ٹرمپ نے عرب رہنماؤں سے وعدہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے نہیں دیں گے، پولیٹیکو کی رپورٹ
یہ بات چیت نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہوئی۔
ٹرمپ نے کئی عرب رہنماؤں (خلیجی اور مشرقِ وسطیٰ کے) سے ملاقات کی، جس میں غزہ کی جنگ اور مستقبل کے امن منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔
📰 پولیٹیکو کی رپورٹ کے اہم نکات
1. وعدہ: مغربی کنارہ ضم نہیں ہوگا
ٹرمپ نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر وہ منصوبے پر عملدرآمد کراتے ہیں تو اسرائیل کو West Bank annexation (الحاق) کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
2. White Paper پیش کیا گیا
اس ملاقات میں ٹرمپ کی ٹیم نے ایک تحریری منصوبہ (white paper) پیش کیا۔
اس دستاویز میں غزہ جنگ کے بعد کا ایک خاکہ شامل تھا اور خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں ہوگا۔
3. عرب رہنماؤں کو تسلی دینا
کئی عرب ممالک کو خدشہ تھا کہ اسرائیل غزہ کے بعد West Bank پر بھی کنٹرول سخت کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان کے منصوبے میں ایسا کوئی اقدام شامل نہیں ہوگا۔
4. ذرائع کی تصدیق
پولیٹیکو کے مطابق، اس ملاقات کے بارے میں چھ مختلف افراد نے آگاہی دی، اور دو نے اس وعدے کی براہِ راست تصدیق کی۔
🎯 اس کا مطلب (Implications)
عرب دنیا کے لیے پیغام: ٹرمپ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ یک طرفہ نہیں بلکہ عرب ممالک کی تشویش کو بھی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
اسرائیل پر دباؤ: اگرچہ اسرائیلی سیاست میں annexation کی بات آتی رہی ہے، لیکن ٹرمپ کے اس مؤقف سے اسرائیل پر دباؤ پڑے گا کہ وہ کھلے عام ایسا قدم نہ اٹھائے۔
امن منصوبے کے امکانات: یہ وعدہ دراصل غزہ کے بعد ایک بڑے امن منصوبے کی تیاری کا حصہ ہے، جس میں ٹرمپ عرب رہنماؤں کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔

Comments