جاپان نے وزیر اعظم ایشیبا کے لیے اہم امتحان میں انتخابات کی طرف قدم بڑھایا.
جاپان میں سیاسی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد، وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا (Shigeru Ishiba) کے لیے انتخابات ایک اہم امتحان ثابت ہوئے جس میں ان کی حکمران جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ وزارت عظمیٰ سے ہٹ گئے۔
اہم نکات:
ناگہانی انتخابات: ایشیبا نے ستمبر 2024 میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اکتوبر 2024 میں ایوانِ زیریں کے ناگہانی انتخابات (snap elections) کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ عوامی مینڈیٹ حاصل کیا جا سکے۔
شکست اور اقلیتی حکومت: یہ انتخابی جوا ناکام رہا، اور ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (LDP) نے ایوانِ زیریں میں اپنی اکثریت کھو دی، جس کے نتیجے میں ایک اقلیتی حکومت بنانا پڑی۔
سیاسی بحران: جولائی 2025 میں ایوانِ بالا کے انتخابات میں بھی پارٹی کو شکست ہوئی، جس سے ایشیبا کی پوزیشن کمزور ہو گئی اور ان کی پارٹی کے اندر سے استعفیٰ کے لیے دباؤ بڑھا۔
نئی قیادت: اکتوبر 2025 میں، LDP نے سانا ٹاکایچی (Sanae Takaichi) کو اپنا نیا لیڈر منتخب کیا، جو جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔
موجودہ صورتحال: نئی وزیر اعظم ٹاکایچی نے اقتدار سنبھالا ہے اور کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایوانِ زیریں کو تحلیل کرنے یا ناگہانی انتخابات کرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں، بلکہ فوری مسائل، خاص طور پر معیشت پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہیں۔
لہذا، ایشیبا کے لیے انتخابات کا "اہم امتحان" درحقیقت ناکامی پر منتج ہوا جس کی وجہ سے ان کا دورِ وزارت عظمیٰ مختصر رہا اور جاپان ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو گیا ہے۔

Comments