کریملن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی ترسیل کی نگرانی کر رہا ہے


 

کریملن نے حال ہی میں ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ روس یوکرین کو مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی ترسیل کے عمل کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ 
روسی حکام کے مطابق:
اعلیٰ ترجیح: یہ معاملہ روسی ایجنڈے میں سرفہرست ہے، اور ماسکو تمام متعلقہ رپورٹس کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔
خطرہ برائے سلامتی: روس کا مؤقف ہے کہ یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی فراہمی سے یورپ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اور یہ عدم استحکام کو ہوا دیتا ہے۔
جنگ میں رکاوٹ: روس نے ان ہتھیاروں کی ترسیل کو یوکرین میں اپنے فوجی اہداف کے حصول میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیا ہے اور ان کے بقول ہتھیاروں کی کم ترسیل سے جنگ جلد ختم ہو گی۔
ہدف بنانے کا عمل: روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یوکرین میں مغربی ساختہ ہتھیاروں کے ڈپو اور سپلائی لائنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
غنائم جنگی: روس نے عوامی نمائشوں میں یوکرینی افواج سے قبضے میں لیے گئے مغربی ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان (جیسے لیوپارڈ اور ابرامز ٹینک) کو بھی پیش کیا ہے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ ان آلات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ 
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی ایک "کاروباری" سرگرمی ہے۔ روس نے انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی سرزمین پر مغربی ہتھیاروں سے حملے کیے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، اور اس کی ذمہ داری ہتھیار فراہم کرنے والے ممالک پر عائد ہوگی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا