پاکستان اور افغانستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھارت کا واضح پیغام
بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات، 30 اکتوبر 2025 کو ایک پریس بریفنگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بیان جاری کیا۔ ان کا بیان اس طرح ہے:
افغانستان کی خودمختاری کی حمایت:
ترجمان نے کہا کہ بھارت "افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی" کا عزم رکھتا ہے۔
بھارت کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور مذاکرات کی ناکامی ہوئی ہے۔
سرحد پار دہشت گردی کی مذمت:
جیسوال نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ایسا لگتا ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اسے کھلی چھوٹ ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیاں کرے۔ اس کے پڑوسی اسے ناقابل قبول سمجھتے ہیں"۔
یہ بیان پاکستان پر طویل عرصے سے عائد اس الزام کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ عسکریت پسند پراکسیوں کو استعمال کرتا ہے۔
اقتصادی امداد کی پیشکش:
بھارت کی جانب سے افغانستان کو اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں میں مدد کی پیشکش، خاص طور پر سڑکوں اور پلوں کی تعمیر اور بجلی کے شعبے میں، اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ بھارت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا چاہتا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی پر موقف:
یہ واضح پیغام ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سیزفائر کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستان کے مطالبات پر راضی نہیں ہوئے۔
خطے میں استحکام کی خواہش:
جیسوال نے یہ بھی کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے کی سرحدوں اور اندرونی معاملات کا احترام کریں، جو کہ بالواسطہ طور پر پاکستان کو ایک مستحکم قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا پیغام ہے۔
مختصراً، بھارت نے پاکستان اور افغانستان کے تنازعے پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ایک جانب افغانستان کی خودمختاری کی حمایت کی ہے، اور دوسری جانب پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو مزید سخت لہجے میں دہرایا ہے

Comments