ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بھارت روسی تیل خریدنا بند کرے۔ مودی کیوں انکار کر رہے ہیں؟
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے روسی تیل کی خریداری جاری رکھنے کے فیصلے کی کئی اہم وجوہات ہیں، جو بھارت کے قومی مفادات اور عالمی حکمت عملی سے جڑی ہیں:
1. توانائی کی سلامتی اور معاشی فوائد
- بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل صارف ہے اور اس کی 80% تیل کی ضروریات درآمد پر منحصر ہیں۔
- روس سے تیل 36% رعایت پر ملتا ہے، جو بھارت کو سالانہ تقریباً 12 ارب ڈالر کی بچت کراتا ہے ۔
- روسی تیل کے بغیر بھارت کو مہنگے متبادل (مشرق وسطیٰ یا امریکی تیل) تلاش کرنے پڑیں گے، جس سے ایندھن کی قیمتیں 25-30% تک بڑھ سکتی ہیں ۔
2. تزویراتی خودمختاری
- بھارت نے سرد جنگ کے دور سے روس کے ساتھ دفاعی اور توانائی کے مضبوط تعلقات قائم کیے ہیں۔
- روس بھارت کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے (36% حصہ) اور ایس-400 میزائل جیسے اہم معاہدے موجود ہیں ۔
- چین کے بڑھتے اثر کو متوازن کرنے کے لیے بھارت روس کو ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے ۔
3. عالمی توانائی مارکیٹ میں استحکام
- بھارت کا موقف ہے کہ روسی تیل کی خریداری نے عالمی تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دی ہے۔
- اگر بھارت خریداری بند کرے تو مارکیٹ میں 1.75 ملین بیرل یومیہ کی کمی سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کا اثر امریکہ سمیت تمام ممالک پر پڑے گا ۔
4. مغربی منافقت کا مقابلہ
- بھارت نے یورپی یونین پر تنقید کی ہے جو روس سے کھاد، کیمیکلز اور صنعتی سامان کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے ۔
- امریکہ خود روسی یورینیم اور پیلیڈیم درآمد کرتا ہے، جو جوہری اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کے لیے ضروری ہیں ۔
5. سیاسی اور داخلی دباؤ
- مودی حکومت "میک ان انڈیا" اور خودکفالت کے بیانیے پر چل رہی ہے۔ روسی تیل کو ترک کرنا عوامی سطح پر کمزوری کی علامت سمجھا جائے گا ۔
- 2024 کے انتخابات کے بعد ٹرمپ کے سخت موقف نے بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں لچک دکھانے سے روک دیا ہے ۔
اثرات اور مستقبل کے امکانات:
- بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں کچھ کمی کی ہے، لیکن مکمل بندش ناممکن ہے ۔
- امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارت (87.4 بلین ڈالر سالانہ) متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل، جیولری اور آٹو پارٹس کی برآمدات ۔
- مودی حکومت وسطی مشرق (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) اور ویٹ نام جیسے ممالک سے تیل کے نئے معاہدے کر رہی ہے، لیکن یہ عمل وقت طلب ہے ۔
نتیجہ مودی کا فیصلہ بھارت کی قومی سلامتی، معیشت اور خودمختار خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔ ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود، بھارت روسی تیل پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے یکدم ختم کرنے سے گریز کر رہا ہے۔

Comments