شامی رہنما نے فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے اسرائیلی حملوں کے بعد ڈروز کے تحفظ کا عزم کیا
تفصیلات:
صدر کا بیان: احمد الشارع نے جولائی 2025 میں اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ملک کے دروز شہریوں کے حقوق اور تحفظ ان کی "اولین ترجیح" ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شام تقسیم یا فرقہ واریت کا شکار نہیں ہوگا اور وہ دروز کو کسی "بیرونی فریق" کے ہاتھوں میں جانے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔
تشدد کا پس منظر: یہ بیانات جنوبی شام کے صوبہ سویدا (Suwayda) میں دروز جنگجوؤں، بدو قبائل اور شامی سرکاری افواج کے درمیان ہونے والے شدید فرقہ وارانہ تصادم کے بعد سامنے آئے، جس میں 350 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی حملے اور مؤقف: تشدد میں اضافے کے ساتھ ہی اسرائیل نے دمشق میں شامی وزارت دفاع اور صدارتی محل کے قریب فضائی حملے کیے۔ اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا مقصد دروز اقلیت پر حملے کرنے والی سرکاری افواج کو تباہ کرنا اور ان کا تحفظ یقینی بنانا تھا، اور اس نے دھمکی دی کہ اگر حملے جاری رہے تو مزید کارروائی کی جائے گی۔
جنگ بندی: ان تمام واقعات کے بعد امریکہ کی ثالثی میں ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا جس کے تحت شامی فوجی سویدا سے دستبردار ہو گئے اور مقامی دروز رہنماؤں کو سکیورٹی کنٹرول سنبھالنے کا اختیار دیا گیا۔
شامی حکومت نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں "اختلاف اور لامتناہی افراتفری" پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور غیر ملکی مداخلت کو مسترد کیا ہے۔
Comments