امریکہ نے شام میں داعش کے خلاف 'زبردست' حملہ کیا
امریکہ کی جانب سے شام میں داعش کے خلاف ایک بڑے حملے کا انعقاد ہوا، جس کو واشنگٹن نے جوابی کارروائی کے طور پر انجام دیا۔ اس کارروائی کا مقصد داعش کی بیسوں اور اس کی تنظیمی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچانا تھا۔
پس منظر: داعش اور شام میں امریکہ کی موجودگی
داعش، جسے عربی میں دولتِ اسلامیہ بھی کہا جاتا ہے، نے وسطی عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر 2014 میں اپنا کنٹرول قائم کیا تھا۔ اس کے خلاف امریکہ کی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد نے متعدد سال تک جنگ کی، جس کے نتیجے میں جماعت کا “خلافت” نما علاقائی کنٹرول ختم ہو گیا، مگر اس کے سلیے ہوئے خفیہ جھرمٹ (sleeper cells) اور دہشت گرد گروہ کی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں۔
اسی تناظر میں، شام میں امریکی فوج 2025 تک بھی داعش کو کمزور کرنے کے لیے موجود رہی، اتحادی مقامی فورسز کی تربیت اور شراکت کے ساتھ عسکری آپریشنز کرتی رہی، تاکہ داعش دوبارہ بڑے پیمانے پر خطرہ نہ بن سکے۔
حالیہ حملہ اور امریکی ردِ عمل
داعش کا حملہ
13 دسمبر 2025 کو شام کے تاریخی شہر پالمیرا کے قریب داعش کے ایک جنگجو نے امریکی اور شامی فورسز پر گولیوں کا حملہ کیا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہوئے، جبکہ چند افراد زخمی ہوئے۔ داعش سے وابستہ حملہ آور کو فوراً ہلاک کر دیا گیا۔
یہ واقعہ شام میں امریکی افواج پر سال بھر میں سب سے سنگین حملہ تھا، اور اس نے واشنگٹن میں سخت ردِ عمل کو جنم دیا۔
امریکہ کی ‘زبردست’ جوابی کارروائی
امریکی فوج نے 19–20 دسمبر 2025 کو داعش کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر فضائی اور زمین سے جوابی حملے کا آغاز کیا، جسے Operation Hawkeye Strike کا نام دیا گیا۔ اس میں امریکی لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، اور توپ خانہ استعمال ہوا اور **وسطی شام میں داعش کے **70 سے زائد اہداف (جیسے ٹھکانے، اسلحہ ڈپو، آپریشنل مراکز) کو نشانہ بنایا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے “انتقام کا اعلان” اور “بہت ہی سخت ردِ عمل” قرار دیا، اور واضح کیا کہ امریکہ داعش کو دوبارہ مضبوط ہونے نہیں دے گا۔
حملے کا مقصد اور حکمتِ عملی
1. داعش کی صلاحیت کو ختم کرنا
یہ حملہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ داعش کی تنظیمی صلاحیت کم کرنے اور ان کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے تھا۔ فضائی حملوں نے داعش کے انفراسٹرکچر، اسلحہ ذخائر، نقل و حمل کے راستے، اور جنگجووں کے ٹھکانے تباہ کیے۔
2. علاقائی تعاون اور شامی حکومت کی حمایت
حملوں کی منصوبہ بندی میں شامی حکومت کی مکمل حمایت شامل تھی، جو اس وقت اپنے نئے عبوری انتظامیہ کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف مل کر کام کر رہی ہے۔ اس تعاون نے کارروائی کی قانونی اور علاقائی حیثیت کو مضبوط بنایا۔
3. خطے کے اتحادیوں کے ساتھ رابطے
امریکہ نے اردنی جنگی طیاروں کی مدد بھی لی، جس سے خطے میں داعش کے خلاف اتحادی کارروائی کی سٹرٹیجک ہم آہنگی بڑھی۔
امریکی حکام کے بیانات
ڈفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ حملہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کر رہا بلکہ انتقام اور داعش کے خلاف فیصلہ کن اقدام ہے۔ انھوں نے کہا،
> “یہ جنگ کا آغاز نہیں، بلکہ انتقام کا اعلان ہے — ہم نے اپنے دشمنوں کا تعاقب کیا اور ان کو نشانہ بنایا ہے۔”
صدر ٹرمپ نے بھی بار بار کہا کہ
> “جو بھی امریکی فوجیوں پر حملہ کرے گا، اسے سخت ترین جواب ملے گا۔”
عالمی اور علاقائی ردِ عمل
شامی حکام کی حمایت
شامی عبوری حکومت نے امریکی حملوں کی حمایت کا اعلان کیا اور دہشت گردی کے خلاف اس مشترکہ کوشش کو اہم قرار دیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ شام میں اب علاقائی شراکت زیادہ فعال ہو رہی ہے۔
امریکہ اور بین الاقوامی اتحاد
امریکی نمائندے نے کہا کہ حملے کے بعد وہ داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے ساتھ مزید مربوط کارروائیاں کریں گے، تاکہ دہشت گرد گروہ کو ہر ممکن جگہ سے ختم کیا جا سکے۔
نتیجہ
امریکہ نے داعش کے خلاف شام میں جو حملہ کیا وہ زبردست جوابی کارروائی تھا، جس نے داعش کی کارروائیوں اور انفراسٹرکچر کو سخت نقصان پہنچایا۔ یہ حملہ نہ صرف امریکی فوجیوں پر حالیہ حملہ کا بدلہ تھا، بلکہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ بھی ہے جس کا مقصد ان دہشت گرد تنظیموں کو ہمیشہ کے لیے محدود کرنا اور علاقائی حفاظت کو مضبوط بنانا ہے۔

Comments