ٹرمپ جنگ کے وقت روس سے نمٹنے کے لیے چین کی 'مدد' چاہتے ہیں۔ کیا اسے ملے گا؟



 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ روس-یوکرین جنگ سے متعلق روس کے ساتھ معاملات میں چین کی "مدد" چاہتے ہیں۔ تاہم، ماہرین اور حالیہ پیشرفت کا مشاہدہ کرنے والوں کے مطابق، یہ انتہائی غیر یقینی ہے کہ آیا ٹرمپ کو وہ تعاون حاصل ہوگا جس کی وہ توقع کر رہے ہیں۔ 

ٹرمپ کی خواہشات اور حکمت عملی:

ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ وہ "چین کو روس کے معاملے میں ہماری مدد کرتے دیکھنا چاہوں گا"۔

یوکرین کے صدر زیلینسکی نے بھی ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ چین پر دباؤ ڈالیں کہ وہ روس کی حمایت ختم کرے۔

ٹرمپ کی جانب سے یہ کوشش ان کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ چین پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ روس پر اس کی معاشی حمایت کے حوالے سے اثر و رسوخ استعمال کرے، کیونکہ چین روس کا ایک اہم اقتصادی پارٹنر ہے۔

ٹرمپ نے حال ہی میں روس کی دو سب سے بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے بعد وہ امید کر رہے ہیں کہ چین کو روس کی تیل خریداری روکنے پر مجبور کر سکیں گے۔ 

چین کے مفادات اور پس منظر:

"کوئی حد نہیں" شراکت داری: چین اور روس کے درمیان ایک مضبوط "کوئی حد نہیں" شراکت داری موجود ہے۔ چین جنگ کے آغاز سے ہی روس کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی طور پر کھڑا رہا ہے۔

امریکہ کو مصروف رکھنا: ایک جاپانی تھنک ٹینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق، چین کے حکمران اس جنگ کو اپنے مفاد میں دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ امریکہ کی توجہ کو یورپ پر مرکوز رکھتی ہے۔

انحصار: چین روسی تیل اور گیس کا بڑا خریدار بن چکا ہے، جس سے مغربی پابندیوں کے بعد روس کی معیشت کو سہارا ملا ہے۔

مؤقف میں تضاد: اگرچہ چین بظاہر غیر جانبدار نظر آتا ہے، لیکن اس نے مغرب کو واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ روس کو جنگ میں شکست کھاتے نہیں دیکھنا چاہتا۔

ٹرمپ سے فائدہ: چین کو ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں آنے سے فائدہ ہوا ہے، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر امریکہ کی قیادت کمزور ہوئی اور چین کو ایک زیادہ قابل اعتماد عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملا۔

قومی مفادات مقدم: چین اپنے مفادات کے خلاف روس کے ساتھ اپنی گہری معاشی اور تزویراتی شراکت داری کو ترک نہیں کرے گا۔ چین کے ایک تجزیہ کار کے مطابق، "چین روس کو مکمل طور پر نہیں چھوڑے گا"۔ 

کیا ٹرمپ کامیاب ہوں گے؟

چین کا روس کو چھوڑنے کا امکان کم ہے کیونکہ یہ نہ تو اس کے مفادات میں ہے اور نہ ہی وہ امریکہ کے سامنے جھکنا چاہے گا۔

ماہرین کے مطابق، چین روس کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرتا رہے گا، جبکہ اپنی تجارت کے لیے نئے شراکت داروں کی تلاش بھی جاری رکھے گا۔

ممکن ہے کہ ٹرمپ روس پر عائد پابندیوں کو بڑھا دیں تاکہ چین پر بالواسطہ دباؤ ڈالا جا سکے، لیکن چین اس طرح کی دھمکیوں کے آگے آسانی سے نہیں جھکے گا۔ 

نتیجہ:

مختصراً، ٹرمپ کی یہ خواہش ہے کہ چین روس پر دباؤ ڈالے، لیکن چین کے اپنے تزویراتی مفادات کی وجہ سے، یہ امکان بہت کم ہے کہ وہ امریکہ کے لیے قابلِ قبول تعاون فراہم کرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا