ٹرپ نے بھارت پر 25% محصولات عائد کر دیے اور روس کے ساتھ روابط پر 'سزا' بھی عائد کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر روس کے ساتھ تجارت، خاص طور پر تیل کی درآمد اور فوجی سامان کی سپلائی کے حوالے سے دباؤ بڑھاتے ہوئے اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ اقدامات یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کو مالی اور فوجی مدد فراہم کرنے والے ممالک کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
1. تیل کی درآمد پر محصولات اور دھمکیاں
ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان 50 دنوں کے اندر امن معاہدہ نہ ہوا تو روس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک (جیسے بھارت، چین، اور برازیل) پر 100% اضافی محصولات عائد کیے جائیں گے . اس سے قبل، نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بھی ان ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ روس کے ساتھ تجارت بند کریں، ورنہ انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا .
بھارت روس سے اپنی تیل کی درآمدات کا 38% حصہ خریدتا ہے، جو یوکرین جنگ سے پہلے صرف 2% تھا۔ روس نے بھارت کو رعایتی نرخوں پر تیل فروخت کیا، جس کی وجہ سے بھارتی ریفائنریز نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا .
2. فوجی تجارت پر پابندیوں کا خطرہ
امریکہ نے بھارتی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ روسی دفاعی صنعت کو سپورٹ کرتی رہیں (مثلاً دھماکہ خیز مواد کی ترسیل)، تو ان پر بھی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں . مثال کے طور پر، بھارتی کمپنی "آئیڈیل ڈیٹونیٹرز" نے روسی کمپنی "ایچ ایم ایکس" کو دھماکہ خیز مواد بھیجا، جس کا استعمال فوجی ہتھیاروں میں ہوتا ہے . امریکہ نے اس کمپنی کو "روس کی جنگی کوششوں کے لیے اہم" قرار دیا ہے۔
3. بھارت کا رد عمل
بھارتی حکومت نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دے گی۔ پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ بھارت کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرتا، لیکن روس سے سستے تیل کی خریداری جاری رکھے گا . وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ فوجی برآمدات کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتا ہے .
4. چین کے مقابلے میں بھارت کی کمزور پوزیشن
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت امریکی دباؤ کے آگے جھک جاتا ہے، تو روس کے ساتھ اس کے دفاعی تعلقات (جیسے ایس-400 میزائل سسٹم) متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف، چین امریکی پابندیوں کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے، جس کی وجہ سے روس کا چین پر انحصار بڑھ رہا ہے .
5.معاشی اثرات
اگر بھارت روس سے تیل کی درآمد کم کر دیتا ہے، تو اسے مہنگے تیل کی خریداری کرنی پڑے گی، جس سے مہنگائی اور تجارتی خسارہ بڑھ سکتا ہے . نیز، امریکی پابندیاں بھارت کی دفاعی صنعت کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جو روسی ہتھیاروں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے .
خلاصہ
ٹرمپ انتظامیہ بھارت پر روس کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن بھارت فی الحال اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے سستے تیل اور دفاعی شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے۔ تاہم، اگر پابندیاں مکمل طور پر نافذ ہو جاتی ہیں، تو بھارت کو سنگین معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Comments