پاکستان کے نائب وزیر اعظم کی او آئی سی اجلاس کے موقع پر مسلم رہنماؤں سے ملاقات کے دوران فلسطین سرفہرست ہے۔
خبری رپورٹ: او آئی سی اجلاس میں پاکستان کا فلسطین کے حوالے سے تاریخی موقف
جدہ، سعودی عرب — اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیراعظم نے فلسطین کے مسئلے کو امت مسلمہ کا اجتماعی ایجنڈا قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں 57 مسلم ممالک کے نمایندوں نے شرکت کی۔
اہم نکات:
1. غزہ کی انسانی المیے پر تشویش
- پاکستانی نمائندے نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، شہری اموات اور محاصرے کو **"انسانی تباہی قرار دیا۔
- عالمی برادری سے فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
2. اسلامی اتحاد کی اپیل
- پاکستان نے تمام مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے معاملے پر متحدہ موقف اپنائیں اور سفارتی دباؤ بڑھائیں۔
- OIC سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کرے۔
3. ہنگامی امداد کی تجاویز:
- غزہ کے لیے طبی امداد، خوراک اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری راستہ بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔
- پاکستان نے اپنی جانب سے امدادی پیکج جاری کرنے کا اعلان بھی کیا۔
4. دو ریاستی حل کی توثیق
- نائب وزیراعظم نے 1967 کی سرحدوں پر مشتمل خودمختار فلسطینی ریاست کے حق میں واضح موقف دہرایا۔
- اسرائیلی آبادکاریوں کی غیر قانونیت پر زور دیا گیا۔
بین الاقوامی ردعمل
- کئی عرب ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) نے پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔
- ترکی اور ایران نے بھی مشترکہ اسلامی موقف اپنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
- مغربی ممالک کی طرف سے ابھی تک واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اگلے اقدامات
- OIC نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے مسئلے پر قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔
- مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی اگلی میٹنگ میں مشترکہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
تبصرے
- مبصرین کے مطابق پاکستان کا موقف "سفارتی لحاظ سے مضبوط ہے، لیکن اس پر عملدرآمد عالمی دباؤ پر منحصر ہوگا۔
- فلسطینی نمائندوں نے پاکستان کی حمایت کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
#OIC #Pakistan #Palestine #Gaza #IslamicUnity #PakistanForPalestine #OICSummit

Comments