اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگیں جاری رہیں تو ترقی کے اہداف ناکام ہوں گے، اور غزہ میں قتل عام کی مذمت کی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس (Antonio Guterres) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جاری جنگیں اور تنازعات، خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، پائیدار ترقی کے اہداف (Sustainable Development Goals - SDGs) کو حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
ترقیاتی ہنگامی حالت: گوتیرس نے جولائی 2025 میں ایک اعلیٰ سطحی سیاسی فورم میں کہا کہ دنیا ایک "عالمی ترقیاتی ہنگامی صورتحال" کا سامنا کر رہی ہے، جس میں تقریباً نصف SDGs اہداف یا تو بہت آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں یا الٹی سمت جا رہے ہیں۔
غزہ میں "قتل عام" کی مذمت: انہوں نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال کو "ہولناک" قرار دیا اور شہریوں کی ہلاکتوں کو "ایک ظالمانہ اور غیر انسانی فعل" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں ہونے والی تباہی اور اموات حالیہ تاریخ میں بے مثال ہیں۔
امن اور ترقی کا تعلق: گوتیرس نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے امن اور سلامتی ناگزیر ہیں۔ جنگیں لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہیں، جبری نقل مکانی کا باعث بن رہی ہیں، اور وسائل کو ترقیاتی کاموں سے ہٹا کر جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
عالمی برادری کی ساکھ: انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جس سے عالمی برادری کی اجتماعی ساکھ کمزور ہو رہی ہے۔
فوری اقدامات کا مطالبہ: سیکرٹری جنرل نے غزہ میں فوری طور پر مستقل جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی، اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کا مطالبہ دہرایا۔
گوتیرس کا مؤقف ہے کہ جب تک دنیا تنازعات کو حل نہیں کرتی، پائیدار ترقی کے 2030 تک کے ایجنڈے کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہو
گا۔

Comments