پی پی پی اور مسلم لیگ ن نے ڈیڈ لاک ختم ہوتے ہی آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کر دیئے۔
پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد دو جماعتوں کے درمیان جاری سیاسی ڈیڈ لاک ختم ہوگیا ہے۔
اہم تفصیلات:
تحریک عدم اعتماد: پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے دستخط شدہ تحریک عدم اعتماد کو مکمل کر لیا ہے، جسے جلد ہی آزاد کشمیر اسمبلی میں جمع کرایا جائے گا۔
ڈیڈ لاک کا خاتمہ: اس پیش رفت نے دونوں جماعتوں کے درمیان جاری تناؤ کو ختم کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم کے خلاف تحریک کی حمایت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن اس شرط پر کہ وہ آزاد کشمیر میں جلد انتخابات کرانے کے حق میں ہیں۔
ن لیگ کا کردار: ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے وزراء ممکنہ طور پر تحریک جمع کرانے کے بعد استعفیٰ دے دیں گے اور اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔
نئے وزیراعظم کے امیدوار: پی پی پی نے چوہدری یاسین کو ممکنہ نئے وزیراعظم کے طور پر حتمی شکل دی ہے۔
عددی قوت: پی پی پی کو اس وقت 37 اسمبلی اراکین کی حمایت حاصل ہے، جس میں 10 سابق پی ٹی آئی قانون سازوں کا پی پی پی میں شامل ہونا بھی شامل ہے۔
مجوزہ تبدیلی کی ممکنہ ٹائم لائن: توقع ہے کہ تحریک عدم اعتماد آئندہ 24 سے 48 گھنٹے کے اندر آزاد کشمیر اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی جائے گی۔
یہ اقدام وفاقی حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کی جانب سے آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام لانے اور بہتر حکمرانی فراہم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

Comments