ٹرمپ انتظامیہ نے یو سی ایل اے کے ساتھ ایک ارب ڈالر کا تصفیہ پیش کیا ہے

 ‎ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) کے درمیان $1 ارب کے تصفیے سے متعلق دستاویزات میں درج ذیل اہم نکات سامنے آئے ہیں:

‎ 1. تصفیے کی وجوہات

‎- یہ معاملہ UCLA کی جانب سے تحقیقی گرانٹس کے غلط استعمال اور این آئی ایچ (NIH) فنڈز کی نگرانی میں خامیوں کے الزامات سے شروع ہوا۔

‎- ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی نے وفاقی فنڈز کو بالواسطہ اخراجات Indirect Costs کے لیے غیر مناسب طریقے سے استعمال کیا، جس میں انتظامی اخراجات اور سہولیات کی بحالی کے لیے مختص رقم شامل تھی ۔

‎ 2. تصفیے کی شرائط

‎- UCLA کو $650 ملین وفاقی حکومت کو واپس ادا کرنے ہوں گے۔

‎- باقی $350 ملین یونیورسٹی کے اندرونی تحقیقی نظام کی اصلاحات پر خرچ کیے جائیں گے، بشمول:

‎  - مالیاتی رپورٹنگ کے نئے سافٹ ویئر کا اجراء

‎  - تحقیقی اخلاقیات کے لیے تربیتی پروگرامز

‎  - NIH کے ساتھ مستقبل کے معاہدوں کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی کا قیام ۔

‎ 3. ٹرمپ انتظامیہ کا موقف

‎- صدر ٹرمپ نے اسے "تعلیمی اداروں میں شفافیت کی فتح" قرار دیا۔

‎- ان کا کہنا تھا کہ یہ تصفیہ "امریکا فرسٹ" پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقاد سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کو روکنا ہے ۔

‎ 4. UCLA کا ردعمل

‎- یونیورسٹی نے تصفیے کو "مزید قانونی کشیدگی سے بچنے کا عملی قدم" قرار دیا۔

‎- انہوں نے زور دیا کہ یہ معاملہ تحقیقی معیارات سے متعلق تھا، نہ کہ کسی بدعنوانی سے ۔

‎ 5. طویل المدتی اثرات

‎- دیگر یونیورسٹیوں (جیسے ہارورڈ، اسٹینفورڈ) پر بھی NIH گرانٹس کے اسی طرح کے جائزے کا امکان ۔

‎- تحقیقی اداروں میں بالواسطہ اخراجات کی شرح (فی الحال 69 سینٹ فی ڈالر) میں کمی کا خدشہ ۔



Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا