220 ارکان پارلیمنٹ نے اسٹارمر سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا

جولائی 2025 میں، برطانیہ میں 220 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ (MPs) نے ایک مشترکہ خط پر دستخط کیے، جس میں اس وقت کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر (Keir Starmer) سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں۔ 

اس مطالبے کی اہم تفصیلات اور پیش رفت یہ ہیں:
وسیع حمایت: یہ خط نو مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے بھیجا گیا، جن میں حکمران لیبر پارٹی کے اراکین کی اکثریت شامل تھی، اور یہ کل برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کے ایک تہائی سے زیادہ کی تعداد بنتی ہے۔
مطالبے کا جواز: خط میں دلیل دی گئی کہ برطانیہ کو، جس کا تاریخی طور پر بالفور اعلامیے اور سابقہ مینڈیٹ پاور کی حیثیت سے فلسطین کے مسئلے میں اہم کردار رہا ہے، فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے دو ریاستی حل کے لیے ایک "طاقتور" پیغام دینا چاہیے۔
اسٹارمر کا ابتدائی مؤقف: جولائی 2025 میں اس خط کے جواب میں، اسٹارمر نے کہا کہ وہ "دو ریاستی حل" پر یقین رکھتے ہیں اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "ایک وسیع تر منصوبے" کا حصہ ہونا چاہیے جس کے تحت دیرپا امن قائم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا "سب سے زیادہ اثر" اس وقت ہونا چاہیے جب یہ امن عمل میں مددگار ثابت ہو، نہ کہ صرف ایک علامتی اقدام ہو۔
حالیہ پیش رفت (ستمبر 2025): اراکینِ پارلیمنٹ اور عالمی دباؤ (فرانس اور دیگر ممالک کی جانب سے) کے بعد، وزیر اعظم اسٹارمر نے ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔
موجودہ حیثیت: برطانیہ اب 150 سے زیادہ ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جسے امن کی امید کو زندہ رکھنے اور دو ریاستی حل کے حصول کی جانب ایک عملی قدم قرار دیا گیا ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا