طالبان کی جانب سے اخالقی کریک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد افغانستان میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے متاثر کیا۔

 اقوام متحدہ )UN)

‎ِن یو این



‎ماہری انسانی حقوق نے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو "آزادی اظہار اور تعلیم پر حملہ" قرار دیا ہے۔

‎خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے آن الئن تعلیم کے راستے بند ہونا، انسانی حقوق کی شدید

‎خالف ورزی کہا گیا۔

‎.2 انسانی حقوق کی تنظیمیں

‎ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ طالبان "اخالقیات" کے نام پر معاشی اور تعلیمی

‎آزادی ختم کر رہے ہیں۔

‎کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس )CPJ )نے متنبہ کیا کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ صحافیوں کو مزید خاموش

‎کرنے کی کوشش ہے۔

‎.3 امریکہ اور یورپی یونین

‎امریکی محکمہ خارجہ نے اس اقدام کو ”افغان عوام کی بنیادی آزادیوں پر قدغن“ کہا۔

‎یورپی یونین نے مطالبہ کیا کہ طالبان فوری طور پر انٹرنیٹ تک رسائی بحال کریں کیونکہ یہ "جدید

‎انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت" ہے۔

‎.4 عالمی میڈیا اور ماہرین

‎رپورٹس کے مطابق یہ پابندیاں افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

‎ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان عوام کو عالمی برادری سے کاٹ کر اپنے سخت گیر کنٹرول کو مضبوط

‎کرنا چاہتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا