روس نے دھمکیوں کے خلاف خبردار کیا ہے بعد ازاں ٹرمپ نے جوہری سمندری جنگی جہازوں کو دوبارہ تعینات کیا

 ‎روس نے حال ہی میں مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور نیٹو، کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انہوں نے روس کی سلامتی کو خطرہ پہنچایا یا یوکرین میں اپنی فوجی مدد بڑھائی تو وہ "سنجیدہ فوجی ردعمل" دے گا۔ اس کے جواب میں، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (جو دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں) نے اپنے دورِ حکومت (2017-2021) میں جوہری صلاحیت سے لیس سمندری جنگی جہازوں (آبدوزوں کو دوبارہ تعینات کرنے کی پالیسی اپنائی تھی۔  

‎ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام اور روسی ردعمل  

‎1. جوہری آبدوزوں کی بحال: ٹرمپ نے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے جوہری دباؤ کے جواب میں Ohio-class SSBNs (جوہری میزائل لانچ کرنے والی آبدوزیں) کی تعیناتی کو بحال کیا، خاص طور پر بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل میں۔  

‎2. سٹریٹجک دھمکی: یہ اقدام روس کو یہ پیغام دینے کے لیے تھا کہ امریکہ جوہری جنگ کے لیے تیار ہے۔  

‎3۔روس کا ردعمل: روس نے اسے "پرتشدد اقدام" قرار دیتے ہوئے اپنے **Borei-class آبدوزوں اور ہائپرسونک میزائلوں کی تعیناتی بڑھا دی۔  

‎موجودہ صورتحال 2024

‎- موجودہ صدر جو بائیڈن نے بھی روس کے خلاف سختی جاری رکھی ہے، لیکن وہ ٹرمپ جیسے تنازعہ خیز بیانات سے گریز کرتے ہیں۔  

‎- روس-یوکرین جنگ کے باعث جوہری جنگ کا خطرہ گزشتہ چند دہائیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔  

‎- اگر ٹرمپ 2024 میں دوبارہ صدر بنتے ہیں، تو وہ روس کے خلاف مزید سخت فوجی اقدامات کر سکتے ہیں، جس سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔  

‎عالمی ردعمل  

‎چین اور دوسرے ممالک اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔  

‎- اقوام متحدہ نے دونوں طرف سے جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کی کوششیں کی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔  

‎نتیجہ

‎روس اور امریکہ کے درمیان جوہری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، اور اگر سفارتی حل نہ نکالا گیا، تو یہ عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا