ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اتحادیوں سے لابنگ کے بعد اسرائیل کو مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔

 ٹرمپ کا اعلان: اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دی جائے گی

‎واشنگٹن:

‎سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اتحادی ممالک سے مشاورت اور لابنگ کے بعد اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہوگا۔

‎پس منظر

‎اسرائیل طویل عرصے سے مغربی کنارے پر اپنی خودمختاری کے دعوے اور الحاق کے عزائم ظاہر کرتا رہا ہے، جبکہ فلسطینی قیادت اس علاقے کو اپنی مستقبل کی ریاست کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔ اس مسئلے پر عالمی برادری تقسیم کا شکار رہی ہے، تاہم زیادہ تر ممالک اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں۔

‎ٹرمپ کا مؤقف

‎ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مقصد خطے میں توازن قائم رکھنا اور اتحادیوں کے ساتھ ایک مشترکہ حکمتِ عملی بنانا ہے تاکہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ یکطرفہ الحاق امن مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کر سکتا ہے۔

‎علاقائی ردِعمل

‎عربی ممالک اور یورپی اتحادی اس اعلان کو مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کا یہ مؤقف اسرائیل پر دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے مستقبل کے حوالے سے لچک دکھائے۔ تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس پر تاحال کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا


۔

‎تجزیہ

‎سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کھل کر اسرائیل کے الحاق کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے تو اس سے فلسطینی قیادت کو تقویت ملے گی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم عملی طور پر اس پالیسی کو نافذ کرنا ایک چیلنج ہوگا کیونکہ اسرائیل کے اندرونی سیاست اور وہاں کی قیادت الحاق کے حامی عناصر کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا