پنجاب نے ٹی ایل پی کے زیر انتظام مساجد اور مدارس مفتی منیب کے حوالے کر دیئے۔
پنجاب حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے منسلک مساجد اور مدارس کا انتظام معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمٰن کے سپرد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کے بعد کیا گیا، جس نے حالیہ پرتشدد مظاہروں اور ہلاکتوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال کو درہم برہم کر دیا تھا۔
اہم تفصیلات:
پنجاب حکومت کا اقدام: پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے 29 اکتوبر 2025 کو لاہور میں اتحاد بین المسلمین کی ایک میٹنگ میں یہ اعلان کیا۔
مقصد: مریم نواز نے وضاحت کی کہ یہ اقدام مذہبی اداروں کو سیاسی اور پرتشدد سرگرمیوں سے دور رکھنے اور انہیں صحیح معنوں میں مذہبی تعلیم اور اتحاد کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
انتظام کی نوعیت: انہوں نے واضح کیا کہ یہ ادارے سرکاری اوقاف کے کنٹرول میں نہیں دیے گئے، بلکہ ایک باوقار مذہبی شخصیت کو ان کا انتظام سونپا گیا ہے تاکہ وہ بہتر طریقے سے چلائے جا سکیں۔
پس منظر: اس سے قبل وفاقی حکومت نے 24 اکتوبر 2025 کو ٹی ایل پی پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد حکام نے پارٹی سے منسلک املاک اور اثاثوں کو سیل کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کریک ڈاؤن سے قبل، پارٹی کی جانب سے پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مفتی منیب الرحمٰن کا کردار:
مفتی منیب الرحمٰن کو ان مدارس اور مساجد کی انتظامی نگرانی کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ ان سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ ان اداروں کو انتہا پسندی سے بچا کر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں گے۔
مفتی منیب الرحمٰن نے گزشتہ برسوں میں بعض اوقات ٹی ایل پی کی قیادت اور حکومت کے درمیان ثالث کا کردار بھی ادا کیا ہے، اگرچہ انہوں نے گزشتہ ہفتوں میں ہونے والے واقعات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔

Comments