ہیں، سرحد کے دونوں جانب صنعتیں ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں اور لاکھوں افراد کی روزی روٹی اس تجارت سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن جب یہی تعلقات ٹیرف، پابندیوں اور جوابی اقدامات کی زد میں آنے لگیں تو صورتحال محض تجارتی اختلاف نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسی کشمکش بن جاتی ہے جس کے اثرات پوری معیشت پر محسوس ہوتے ہیں۔ ‎ ‎سابق گورنر بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ مارک کارنی کی جانب سے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازع کو "جنگ" قرار دینا اسی بدلتی ہوئی صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے الفاظ اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ تجارتی پالیسی اب صرف اعداد و شمار اور معاہدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی مفادات، سیاسی دباؤ اور معاشی خودمختاری کا معاملہ بھی بن چکی ہے۔ ‎ ‎اس تنازع کا سب سے اہم پہلو ٹیرف کا استعمال ہے۔ جب ایک ملک دوسرے ملک سے آنے والی مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کرتا ہے تو بظاہر مقصد اپنی مقامی صنعتوں کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ ...

پوٹن کا یوکرین کو انتباہ: "پنڈورا باکس" کھلنے کے بعد کیا ہوگا؟

Image
 روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک بار پھر یوکرین کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ کیف کی حکومت نے روس کی معاشی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک ایسا "پنڈورا باکس" کھول دیا ہے جس کے نتائج اب یوکرین کو خود بھگتنا ہوں گے۔ روسی ریاستی ٹیلی ویژن کے صحافی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پوٹن کا کہنا تھا "کیف حکومت نے ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اس نے کیا کِیا؟ اس نے خود ہی یہ پنڈورا باکس کھول دیا۔ اب اپنے حساس ترین معاشی شعبوں کے خلاف جوابی کارروائی کی توقع رکھیں۔" ‎ ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین-روس جنگ اپنے ساڑھے چار سال مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ‎ ‎یوکرین کے حملوں کا پس منظر ‎ ‎گزشتہ چند ماہ کے دوران یوکرین نے روس کے تیل صاف کرنے کے کارخانوں اور بڑی آن لائن کمپنیوں کے گوداموں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کی مہم میں نمایاں تیزی لائی ہے۔ یوکرینی افواج نے روس بھر میں وائلڈبیریز کے گوداموں پر حملے کیے، جن میں ماسکو کے قریب ایک بڑا گودام بھی شامل ہے جہاں شدید آتش...

ترکی نے نیتن یاہو پر 'نسل کشی' کا الزام عائد کیا، اسرائیلی وزیراعظم کا ردعمل

Image
 ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ایک بار پھر شدید کشیدگی کی زد میں ہیں۔ برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اختلافات، خاص طور پر فلسطین اور غزہ کے مسئلے پر، اب ایسی سطح تک پہنچ چکے ہیں جہاں سفارتی زبان بھی اکثر تلخ اور جارحانہ محسوس ہوتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید نے اس تنازعے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ‎ ‎اردوان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت اور بنیادی انسانی ضروریات تک رسائی میں رکاوٹ انتہائی سنگین انسانی مسئلہ ہے۔ ترکی نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ انقرہ کا کہنا ہے کہ بچوں، خواتین اور دیگر شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہی اور انسانی بحران کو محض سکیورٹی کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ ‎ ‎ترکی کا یہ موقف صرف بیانات تک محدود نہیں رہا۔ انقرہ نے اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بھی سخت اقدامات کیے اور بین الاقوامی اداروں میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز ...

یوکرین جنگ کی تازہ ترین صورتحال: روسی آئل ریفائنریز پر کیف کے حملے

Image
 روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ اس جنگ نے ایک ایسے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے جہاں ڈرون، میزائل، توانائی کے مراکز اور معاشی دباؤ بھی اتنے ہی اہم ہو چکے ہیں جتنے ٹینک اور توپیں۔ حالیہ عرصے میں یوکرین نے روس کے اندر موجود آئل ریفائنریز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اپنی جنگی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیف کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ روس کی جنگی مشین کو اس کے معاشی اور لاجسٹک مرکز پر ضرب لگائی جائے۔ ‎ ‎حالیہ حملوں میں روس کے مختلف علاقوں میں واقع اہم آئل تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سامارا کے علاقے میں نووکوئی بائیشیوسک ریفائنری اور پرم کے علاقے میں واقع آئل ریفائنری بھی ان حملوں سے متاثر ہونے والی تنصیبات میں شامل بتائی جاتی ہیں۔ حملوں کے بعد بعض مقامات پر آگ بھڑکنے اور صنعتی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ‎ ‎یہ حملے اس لیے بھی اہم ہیں کہ یہ تنصیبات یوکرین کی سرحد سے کافی فاصلے پر واقع ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین طویل فاصلے تک پہنچنے والے ڈرونز کے ذریعے ر...

شمالی کوریا اور روس کی بڑھتی قربت: کیا دنیا ایک نئی خطرناک صف بندی کی طرف بڑھ رہی ہے؟

Image
 دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔ یوکرین کی جنگ، امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے بین الاقوامی نظام کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں شمالی کوریا اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ‎ ‎شمالی کوریا طویل عرصے سے عالمی سطح پر تنہائی اور سخت پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے۔ دوسری جانب روس، یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے قریب آنا محض اتفاق نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔ ‎ ‎شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بڑھتے روابط نے اس شراکت داری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ دفاعی اور اقتصادی تعاون بھی اہم حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ روس کو ایسے وقت میں ایک ایسے شراکت دار کی ضرورت ہے جو مغربی دباؤ سے ز...

ایران کے ہائپر سونک میزائل اتنے مہلک کیوں ہیں؟

Image
 ایران کے ہائپر سونک میزائل، خصوصاً فتاح سیریز، گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی دفاعی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ایران ان میزائلوں کو اپنی جدید دفاعی صلاحیتوں کی علامت قرار دیتا ہے، جبکہ مخالف ممالک اور دفاعی ماہرین اس ٹیکنالوجی کو ایک ایسے چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے مقابلے کے لیے موجودہ میزائل ڈیفنس نظاموں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ‎ ‎لیکن آخر ہائپر سونک میزائل میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اسے عام میزائلوں سے مختلف بناتی ہے؟ اس کا جواب صرف رفتار میں نہیں، بلکہ رفتار، پرواز کے انداز اور ممکنہ طور پر راستہ تبدیل کرنے کی صلاحیت کے مجموعے میں چھپا ہے۔ ‎ ‎رفتار: دفاع کے لیے انتہائی کم وقت ‎ ‎ہائپر سونک میزائل کی بنیادی تعریف ہی اس کی رفتار سے شروع ہوتی ہے۔ عام طور پر Mach 5 یا اس سے زیادہ رفتار سے سفر کرنے والی اشیا کو ہائپر سونک کہا جاتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ فتاح میزائل کی رفتار تقریباً 13 سے 15 ماخ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم ان دعوؤں کے تمام پہلو آزاد ذرائع سے یکساں طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ ‎ ‎اتنی رفتار کا مطلب یہ ہے کہ کسی میزائل کے لانچ ہونے اور ہدف تک پہ...