سریا کے دروز شہر میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں
شام کے جنوبی صوبے سویدا (Sweida) میں جولائی اور اگست 2025 کے دوران جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود مقامی دروز اور بدو قبائل کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں اور سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بعد بھی تشدد مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
اہم تفصیلات:
بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی: شامی حکومت اور مقامی رہنماؤں کی جانب سے متعدد بار "فوری اور جامع" جنگ بندی کے اعلانات کیے گئے، لیکن فریقین نے ایک دوسرے پر ان معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
تشدد کی شدت: جولائی 2025 کے اواخر اور اگست کے آغاز میں بھی شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں مشین گنوں کا استعمال اور مارٹر گولوں کی شیلنگ شامل تھی۔
سیکیورٹی فورسز کی مداخلت: شامی وزارت داخلہ کی فورسز کو امن قائم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا، لیکن ان پر بھی دروز جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں ملوث ہونے کے الزامات لگے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
فریقین کا مؤقف: شامی حکام نے الزام لگایا کہ دروز گروپ ذاتی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، دروز برادری نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تشدد کو روکنے میں ناکام رہی یا اس میں ملوث ہے۔
عالمی تشویش: امریکہ، اسرائیل اور اردن سمیت بین الاقوامی اداکاروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔ اسرائیل نے اس موقع پر شام میں حکومتی اہداف پر فضائی حملے بھی کیے، جن کا دعویٰ تھا کہ وہ دروز برادری کے تحفظ کے لیے کر رہا ہے۔
اگرچہ ستمبر اور اکتوبر 2025 میں صورتحال کسی حد تک پرسکون ہوئی اور ایک نازک امن قائم ہے، لیکن تناؤ برقرار ہے اور متاثرین کے لیے انصاف اور بحالی کے مطالبات جاری ہیں۔

Comments