Posts

Showing posts from January, 2026

دوسرا ٹی ٹوئنٹی آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان 90 رنز سے جیت گیا۔

Image
  دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 90 رنز سے ہرایا، اور یہ جیت صرف اسکور بورڈ پر نہیں بلکہ سوچ اور اعتماد کی فتح بھی تھی، جس کی پاکستانی ٹیم کو کافی عرصے سے ضرورت تھی۔ پہلے میچ کے دباؤ، ٹیم پر ہونے والی تنقید اور شائقین کے سوالات کے باوجود، ٹیم نے خود کو سنبھالا اور سب کو یہ پیغام دے دیا کہ پاکستان ابھی بھی بڑی ٹیموں کو ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ٹاس جیتنے کے بعد بیٹنگ کا فیصلہ ہوا، اور آغاز سے ہی ٹیم نے جارحانہ انداز اختیار کیا۔ اوپنرز نے پاور پلے میں آسٹریلوی بولرز پر دباؤ ڈالا اور یہ ثابت کر دیا کہ پچ پر اچھے شاٹس لگ سکتے ہیں، صرف باؤنس ہی نہیں۔ پہلے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ پاور پلے میں بیٹنگ محتاط ہو جاتی تھی، مگر اس بار سوچ بدل گئی۔ اس مثبت اپروچ نے رنز کا بہاؤ تیز کیا اور آسٹریلوی فیلڈرز کو دفاعی پوزیشن پر لے آیا۔ درمیانی اوورز میں، بیٹسمینوں نے غیر ضروری رسک لینے کے بجائے اسٹرائیک روٹیشن پر فوکس رکھا۔ اس سے آسٹریلیا پر دباؤ بڑھتا گیا، وقفے وقفے سے باؤنڈریز بھی آتی رہیں اور اسکورنگ کی رفتار کم نہ ہوئی۔ یہیں سے میچ پاکستان کے حق میں جاتا دکھائی دینے لگا۔ آخری اوورز م...

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا

Image
 پاکستان نے 22 رنز سے جو میچ جیتا، وہ صرف ایک نمبر نہیں۔ اس کے پیچھے کئی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں—عزم، ٹیم ورک، اور وہی پرانی پاکستانی کرکٹ والی لڑائی جو ہر مشکل وقت میں سامنے آتی ہے۔ یہ وہ جیت ہے جو آسان نہیں تھی۔ ٹیم پر دباؤ تھا، لوگ بے چین تھے، اور ناقدین ہر طرف سوالات لیے کھڑے تھے۔ ایسے میں جیتنا صرف پوائنٹس کا معاملہ نہیں رہتا، یہ ٹیم کا اعتماد واپس لاتا ہے، سب کو ایک نیا حوصلہ دیتا ہے، اور مستقبل کے لیے ایک امید جگا دیتا ہے۔ میچ کے شروع ہوتے ہی پاکستان نے صاف بتا دیا کہ آج وہ صرف جیتنے نہیں، کھیلنے آئے ہیں۔ بیٹنگ میں ذمہ داری تھی، توازن تھا۔ اوپنرز نے اچھی بنیاد بنائی، مڈل آرڈر نے رفتار پکڑی، اور آخر میں اسکور کو وہاں تک لے گئے جہاں سے دفاع ممکن تھا۔ 22 رنز شاید سننے میں کم لگیں، لیکن اصل میں یہی فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیم نے ہر لمحے کو سنجیدگی سے کھیلا۔ ہر اوور، ہر رن، ہر فیصلہ—سب میں پلاننگ نظر آئی۔ بولنگ میں تو کہانی مزید دلچسپ ہے۔ جب ہدف کم ہو اور مخالف ٹیم حملہ آور ہو، وہاں بولرز کا امتحان ہوتا ہے۔ پاکستانی فاسٹ بولرز نے لائن اور لینتھ پر کنٹرول رکھا، سوئنگ اور سیم کا کما...

ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ خلیج میں امریکی فوج کی تشکیل کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے 'وقت ختم ہو رہا ہے'

Image
 یہ کہنا کہ "ایران کے لیے جوہری معاہدے کا وقت ختم ہو رہا ہے" بس ایک سفارتی انتباہ نہیں، اس میں طاقت کا بھی پیغام ہے، دباؤ ہے، اور خطے میں بدلتے رشتوں کا عندیہ بھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب خلیج میں امریکی فوج کی نئی تعیناتی کے ساتھ یہ وارننگ دیتے ہیں تو پس منظر یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی، خوف اور بے اعتمادی میں لپٹا ہوا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کیا کہنا چاہتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ امریکہ، ایران اور پورا خطہ اب کس طرف جا رہا ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ سے "پریشر کے ذریعے ڈیل" کے اصول پر چلتی آئی ہے۔ ان کے نزدیک مذاکرات تبھی کامیاب ہوتے ہیں، جب سامنے والے کو یہ یقین ہو جائے کہ انکار کی قیمت بہت بھاری ہے۔ یہی حکمت عملی وہ ایران کے معاملے میں بھی آزما رہے ہیں۔ امریکی جنگی جہاز، جدید طیارے اور دفاعی سسٹم خلیج میں کھڑے ہو کر تہران کو یہ بتا رہے ہیں کہ واشنگٹن مذاکرات کے ساتھ ساتھ طاقت کا آپشن بھی رکھتا ہے۔ یہ وارننگ ایران کے لیے معمولی نہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، اندرونی مسائل اور عوامی بے چینی سے گزر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل بار بار کہتا ہے کہ وہ ایران کو ...

عون کی تنگی: روزانہ اسرائیلی حملے اور حزب اللہ کا غیر مسلح کرنے سے انکار

Image
 لبنان کے صدر میشل عون ایک بار پھر دباؤ میں ہیں، اور اس بار معاملہ صرف سیاست کا نہیں، ہر طرف سے مشکلیں بڑھ چکی ہیں۔ جنوبی لبنان میں روزانہ اسرائیلی حملے ہو رہے ہیں۔ فضائی اور زمینی دونوں طرف سے، اور صاف لگ رہا ہے کہ ملک کی خودمختاری داؤ پر ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کی مزاحمت ہے، اور یہ بات ریاست کے اختیار اور قومی سلامتی کے بیانیے کو کمزور کرتی جا رہی ہے۔ عون کے لیے اب یہ چیلنج صرف حکومت چلانے کا نہیں رہا بلکہ پورے لبنان کے مستقبل کا سوال بن گیا ہے۔ اسرائیلی حملوں نے لبنان کو ایک “کم شدت جنگ” کے حالات میں دھکیل دیا ہے۔ سرحدوں پر روز بمباری ہوتی ہے، ڈرونز آتے ہیں، توپیں چلتی ہیں۔ انفراسٹرکچر برباد ہو رہا ہے، اور لوگوں میں خوف بیٹھ گیا ہے۔ اسرائیل ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ وہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف دفاع کر رہا ہے، مگر اصل میں اس سب کا بوجھ لبنانی ریاست اور اس کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔ صدر عون کے لیے بھی مشکل یہ ہے کہ لبنانی فوج، جو کاغذ پر واحد قانونی طاقت ہے، کھل کر اسرائیل کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں۔ حزب اللہ اب ریاست کے اندر ایک...

ایران نے ہرمز کی مشقوں پر فضائی انتباہ جاری کیا ہے کیونکہ امریکہ نے فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

Image
 ایران نے جب آبنائے ہرمز میں مشقوں کے دوران فضائی انتباہ جاری کیا اور امریکہ نے اسی وقت اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا، تو خطے کی کشیدہ فضا میں ایک اور سنجیدہ موڑ آ گیا۔ یہ صرف خلیجی ممالک کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے تشویش کی بات ہے۔ اس سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتیں اور سفارتی توازن سب کچھ متاثر ہو سکتا ہے۔ ‎ ‎آبنائے ہرمز ویسے بھی دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے۔ یہاں سے ایک تہائی عالمی تیل گزرتا ہے۔ ایران نے اس حساس علاقے میں فوجی مشقیں کرکے اور فضائی انتباہ دے کر سیدھا پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا جواب دینا جانتا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ نے مزید بحری جہاز، لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام لا کر بتا دیا ہے کہ وہ ایران کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ‎ ‎اصل میں یہ طاقت کی نمائش کی ایک خطرناک دوڑ ہے۔ ایران کھل کر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا خودمختاری کو چیلنج کیا گیا، تو وہ آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ بنانے یا بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قسم کی دھمکیاں ایران پہلے بھی دیتا آیا ہے، لیکن اس بار بات زبانی بیانات سے آگے بڑھ چکی ہے۔ ...

ٹرمپ ڈالر کے تبصرے امدادی ریلی کے طور پر سونا 5,280 ڈالر سے اوپر کا ریکارڈ ہے۔

Image
 عالمی منڈیوں میں ہلچل پیدا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈالر سے متعلق جو تازہ تبصرہ کیا، اس نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔ پہلے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل تھا، کرنسیوں کی سمت غیر واضح تھی، اور لوگ محفوظ اثاثوں کی طرف لپک رہے تھے۔ ایسے میں ٹرمپ کی بات نے سونے کو ایک نئی رفتار دی، اور اس کی قیمت پہلی بار 5,280 ڈالر فی اونس سے بھی اوپر چلی گئی۔ یہ صرف قیمت کا اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ عالمی معیشت کی نبض پر ایک واضح دباؤ کی علامت ہے۔ ‎ ‎ٹرمپ ہمیشہ سے روایتی سیاست دانوں سے ہٹ کر بات کرتے آئے ہیں۔ کبھی وہ ڈالر کی طاقت کو امریکی برآمدات کے لیے مسئلہ بتاتے ہیں، کبھی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے اشارہ دیا کہ ڈالر کی موجودہ صورت حال خود امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ سوچ نئی نہیں، لیکن اس وقت دنیا پہلے ہی غیر یقینی میں پھنسی ہوئی ہے: جغرافیائی کشیدگیاں، قرض کا بوجھ، مہنگائی کا خوف، اور مرکزی بینکوں کی سختیاں۔ ایسے میں ٹرمپ کا بیان جلتی پر تیل کا کام کر گیا۔ ‎ ‎سونا ہمیشہ بحران میں لوگوں کی پناہ گاہ رہا ہے۔ جب کرنسیوں پر اعتبار کمزور پڑتا ہے تو لوگ سو...

ہندوستان اور یورپی یونین نے تاریخی تجارتی معاہدے کا اعلان کیا۔

Image
 ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان اس تجارتی معاہدے کا اعلان آتے ہی عالمی معیشت پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بظاہر تو یہ معاہدہ دونوں بڑی منڈیوں میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، اور اسٹریٹجک تعلق مضبوط کرنے کی کوشش لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں۔ اس میں جغرافیائی سیاست، سفارت اور ترقی پذیر ممالک کے لیے نئے چیلنجز بھی شامل ہیں۔ ‎ ‎یورپی یونین کافی عرصے سے چین پر اپنی معاشی انحصار کم کرنے کی راہ دیکھ رہی تھی۔ ایسے میں ہندوستان قدرتی طور پر ایک نیا پارٹنر بن کر سامنے آیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی، تیز رفتار معیشت اور وسیع منڈی—یہ سب ہندوستان کو یورپی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔ دوسری طرف، یہ معاہدہ ہندوستان کو یورپ تک بہتر رسائی، جدید ٹیکنالوجی اور اپنی برآمدات بڑھانے کا موقع دیتا ہے۔ ‎ ‎یہ معاہدہ صرف ٹیرف میں کمی تک محدود نہیں۔ اس میں سپلائی چین، ڈیجیٹل تجارت، گرین ٹیکنالوجی، لیبر اسٹینڈرڈز اور ماحولیات جیسے اہم اور حساس موضوعات بھی شامل ہیں۔ یورپی یونین کے ہاں ہمیشہ یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنے معاہدوں میں انسانی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کو لازمی...

چین کے اعلیٰ ترین جنرل پر امریکہ کو جوہری راز دینے کا الزام: عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی

Image
 چین کے اعلیٰ ترین جنرل پر امریکہ کو جوہری راز دینے کا الزام: عالمی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی چین کے عسکری اور سیاسی حلقوں میں حالیہ دنوں گردش کرنے والے اس الزام نے کہ پیپلز لبریشن آرمی کے ایک اعلیٰ ترین جنرل نے امریکہ کو حساس جوہری معلومات فراہم کیں، نہ صرف بیجنگ بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ یہ الزام ابھی تک سرکاری سطح پر ثابت نہیں ہوا، مگر اس کی نوعیت اور وقت ایسا ہے کہ اسے محض افواہ کہہ کر نظرانداز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ معاملہ چین کی داخلی سلامتی، چین-امریکہ تعلقات اور عالمی جوہری توازن تینوں کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ چین ایک ایسی ریاست ہے جہاں عسکری رازوں کو ریاستی بقا سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ جوہری پروگرام تو خاص طور پر وہ شعبہ ہے جسے بیجنگ نے ہمیشہ انتہائی رازداری میں رکھا۔ ایسے میں اگر واقعی کسی اعلیٰ جنرل نے دشمن سمجھی جانے والی طاقت کو جوہری معلومات فراہم کیں، تو یہ چین کی تاریخ کی سب سے سنگین غداریوں میں شمار ہو گی۔ اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا چین کا سخت کنٹرول اور وفاداری پر مبنی عسکری ڈھانچہ واقعی اتنا مضبوط ہے جتنا اسے ظاہر کیا جات...

ٹرمپ کی خبریں ایک نظر میں: ہفتوں میں وفاقی ایجنٹوں کے ذریعے دوسری مہلک شوٹنگ—غصے کی نئی بنیاد

Image
 امریکہ ان دنوں پھر ایک عجیب ہلچل میں ہے۔ پچھلے کچھ ہفتوں میں، وفاقی ایجنٹوں کے ہاتھوں دوسری جان لیوا فائرنگ نے ملک میں غصہ بھر دیا ہے۔ اب بات صرف عوامی ردعمل تک نہیں رکی، بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی اس نئے بحران کے ساتھ پھر سے سرخیوں میں آگیا ہے۔ یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب امریکہ پہلے ہی نسلی امتیاز، پولیس کے تشدد، ریاستی طاقت کے غلط استعمال، اور سخت سیاسی تقسیم جیسے مسائل سے الجھا ہوا ہے۔ میرے خیال میں، یہ واقعہ صرف ایک اور شوٹنگ نہیں۔ اصل میں یہ ریاست اور شہری کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری کی نشانی بن چکا ہے۔ لوگ اب کھل کر پوچھ رہے ہیں کہ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعی ان کی حفاظت کے لیے ہیں، یا پھر طاقت ایک سیاسی ہتھیار بنتی جارہی ہے؟ وفاقی ایجنٹوں کی طاقت، ان کی تعیناتی اور ان کے اختیارات پر پھر سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ٹرمپ کا کردار یہاں بہت نمایاں ہے۔ ان کی صدارت میں “قانون اور نظم” کا نعرہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے مظاہروں کو “انتشار” کہا، اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ ناقدین تو اب بھی کہتے ہیں کہ یہ سوچ امریکی اداروں پر چھائی ...

امریکی آرماڈا، ایرانی بحران اور پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ

Image
 ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یہ دعویٰ کیا کہ امریکی آرماڈا مشرق وسطیٰ کا رخ کر رہا ہے، اس وقت ایران میں مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ چکی تھی۔ یہ محض ایک سابق صدر کی سیاسی للکار نہیں تھی، بلکہ دنیا کی ایک ایسی تصویر سامنے آئی جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ایران میں انسانی بحران اور ساتھ ساتھ فوجی طاقت کا اشارہ پھر سے مشرق وسطیٰ کو غیر یقینی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ سب کچھ نیا نہیں ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے—ہماری سرحدیں جڑی ہیں، برسوں پرانی تاریخ، مذہب، اور معیشت کے رشتے ہیں۔ ایران میں عدم استحکام صرف وہاں کا مسئلہ نہیں بنتا۔ اس کے اثرات ہماری سرحدی سیکیورٹی، مہاجرین کے دباؤ، فرقہ واریت اور پورے خطے کے توازن پر پڑتے ہیں۔ اس لئے ہم اس ساری عسکری ہلچل کو بس دور بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ ایران میں احتجاج اور ریاستی ردعمل اب کھلا انسانی بحران بن چکے ہیں۔ سینکڑوں نہیں، ہزاروں لوگ جان سے گئے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ دنیا چپ نہ بیٹھے، بلکہ ذمہ داری اٹھائے۔ پاکستان کی نظر میں، اس مسئلے کا حل نہ تو فوجی دباؤ میں ہے اور نہ ہی کسی جنگی بیڑے میں۔ اصل راستہ سیاست اور سفارت ک...

ٹرمپ نے ڈیووس میں دستخطی تقریب کے ساتھ 'بورڈ آف پیس' کا آغاز کیا۔

Image
 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران اپنے متنازع اور پُرامید منصوبے ’بورڈ آف پیس‘ کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں دنیا بھر سے رہنما، سفارت کار، کاروباری شخصیات اور میڈیا کے لوگ جمع تھے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر صاف کہا کہ دنیا کو اب “طاقت کے توازن کے بجائے امن کے توازن” کی ضرورت ہے، اور یہی اس نئے پلیٹ فارم کا مقصد ہے۔ سب کچھ سادگی سے ہوا، لیکن ماحول میں سیاست کا رنگ واضح تھا۔ اسٹیج پر ایک لمبی میز رکھی تھی جس پر ’بورڈ آف پیس‘ کی دستاویز پڑی تھی۔ ٹرمپ نے دستخط سے پہلے مختصر خطاب میں کہا، “یہ روایتی سفارتی فورم نہیں ہوگا۔ یہاں باتیں کم، فیصلے زیادہ ہوں گے۔” ان کے مطابق، دنیا کے کئی فورمز محض بحث و مباحثے تک محدود رہ گئے اور مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس بورڈ کا مقصد عملی نتائج ہے۔ ’بورڈ آف پیس‘ کا اصل ہدف دنیا کے بڑے اور پرانے تنازعات پر غیر رسمی اور بااثر سفارتی رابطے بنانا ہے۔ خاص طور پر غزہ، یوکرین، ایران-امریکہ کشیدگی اور کوریا جیسے موضوعات زیرغور آئیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس فورم میں آنے والے لوگ اپنے ملکوں کے نمائندے نہیں بلکہ “امن کے نمائ...

امریکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ ‎امریکہ اور WHO: اصل کہانی کیا ہے؟

Image
 22 جنوری 2026 کو امریکہ نے باقاعدہ طور پر WHO کی رکنیت چھوڑ دی۔ اصل میں یہ عمل اس دن شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی دن ایک ایگزیکٹو آرڈر (14155) پر دستخط کیے اور امریکہ کے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ ‎ ‎اس آرڈر میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ WHO نے COVID-19 اور دوسری صحت کی ایمرجنسیز میں بری کارکردگی دکھائی، ضروری اصلاحات نہیں کیں، اور خودمختار رہنے میں ناکام رہا۔ امریکی حکومت نے یہ بھی الزام لگایا کہ WHO پر عالمی سیاسی دباؤ زیادہ حاوی ہو گیا ہے۔ ‎ ‎اس فیصلے کے بعد امریکہ نے: ‎ ‎- WHO کو مزید فنڈز دینے بند کر دیے۔ ‎- اپنا عملہ اور کنٹریکٹرز واپس بلا لیے۔ ‎- اور ادارے کے ساتھ تمام عالمی صحت معاہدوں پر بات چیت روک دی۔ ‎ ‎📜 قانونی تقاضے اور نوٹس کا کھیل ‎ ‎WHO کے آئین میں صاف لکھا ہے کہ کوئی ملک ایک سال پہلے نوٹس دے کر ہی رکنیت چھوڑ سکتا ہے۔ امریکہ نے یہ نوٹس 22 جنوری 2025 کو دیا، اس لیے 22 جنوری 2026 کو اس کا اثر ہوا۔ ‎ ‎لیکن کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو WHO میں شمولیت کا اختیار صرف ایگزیکٹو آرڈر سے نہیں ملا تھا، بلکہ کانگریس کے قانون سے ملا تھا۔ اس لیے شاید مکم...

