ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر 'اسنیپ بیک' پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہاں اس کا کیا مطلب ہے۔

 یہ ایک ایسا میکانزم (mechanism) ہے جس کے تحت اگر ایران اپنے جوہری معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پہلے ہٹائی گئی اقوامِ متحدہ کی پابندیاں خودبخود دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں۔

‎یعنی پابندیاں "دوبارہ بحال" (snap back) ہو جاتی ہیں، اور اس کے لیے نیا ووٹ یا اتفاقِ رائے درکار نہیں ہوتا۔

‎پس منظر:

‎2015 میں ایران اور بڑی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین) کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA) طے ہوا۔

‎اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کیا، اور اس کے بدلے میں عالمی پابندیاں ہٹا لی گئیں۔

‎لیکن معاہدے میں ایک شق رکھی گئی کہ اگر ایران شرائط توڑے تو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی پرانی پابندیاں "اسنیپ بیک" کے ذریعے فوراً بحال ہو جائیں گی۔

‎اہم نکتہ:


‎"اسنیپ بیک" کا مطلب ہے کہ پابندیاں خودکار طریقے سے لگ جاتی ہیں، چاہے باقی ممالک متفق نہ بھی ہوں۔

‎اسی لیے یہ ایران پر دباؤ ڈالنے کا ایک طاقتور قانونی ہتھیار مانا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا