ٹرمپ اور نیتن یاہو نے غزہ تنازع کے خاتمے کے منصوبے کا اعلان کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی

 پریس کانفرنس کا پسِ منظر


‎یہ پریس کانفرنس وائٹ ہاؤس میں ہوئی، جہاں ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مل کر غزہ کے لیے ایک امن منصوبے کا اظہار کیا۔ 

‎قبل ازیں، وائٹ ہاؤس نے ایک 20 نکاتی منصوبہ جاری کیا تھا، جس میں اگر دونوں فریق قبول کریں تو جنگ فوراً ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ 

‎ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل اس منصوبے کو تسلیم کر لے تو 72 گھنٹے کے اندر باقی مِیّمے (hostages) بازیاب کیے جائیں گے۔ 

‎نیتن یاہو نے وسطِ کانفرنس میں قطر پر اسرائیلی حملے میں ہونے والی جانوں کا افسوس کا اظہار کیا اور معافی کا پیغام بھی دیا۔ 

‎ منصوبے کی اہم شقیں

‎اس منصوبے کی کچھ کلیدی شقیں یہ ہیں:

‎شق خلاصہ

‎جنگ کا فوری اختتام دونوں فریق اگر منصوبے کو قبول کریں تو جنگ فوراً بند ہو جائے گی۔ 

‎آزادانہ نقل و حرکت اور واپسی غزہ کے باشندے اگر چاہیں تو آزادانہ طور پر باہر جانے یا واپس آنے کا حق ہوگا۔ 

‎غزہ میں عبوری حکومت منصوبے میں ایک عارضی عبوری انتظامی کمیٹی کا قیام پیش کیا گیا ہے، جسے ایک بین الاقوامی “امن بورڈ” (Board of Peace) نگرانی کرے گا۔ 

‎حماس کی شرکت نہ ہونا منصوبے کے تحت، حماس کو غزہ کے انتظامی یا حکومتی امور میں شرکت نہیں دی جائے گی۔ 

‎اسلحہ بندی اور غیر عسکریتی شقیں حماس کے عسکری و ساز و سامان کی خلع، اور دہشت گردی کے عناصر کی غیر فعالیت کو یقینی بنانے کی شقین شامل ہیں۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا