یوکرین کی جنگ کی بریفنگ: روس ٹرمپ کی پابندیوں کے خطرے کے درمیان اپنی جنگی مطالبات پر قائم رہنے پر اصرار کرتا ہے

 ‎


 


‎روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئی پابندیوں کے خطرے کے باوجود یوکرین کے حوالے سے اپنے جنگی مطالبات پر قائم رہنے پر اصرار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مطالبات "واضح، ظاہر اور اٹل" ہیں۔ 

کریملن کے مؤقف کے اہم نکات:

پابندیوں کا کوئی اثر نہیں: روس کا مؤقف ہے کہ پابندیاں اسے اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ ماسکو نے امریکی پابندیوں کو "انتہائی غیر نتیجہ خیز" قرار دیا ہے۔

جنگی اہداف: روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے زور دیا کہ روس کے بنیادی اہداف تبدیل نہیں ہوئے ہیں اور ان کا حصول ترجیح ہے۔ ان مطالبات میں یوکرین کا غیر جانبداری اختیار کرنا، روس کے زیر قبضہ علاقوں (بشمول کریمیا، لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علیحدگی پسند علاقوں) کو تسلیم کرنا، اور یوکرین کی "غیر فوجی سازی" شامل ہے۔

مزید امریکی پابندیاں: صدر ٹرمپ نے روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے حال ہی میں اس کی دو بڑی تیل کمپنیوں، روزنیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر نئی اور "زبردست" پابندیاں عائد کی ہیں، کیونکہ ان کے بقول پیوٹن کے ساتھ بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ رہی۔

مذاکرات کی منسوخی: روس کے سخت گیر مطالبات اور موقف پر اصرار کی وجہ سے صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔

اقتصادی دباؤ: امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا مقصد روس کی تیل اور گیس کی آمدنی کو نشانہ بنانا ہے تاکہ اس کی جنگی مشین کو فنڈنگ سے روکا جا سکے۔ 

روس نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن صرف اسی صورت میں جب اس کے بنیادی مطالبات تسلیم کیے جائیں، ایسی شرائط جنہیں کیف اور اس کے اتحادیوں نے مسترد کر دیا ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا