‎اروناچل پردیش پر بھارت اور چین تنازعہ


 
اروناچل پردیش کے معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان اختلاف جنوبی ایشیا کے بڑے سرحدی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ تنازعہ صرف دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان تناؤ کو بڑھاتا نہیں بلکہ اس کا اثر پورے علاقے کی جغرافیائی سیاست پر بھی پڑتا ہے۔یہ مسئلہ سرحدی حدبندی، تاریخی معاہدوں، سیاسی دعووں، ثقافتی پہچان اور اسٹریٹجک اہمیت جیسے مختلف عوامل کا نتیجہ ہے۔ آئندہ متن میں ہم اس معاملے کی بنیاد، دونوں ممالک کے زاویے، حالیہ ترقیات اور ممکنہ اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیں گے۔

‎تاریخی پس منظر

‎اروناچل پردیش کا تنازعہ بنیادی طور پر 1914ء کی لائن—میکموہن لائن—سے جڑا ہوا ہے۔

‎برطانوی دور میں شملہ معاہدے کے تحت برطانوی ہندوستان اور تبتی نمائندوں نے مل کر اس سرحد کا تعین کیا تھا۔ چونکہ معاہدے پر چینی حکومت نے باقاعدہ دستخط نہیں کیے تھے، اس لیے چین اسے ابتداء سے تسلیم نہیں کرتا۔ چین کا مؤقف ہے کہ برطانوی حکام نے تبت کے ساتھ غیر قانونی طور پر سرحدی معاہدہ کیا، کیونکہ تبت اس وقت چین کا حصہ تصور ہوتا تھا۔

‎1947ء میں بھارت کے قیام کے بعد نئی دہلی نے میکموہن لائن کو اپنی شمالی سرحد تسلیم کر لیا۔ دوسری طرف چین نے 1950ء میں تبت کو اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد دعویٰ کیا کہ اروناچل پردیش تاریخی طور پر جنوبی تبت کا حصہ ہے۔

‎بھارت کا مؤقف

‎بھارت کا کہنا ہے کہ:

‎اروناچل پردیش اُس کی ریاست ہے اور 1951ء سے مکمل طور پر بھارت کے زیرِ انتظام ہے۔

‎مقامی آبادی، خصوصاً مونپا، نشی، اور دیگر قبائل خود کو بھارتی شہری سمجھتے ہیں۔

‎بھارت میکموہن لائن کو تاریخی، قانونی اور انتظامی طور پر درست سرحد مانتا ہے۔

‎نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ چین کے دعوے صرف سیاسی بنیادوں پر ہیں، جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

‎بھارت نے اروناچل پردیش میں ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، فوجی انفراسٹرکچر، اور انتظامی ادارے قائم کر کے اس دعوے کو مزید مضبوط کیا ہے۔ بھارت اسے "شمال مشرقی ریاست" قرار دیتا ہے جس کا مرکز اِٹانگر ہے۔

‎چین کا مؤقف

‎چین اروناچل پردیش کو “جنوبی تبت” (South Tibet) قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق:

‎تاریخی طور پر یہ علاقہ تبتی مملکت کا حصہ تھا جو چین کے زیرِ اثر سمجھی جاتی تھی۔

‎چین بھارت کے یہاں تعمیراتی سرگرمیوں اور فوجی تعیناتی کو "غیر قانونی قبضہ" کہتا ہے۔

‎چین خاص طور پر تِوانگ کے علاقے کو اہم سمجھتا ہے، کیونکہ یہ تبتی بدھ مت کا ایک مقدس مرکز ہے اور 6ویں دلائی لامہ کا پیدائشی مقام بھی۔

‎چین گاہے بگاہے بھارت کے اعلیٰ رہنماؤں کے اروناچل پردیش کے دوروں پر اعتراض کرتا ہے اور اس خطے کے باشندوں کو کبھی کبھار "گہرہ ویزا" جاری کر کے اپنے دعوے کا اظہار کرتا ہے۔

‎1962 کی جنگ اور اس کے اثرات

‎اروناچل پردیش کا تنازعہ 1962 میں بھارت اور چین کے درمیان بڑی جنگ کا سبب بن چکا ہے۔ اس جنگ میں چین نے اروناچل پردیش کے بڑے حصے پر قبضہ کیا، لیکن پھر جنگ بندی کے بعد زیادہ تر علاقہ واپس چھوڑ دیا، البتہ اکسائی چن آج تک چین کے پاس ہے۔

‎1962 کی جنگ نے اس خطے کو مستقل حساس بنا دیا اور دونوں ممالک نے یہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھانی شروع کی۔

‎حالیہ کشیدگی اور سرحدی جھڑپیں

‎اگرچہ لداخ اور ڈوکلام جیسے علاقوں میں کشیدگی زیادہ رہی ہے، لیکن اروناچل پردیش میں بھی:

‎چینی فوج کی دراندازی کی متعدد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

‎کبھی کبھار دونوں افواج آمنے سامنے آ جاتی ہیں، تاہم عموماً حالات بڑے تصادم تک نہیں پہنچتے۔

‎دونوں ممالک سرحد پر فوجی انفراسٹرکچر میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں، جیسے سڑکیں، فضائی پٹیاں، اور چوکیوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔

‎2023–2025 کے درمیان بھی اس خطے میں کئی بار تناؤ کی خبریں آتی رہی ہیں، اور چین نے بھارت کی ریاست کے نام بدلنے یا نئے نقشے جاری کرنے پر سخت اعتراضات کیے۔

‎علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت

‎اروناچل پردیش نہ صرف جغرافیائی طور پر اہم ہے بلکہ:

‎یہاں سے چین کے تبت ریجن تک زمینی رسائی ممکن ہے۔

‎تِوانگ بدھ مت کے حوالے سے اہم معنوی مقام رکھتا ہے۔

‎بھارت کے شمال مشرقی علاقوں اور سیلک روٹس کی سکیورٹی اس خطے سے جڑی ہے۔

‎چین کے مطابق یہ علاقہ اس کے جنوب مغربی حفاظتی حصار کا حصہ ہے۔

‎اس اسٹریٹجک اہمیت کے باعث دونوں ممالک اس خطے میں بڑی رعایت دینے سے گریز کرتے ہیں۔

‎سفارتی کوششیں

‎گزشتہ کئی دہائیوں میں:

‎بھارت اور چین کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوئی ہے۔

‎دونوں ممالک نے LAC (Line of Actual Control) کا احترام کرنے اور تناؤ کم رکھنے کے معاہدے بھی کیے۔

‎تاہم اب تک کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔

‎دونوں ممالک اس تنازعے کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں، مگر زمینی حقائق اور اسٹریٹجک مفادات کی وجہ سے پیش رفت محدود دکھائی دیتی ہے۔

‎نتیجہ

‎اروناچل پردیش کا تنازعہ صرف سرحدی علاقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ بھارت اور چین کی بڑی جغرافیائی رقابت کا حصہ ہے۔

‎تاریخی معاہدے، ثقافتی وابستگیاں، فوجی اسٹریٹجی اور قومی مفادات اس تنازعے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ابھی تک دونوں ممالک کسی بھی قسم کی بڑی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں، جس کے باعث اروناچل پردیش ایک بار پھر ایشیا کی اہم ترین ہاٹ اسپاٹ کے طور پر موجود ہے۔

‎اگرچہ جنگ کا خطرہ نسبتاً کم ہے، لیکن کبھی بھی کوئی واقعہ صورتِ حال کو بگاڑ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ تنازعہ آئندہ برسوں تک جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کا اہم موضوع رہے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا