پاکستان یوکرینی تنازعہ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہا ہے
پاکستان نے یوکرین
تنازعہ کے پرامن
حل اور جنگ
بندی کے لیے
متعدد کوششیں کی ہیں،
جو بین الاقوامی
امن اور استحکام
کے لیے اس
کی وابستگی کو
ظاہر کرتی ہیں۔ ذیل
میں پاکستان کی
کوششوں کی اہم
جہات پر روشنی
ڈالی گئی ہے:
1. اقوام
متحدہ میں جنگ بندی
کی حمایت
پاکستان نے اقوام
متحدہ کی سلامتی
کونسل میں یوکرین کی
انسانی صورتحال پر اپنے
بیان میں محدود جنگ
بندی معاہدے کی حمایت
کی، جس میں
توانائی کے بنیادی
ڈھانچے کے تحفظ
اور بحیرہ اسود
میں محفوظ جہاز
رانی کو یقینی
بنایا گیا تھا۔ پاکستان
کے مستقل مندوب
سفیر عاصم افتخار احمد
نے اس معاہدے
کو "ایک مثبت قدم"
قرار دیا اور امید
ظاہر کی کہ
یہ جامع جنگ
بندی کی راہ
ہموار کرے گا .
2. مذاکرات
اور سفارت کاری
پر زور
پاکستان نے یوکرین
تنازعہ کے آغاز
سے ہی مذاکرات،
فوری جنگ بندی، اور
پرامن حل کی حمایت
کی ہے۔ سفیر
عاصم افتخار نے زور
دیا کہ تنازعہ
کے بنیادی سیکیورٹی
خدشات کو صرف
جامع حکمت عملی سے
حل کیا جا
سکتا ہے، جو خطے
میں پائیدار امن
کو یقینی بنائے
.
3. انسانی
حقوق اور شہریوں کے
تحفظ کی اپیل
پاکستان نے تنازعہ
میں عام شہریوں
اور شہری بنیادی
ڈھانچے کے تحفظ
پر زور دیا،
جسے بین الاقوامی
قانون کی لازم
ذمہ داری قرار
دیا گیا۔ نیز،
انسانی امدادی کارکنوں کی
بلا روک ٹوک
رسائی اور تحفظ کو
یقینی بنانے کی اہمیت
پر بھی روشنی
ڈالی گئی .
4. روس اور یوکرین کے
ساتھ دوستانہ تعلقات
پاکستان نے دونوں
ممالک کے ساتھ
دوستانہ تعلقات کو برقرار
رکھتے ہوئے تنازعہ کے
انسانی اثرات پر گہری
تشویش کا اظہار
کیا۔ سفیر عاصم افتخار
نے کہا کہ
"ہر انسانی جان قیمتی
ہے"، اور
تنازعہ کے چوتھے
سال میں داخل
ہونے پر امن
کی فوری ضرورت
پر زور دیا
.
5. بین الاقوامی اصولوں کی
پاسداری کی اہمیت
پاکستان کا موقف
اقوام متحدہ کے چارٹر
پر مبنی ہے،
جس میں ریاستوں
کی خودمختاری، علاقائی
سالمیت کے احترام،
اور طاقت کے
استعمال سے زمین
کے حصول کی
ممانعت شامل ہے۔ پاکستان
نے تمام فریقین
سے بین الاقوامی
معاہدوں کی پاسداری
کرنے کا مطالبہ
کیا ہے .
نتیجہ
پاکستان یوکرین تنازعہ کے
خاتمے کے لیے
ایک متوازن اور
پرامن نقطہ نظر اپناتے
ہوئے بین الاقوامی سطح
پر اپنا کردار
ادا کر رہا
ہے۔ اس کی
کوششیں نہ صرف
جنگ بندی کو
فروغ دینے پر مرکوز
ہیں، بلکہ انسانی حقوق
اور خطے کے
مستحکم امن کو بھی
یقینی بنانے کی کوشش
کرتی ہیں۔
Comments