بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم خالدہ ضیا 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔



 بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور مرکزی سیاسی رہنما، خالدہ ضیا کے انتقال کے بارے میں ہو رہی ہے، جنہوں نے 80 سال کی عمر میں 30 دسمبر 2025 کی صبح انتقال کر دیا ہے۔ ان کی موت نے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے غم و دھوم کے احساسات پیدا کیے ہیں۔ 

‎خالدہ ضیا کون تھیں؟ — ایک مختصر تعارف

‎خالدہ ضیا 15 اگست 1946 کو پیدا ہوئیں اور بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک مضبوط اور متحرک شخصیت کے طور پر ابھریں۔ ان کی سیاسی زندگی اس وقت شروع ہوئی جب ان کے شوہر ضیاء الرحمان، جو بنگلہ دیش کے صدر اور فوجی لیڈر تھے، 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں شہید ہو گئے۔ اس کے بعد خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی قیادت سنبھالی اور ملک کی سیاست میں ایک طاقتور قوت بن گئیں۔ 

‎سیاسی سفر اور کامیابیاں

‎ پہلی خاتون وزیراعظم

‎خالدہ ضیا نے 1991 میں پہلی بار وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا، جس کے ساتھ وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ ان کی حکومت نے پارلیمانی نظام کو مضبوط کیا اور ملک میں جمہوری عمل کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ 

‎ دورِ حکومت

‎انہوں نے دو بار حکومت کی قیادت کی:

‎1991–1996

‎2001–2006

‎ان ادوار میں تعلیم، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور عوامی خدمات پر زور دیا گیا۔ ان کی پارٹی نے اقتصادی اصلاحات اور دیہی ترقی کے پروگرام بھی شروع کیے۔ 

‎طویل سیاسی جدوجہد

‎ شیخ حسینہ کے ساتھ حریفانہ سیاست

‎خالدہ ضیا کی سیاسی شناخت ان کی دیرینہ حریف، شیخ حسینہ، وزیراعظم اور عوامی لیگ پارٹی کی سربراہ کے ساتھ تعلق سے بھی منسلک رہی۔ دونوں قائدین نے دہائیوں تک بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک دوسرے کے ساتھ سخت مقابلہ کیا۔ 

‎ قانونی مسائل اور صحت

‎ان کے دورِ حکومت کے بعد انہیں اور ان کے خاندان کے دیگر اراکین پر بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، جن پر وہ ہمیشہ سیاسی سازش کا الزام لگاتی رہیں۔ 2018 میں انہیں کئی مقدمات میں سزا بھی ہوئی، مگر طبی مسائل کی وجہ سے بعد میں گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور بعد ازاں عدالت نے کچھ مقدمات میں انہیں بری بھی کیا۔ 

‎بیماری اور انتقال

‎ مدت دراز کی بیماری

‎خالدہ ضیا کافی عرصے سے مختلف بیماریوں کا علاج کر رہی تھیں، جن میں:

‎لفافے اور جگر کے مسائل (سروسس)

‎ذیابیطس

‎جوڑوں کا درد

‎دل اور سانس کے مسائل

‎شامل تھے۔ 

‎وہ 23 نومبر 2025 سے ایور کیئر ہسپتال، ڈھاکہ میں زیرِ علاج تھیں اور 11 دسمبر سے وینٹی لیٹر پر تھیں۔ ان کی حالت کافی نازک تھی اور ان کے علاج کے لیے ایک خصوصی طیارہ بھی لندن کے لیے تیار رکھا گیا تھا، مگر ان کی حالت کی نازکی کی وجہ سے وہ سفر نہ کر سکیں۔ 

‎ انتقال کا وقت

‎ان کے پارٹی ترجمان کے مطابق، خالدہ ضیا 30 دسمبر 2025 کو صبح 6 بجے (فجر کے فوراً بعد) انتقال کر گئیں۔ 

‎ملک اور عالمی ردعمل

‎🇧🇩 بنگلہ دیش میں سوگ

‎بنگلہ دیش میں قومی سطح پر غم و غروب کا ماحول ہے، اور حکومتی سطح پر بھی تعزیتی بیانات جاری کیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں لوگ ان کی خدمات کو یاد کر رہے ہیں اور تعزیت کر رہے ہیں۔ 

‎ عالمی قائدین کی تعزیت

‎عالمی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے خالدہ ضیا کو جمہوریت کی مضبوط حامی قرار دیا۔ مثال کے طور پر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے بیان میں ان کی خدمات کو سراہا اور تعزیت کا اظہار کیا۔ 

‎خالدہ ضیا کی میراث

‎خالدہ ضیا نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک طویل اور متحرک کردار ادا کیا۔ ایک طرف وہ پہلے خاتون وزیراعظم کی حیثیت سے ایک تاریخی مقام رکھتی ہیں، اور دوسری طرف وہ ایک مضبوط سیاسی رہنما تھیں جنہوں نے ملک کی جمہوری جدوجہد اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی زندگی میں سیاسی تنازعات، جمہوری حکمت عملی، اور عوامی خدمات کے حوالے سے بہت کچھ شامل ہے، جو بنگلہ دیش کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ 

‎ انیّا للّٰہی وانیّا الیہ راجعون — خالدہ ضیا کی وفات پر دلی تعزیت۔ ان کی خدمات اور سیاسی سفر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا