شام کے دروز نے جھڑپوں کے بعد اپنے پیاروں کی تلاش میں سڑکوں پر لاشیں پائی ہیں
شام کے جنوبی صوبے سویدا (Sweida) میں حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں کے بعد، مقامی دروز کمیونٹی کے ارکان نے اپنے لاپتہ پیاروں کی تلاش میں سڑکوں اور گھروں میں خون میں لت پت لاشیں پائی ہیں۔
ان جھڑپوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
تشدد کی نوعیت: دروز رہائشیوں نے ہولناک مناظر بیان کیے ہیں، جن میں لاشیں سڑکوں پر پڑی تھیں اور گھروں کو لوٹ کر آگ لگا دی گئی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، بہت سے متاثرین کو قریب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا، جو کہ اجتماعی ہلاکتوں (field executions) کی نشاندہی کرتا ہے۔
متاثرین: جولائی 2025 میں ہونے والے ان پرتشدد واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں دروز اور بدو قبائل کے جنگجو اور عام شہری شامل تھے۔
جھڑپوں کی وجہ: یہ لڑائی دروز اور سنی مسلم بدو قبائل کے درمیان پرانی رنجشوں اور اغوا کے واقعات کے بعد شروع ہوئی، جو تیزی سے فرقہ وارانہ تشدد میں بدل گئی۔
حکومتی فورسز کا کردار: کچھ رپورٹس کے مطابق، شامی حکومتی فورسز نے، جو امن بحال کرنے کے لیے مداخلت کر رہی تھیں، دروز ملیشیا کے ساتھ جھڑپیں کیں اور بعض صورتوں میں عام شہریوں پر بھی حملے کیے۔
بین الاقوامی تشویش: اقوام متحدہ کے ماہرین نے دروز کمیونٹی پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جن میں ماورائے عدالت قتل، اغوا، اور جنسی تشدد کے الزامات شامل ہیں۔
جنگ بندی کے بعد، دروز کمیونٹی سوگ کی کیفیت میں ہے اور اپنے پیاروں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ بہت سے خاندان اب بھی لاپتہ افراد کی تلاش میں ہیں۔

Comments