اسرائیلی آبادکاروں کے حملے مغربی کنارے کی کمیونیٹیز کو خطرے میں ڈال رہے ہیں
اسرائیلی آبادکاروں کے حملے مغربی کنارے میں فلسطینی کمیونیٹیز کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے نقل مکانی، مالی نقصان اور جانوں کا زیاں ہو رہا ہے۔ یہ تشدد 7 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
اہم اثرات اور خدشات درج ذیل ہیں:
جبری نقل مکانی: آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں، جن میں اکثر اسرائیلی سیکیورٹی فورسز بھی شامل ہوتی ہیں، نے سینکڑوں فلسطینی خاندانوں، خاص طور پر خانہ بدوش اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کو، اپنے گھروں اور زمینوں سے زبردستی بے دخل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
جانوں کا زیاں اور زخم: اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کے ہاتھوں 1,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور تقریباً 10,000 زخمی ہو چکے ہیں۔
معیشت اور روزی روٹی کی تباہی: حملوں میں زیتون کے باغات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ کئی فلسطینی خاندانوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ آباد کاروں نے ہزاروں زیتون کے درختوں کو تباہ کیا ہے، فصلیں چوری کی ہیں، اور کسانوں پر حملہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملے فلسطینیوں کی غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
خوف اور دھمکی آمیز ماحول: تشدد کا مقصد فلسطینی کمیونیٹیز میں خوف و ہراس پھیلانا اور انہیں اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے تاکہ آباد کار مزید غیر قانونی چوکیوں اور بستیوں کو پھیلا سکیں۔
ریاستی حمایت کا تاثر: انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سے حملے اسرائیلی فوج کی موجودگی یا مدد سے ہوتے ہیں، جس سے آباد کاروں کو کھلی چھوٹ کا احساس ہوتا ہے اور ریاست اور آباد کاروں کے تشدد کے درمیان کی لکیر دھندلا گئی ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان منظم زیادتیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

Comments