اسرائیل شام کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کیوں کر رہا ہے؟


 


اسرائیل شام کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کرنے کی بنیادی وجوہات میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی سیکیورٹی خلا، ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا، اور اپنی شمالی سرحد پر ایک بفر زون (محفوظ علاقہ) قائم کرنا شامل ہیں۔ 

اہم محرکات درج ذیل ہیں:

سرحدی سلامتی اور بفر زون: شام کی نئی حکومت، جو کہ سخت گیر اسلامی گروپوں کی قیادت میں ہے، کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے پیش نظر، اسرائیل اپنی شمالی سرحد کے ساتھ، خاص طور پر گولان ہائٹس کے متصل علاقوں میں، عدم استحکام کو روکنا چاہتا ہے۔ اسرائیل نے اس علاقے کو غیر فوجی زون (demilitarized zone) قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کسی بھی شامی فوجی موجودگی کو خطرہ تصور کرتا ہے۔

ایرانی اثر و رسوخ کا مقابلہ: اگرچہ ایران کی براہ راست فوجی موجودگی کم ہوئی ہے، اسرائیل اب بھی ایران اور اس کے حمایت یافتہ پراکسی گروہوں، خاص طور پر حزب اللہ، کی جانب سے لاجسٹک سپورٹ اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے بارے میں فکرمند ہے۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے لیے شام کے ذریعے لبنان تک ہتھیاروں کی سپلائی لائنوں کو منقطع کرنا ہے۔

شامی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا: اسرائیل نے سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں جن کا مقصد شام کی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کرنا ہے، بشمول فضائی دفاعی نظام، میزائل سسٹم، اور بھاری ہتھیاروں کے ذخائر۔

دروز کمیونٹی کا تحفظ: جنوبی شام میں دروز کمیونٹی اور دیگر مقامی گروپوں کے درمیان ہونے والی حالیہ فرقہ وارانہ جھڑپوں نے بھی اسرائیل کو مداخلت کرنے کا جواز فراہم کیا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ دروز برادری کو نئے شامی حکام یا دیگر شدت پسند گروہوں کے حملوں سے بچانے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

کمزور شام کی خواہش: کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل ایک کمزور یا منقسم شام کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ 

مختصراً، اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں شام میں نئی سیاسی حقیقت اور سلامتی کے ابھرتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک فعال حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا