سابق ایئر چیف نے بھارت کے محدود جنگ کے بے احتیاط تصور کے خلاف خبردار کیا
'محدود جنگ' کا تصور — جوہری خطے میں ایک خطرناک فریب
اسلام آباد— پاکستان کے سابق ایئر چیف کی جانب سے بھارت کے ’’محدود جنگ‘‘ (Limited War) کے نظریے پر سخت تنقید سامنے آئی ہے، جسے انہوں نے ’’خطرناک فریب‘‘ اور ’’غیر حقیقت پسندانہ عسکری حکمتِ عملی‘‘ قرار دیا ہے۔
🔍 پس منظر: محدود جنگ کا نظریہ
بھارت کی "Cold Start Doctrine" یا ’’سرد آغاز حکمتِ عملی‘‘ کا بنیادی مقصد ایک تیز، محدود فوجی کارروائی کے ذریعے پاکستان کی جوابی صلاحیت کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، بھارت چاہتا ہے کہ زمین پر محدود پیمانے پر جنگ کی جا سکے بغیر اس کا دائرہ ایٹمی تصادم تک پھیلے۔
تاہم، پاکستانی عسکری ماہرین اور سابق سروس چیفس بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ ایسے کسی بھی اقدام کی نہ صرف فوجی بلکہ نظریاتی بنیاد مشکوک ہے۔ اُن کے مطابق، کسی بھی محدود تنازع کا ایٹمی تصادم میں بدل جانا ایک حقیقی خطرہ ہے، کیونکہ:
- جنگ کی گرمی میں صورتحال پر قابو رکھنا مشکل ہوتا ہے
- غلط فہمیاں اور انٹیلیجنس کی ناکامی شدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں
- بالخصوص جب دونوں ممالک نے خود کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر رکھا ہو
⚠️ ایئر چیف کا موقف
سابق ایئر چیف نے واضح کیا کہ بھارت کی سوچ کہ وہ ’’تھوڑا سا زور لگا کر امن بحال رکھ سکتا ہے‘‘ ایک بنیادی غلطی ہے۔ ان کے مطابق:
"ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کبھی محدود نہیں رہتی۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں آغاز تو ممکن ہے، لیکن انجام کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔"
🌍 خطے پر اثرات
- جنوبی ایشیائی امن: بھارت کی جانب سے محدود جنگ کی کوئی بھی کوشش فوری کشیدگی میں بدل سکتی ہے
- عالمی ردعمل: خطے میں ایٹمی خطرے کے باعث عالمی برادری مداخلت پر مجبور ہو سکتی ہے
- سفارتی دباؤ: پاکستان limits اور deterrence کی پالیسی کو عالمی فورمز پر اجاگر کرتا رہے گا
�� پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی
- پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ ’’فرسٹ یوز پالیسی‘‘ کو مسترد نہیں کرتا
- کسی بھی جارحیت کی صورت میں ’’فل اسپکٹرم ڈیٹرنس‘‘ (Full Spectrum Deterrence) جاری رہے گی
- دفاعی تیاری ہمیشہ حقیقی خطرے کی بنیاد پر کی جاتی ہے، خواہ وہ محدود ہو یا مکمل
📌 نتیجہ
’’محدود جنگ‘‘ کے تصور کو جنوبی ایشیا میں لاگو کرنا ناقابلِ عمل اور بے حد خطرناک ہے۔ پاکستان کے عسکری ماہرین کی رائے میں اس طرح کی سوچ زمینی حقائق، ایٹمی توازن اور تزویراتی حرکیات کو نظر انداز کرتی ہے، اور اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو اس کے نتائج ناقابلِ
واپسی ہو سکتے ہیں۔

Comments