اقوام متحدہ میں، پاکستان نے حوثیوں پر الزامات کے بعد سرخ سمندر میں محفوظ سمندروں کا مطالبہ کیا
پاکستان کا اقوام متحدہ میں بحیرہ احمر کے تحفظ پر موقف: ایک جامع تجزیہ
1. پاکستانی موقف کے اہم نکات
- حوثی حملوں کی مذمت: پاکستان نے حالیہ 6 ماہ میں بحیرہ احمر میں 14 تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں (جن میں 3 پاکستانی پرچم بردار جہاز شامل) کو "بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی" قرار دیا۔
- اقتصادی تحفظات: پاکستان نے زور دیا کہ یہ بحران عالمی تجارت کے 12% کو متاثر کر رہا ہے، جس سے پاکستان کو سالانہ $2.1 بلین کا نقصان ہو سکتا ہے۔
- قانونی فریم ورک: UNCLOS (سمندری قوانین کا کنونشن) کے آرٹیکل 100 کے تحت "سمندری ڈاکوؤں کے خلاف اجتماعی کارروائی" کی تجویز پیش کی۔
. سفارتی حکمت عملی
- عرب ممالک کے ساتھ ہم آہنگی: خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کیا جس میں:
- ایران سے حوثیوں کو سپورٹ بند کرنے کا مطالبہ
- بحیرہ احمر میں نئی "مشترکہ بحری نگرانی فورس" کی تشکیل
- چین اور روس سے تعاون: CPEC کے تحت چینی بحریہ کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بڑھانے پر اتفاق۔
3. پاک بحریہ کی تیاریاں
- عملہ اور سازوسامان:
- 2 نئی Type 054A/B فریگیٹس چین سے حاصل کی گئیں
- بحیرہ عرب میں گشت کے دائرہ کار میں 40% اضافہ
- بین الاقوامی مشقوں میں شرکت:
- امریکہ کی قیادت میں CMF-150 (کمبائنڈ ماریٹائم فورسز)
- روس-چین کے ساتھ پیس فل مارینر 2025 مشق
4. اقتصادی اثرات کا جائزہ
| شعبہ | ممکنہ نقصان (سالانہ) | وجہ |
| برآمدات | $1.4 بلین | یورپ کو جانے والے 65% مال بردار جہازوں کا متبادل راستہ اختیار کرنا |
| توانائی | $700 ملین | تیل کی ترسیل میں تاخیر |
| انشورنس | $300 ملین | بحری جہازوں کے بیمہ اقساط میں 200% اضافہ |
5. عالمی ردعمل اور پاکستان کی سفارتی کوششیں
- سلامتی کونسل کی قرارداد: پاکستان نے قرارداد 2725 کو سپورٹ کیا جس میں:
- حوثیوں پر اقتصادی پابندیوں کی تجویز
- ایران پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ
- او آئی سی کا کردار: ترکی اور ملائیشیا کی حمایت سے خصوصی اجلاس بلانے کی کوشش۔
6. مستقبل کے امکانات
فوجی تعاون: پاکستان ممکنہ طور پر بحیرہ احمر میں 2 جنگی بحری جہاز تعینات کر سکتا ہے۔
- اقتصادی متبادل: گوادر بندرگاہ کے ذریعے وسطی ایشیا کو تجارتی راستے فراہم کرنا۔
- سیاسی چیلنجز ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کا خطرہ۔
نتیجہ پاکستان کا یہ موقف اس خطے میں بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ بحیرہ احمر کے بحران نے پاکستان کو ایک "بحری سلامتی کے اہم کھلاڑی" کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن اس کے لیے ایران-امریکہ تناؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں پاک بحریہ کی کارروائیاں اور CPEC کا بحیرہ احمر سے جوڑنا اہم ہوگا۔

Comments