پوٹن کے خدشات پر برطانیہ نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت روک دی۔

Image
 برطانیہ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی تشویش کو سنجیدگی سے لیا اور اسی بنا پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کچھ لوگ اسے محتاط سفارت کاری سمجھتے ہیں، کچھ اسے مغربی اتحاد میں دراڑ کی علامت کہہ رہے ہیں۔ ‎ ‎برطانوی دفتر خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ لندن کو اس پلیٹ فارم کی غیر جانبداری اور مؤثریت پر واضح خدشات تھے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین کی جنگ اور نیٹو-روس تناؤ عروج پر ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم نے روسی قیادت اور خاص طور پر صدر پوٹن کے خدشات کو غور سے دیکھا۔ موجودہ حالات میں کسی ایسے فورم میں شامل ہونا جو غلط فہمیوں کو بڑھا سکتا ہو، برطانیہ کے مفاد میں نہیں۔" ‎ ‎ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ عالمی تنازعات، خاص طور پر غزہ، یوکرین اور ایران میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک غیر رسمی ’بورڈ آف پیس‘ بنانا چاہتے ہیں، جس میں سابق اور موجودہ عالمی رہنما، سفارت کار اور پالیسی ساز شامل ہوں گے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ روایتی سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے، اور اب ...

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ پر ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہوگا۔

Image
 پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بنائی گئی "بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، یہ فیصلہ غزہ میں پائیدار امن، جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت میں کیا گیا۔  ‎ ‎دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے یہ دعوت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت میں قبول کی ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس فورم کے ذریعے جنگ بندی، فلسطینیوں کے لیے مزید امداد اور غزہ کی تعمیر نو جیسے اقدامات حقیقت بنیں۔ ‎ ‎بیان میں پاکستان کی روایتی پالیسی پر بھی زور دیا گیا ہے — یعنی فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ ریاست 1967ء کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس اس کا دارالحکومت ہو۔ ‎ ‎‘بورڈ آف پیس’ ہے کیا؟ ‎ ‎"بورڈ آف پیس" امریکا کا شروع کیا ہوا ایک نیا بین الاقوامی سفارتی پلیٹ فارم ہے۔ اس کا مقصد غزہ کے مسئلے کا حل تلاش کرنا اور خطے میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ مختلف عالمی ذرائع کے مطابق، یہ بورڈ غزہ میں دیرپا امن، کشیدگی...

اسرائیل نیتن یاہو سابقہ اعتراضات کے باوجود ٹرمپ کے 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہوں گے۔

Image
 اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے، جو پہلے کافی سخت اعتراضات کرتے رہے، اب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کافی نازک ہے، غزہ میں جنگ کے اثرات ہر طرف پھیل چکے ہیں، اور امریکہ، یورپ، بلکہ خود خطے کے ممالک بھی کسی نئے سفارتی راستے کی تلاش میں ہیں۔ اب یہ ’بورڈ آف پیس‘ آخر ہے کیا؟ ٹرمپ اس فورم کو ایک غیر رسمی مگر اثرانداز مشاورتی پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عالمی تنازعات—خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں—جنگ بندی، سیاسی ڈائیلاگ اور علاقائی استحکام کے لیے ٹھوس تجاویز سامنے آئیں۔ اس بورڈ میں سابق اور موجودہ عالمی رہنما، سفارت کار، سیکیورٹی ماہرین اور کاروباری شخصیات کو مدعو کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ خود اسے اپنی خارجہ پالیسی کی میراث اور اگلے سیاسی سفر کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ نیتن یاہو نے شروع میں اس فورم پر کافی اعتراضات کیے۔ ان کے خیال میں بورڈ کے پاس کوئی ادارہ جاتی حیثیت نہیں، اس لیے اس کے فیصلوں کی ساکھ مشکوک ہو سکتی ہے۔ پھر سیکیورٹی کا معاملہ—اسرائیل کے ...

سٹارمر نے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس سے کنارہ کشی اختیار کر لی کیونکہ امریکہ اور برطانیہ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

Image
  برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ “بورڈ آف پیس” سے ہاتھ کھینچ کر واشنگٹن اور لندن کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی تلخی پر ایک صاف پیغام دے دیا ہے۔ اس فیصلے میں صرف برطانیہ کی خارجہ پالیسی کی جھلک نہیں ملتی، بلکہ یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات پھر سے آزمائش میں ہیں۔ سٹارمر کا یہ قدم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں ٹرمپ کی سیاست ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر چھائی ہوئی ہے۔ “بورڈ آف پیس” کو ٹرمپ نے دنیا میں تنازعات کے حل اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم بتایا تھا، لیکن ناقدین کو یہ زیادہ تر ان کی اپنی سوچ اور یکطرفہ فیصلوں کا ایک اور اظہار لگتا ہے۔ اس بورڈ میں انہیں شفافیت اور عالمی اتفاق رائے کی کمی صاف دکھائی دیتی ہے۔ کیئر سٹارمر نے اس منصوبے سے دور رہ کر واضح کر دیا کہ برطانیہ ایسے کسی فورم کا حصہ نہیں بنے گا جو روایتی سفارتی چینلز یا اقوام متحدہ، نیٹو جیسے اتحادوں کو کمزور کرے۔ لندن کے حکام بار بار یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اجتماعی سفارت کاری، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی شمولیت ہی برطانیہ کی ترجیح ہے، اور ٹرمپ کا بورڈ ان اصولوں س...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں کئی مدعو رہنما یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کیسے کام کرے گا۔

Image
 ڈونلڈ ٹرمپ نے جب بورڈ آف پیس بنانے کی تجویز دی تو دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ کچھ لوگ اس خیال کو دلچسپ سمجھتے ہیں، لیکن زیادہ تر اب بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ بورڈ اصل میں کرے گا کیا، اس کے اختیارات کہاں تک ہیں، اور یہ چلے گا کیسے۔ ڈاووس، واشنگٹن اور یورپ کے بڑے شہروں میں جب اس بورڈ میں بلائے گئے لوگ آپس میں ملتے ہیں تو وہ کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ سب کا ایک ہی سوال ہے: یہ بورڈ محض مشورہ دے گا، ثالثی کرے گا، یا پھر امریکہ کی خارجہ پالیسی کا نیا چہرہ بننے جا رہا ہے؟ ایک یورپی سفارت کار نے صاف کہا، ہمیں ابھی تک کچھ پتا نہیں۔ ٹرمپ کے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ بورڈ آف پیس انہی جگہوں پر کام کرے گا جہاں روایتی سفارت کاری ناکام ہو چکی ہے۔ جیسے مشرق وسطیٰ، یوکرین، افریقہ کے کچھ حصے، اور ایشیا پیسفک کے حساس علاقے۔ لیکن ناقدین کو شک ہے کہ ٹرمپ کا یہ بورڈ واقعی غیر جانبدار رہے گا یا پھر امریکی مفادات کو ایک نئے طریقے سے آگے بڑھائے گا۔ یہ خدشہ بے بنیاد بھی نہیں، ٹرمپ کی پچھلی پالیسیاں سامنے رکھیں تو سوال ضرور اٹھتے ہیں۔ بورڈ میں شامل کچھ بڑے نام اب تک کنفیوژ ...

یورپی یونین ٹرمپ کے گرین لینڈ ٹیرف کی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے لیکن ڈیووس میں تنزلی کی امید ہے۔

Image
  یورپی یونین امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ کے حوالے سے ممکنہ ٹیرف کی دھمکیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیاری میں لگی ہوئی ہے۔ پھر بھی، ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم پر اب بھی یورپی رہنما اس امید پر قائم ہیں کہ شاید حالات بہتر ہو جائیں اور تجارتی محاذ آرائی سے بچا جا سکے۔ پچھلے کچھ دنوں میں ٹرمپ نے پھر سخت زبان استعمال کی ہے۔ اُنہوں نے صاف کہا کہ اگر یورپی یونین نے امریکی مفادات کو نظرانداز کیا تو امریکا اضافی ٹیرف لگا دے گا۔ ٹرمپ کے گرین لینڈ کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت پر دیے گئے بیانات نے یورپ میں تشویش پھیلا دی ہے۔ گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، یورپی یونین کے لیے اسٹریٹجک اور معاشی اعتبار سے خاصا حساس ہے۔ یورپی کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونین ہر قسم کے “یکطرفہ اور غیرمنصفانہ” امریکی ٹیرف کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ برسلز کے پاس مکمل جواب دینے کا فریم ورک ہے—چاہے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف لگانے کی بات ہو یا WTO سے رجوع کرنے کی۔ پھر بھی، انہی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کی پہلی ترجیح کشیدگی کو کم ...