لیبیا کے جنرل کے گر کر تباہ ہونے والے طیارے سے بلیک باکس برآمد


 
لیبیا میں فوجی قیادت کو متاثر کرنے والے فضائی حادثے کے بعد تحقیقات میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ گر کر تباہ ہونے والے طیارے سے بلیک باکس مل گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بلیک باکس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ کیونکہ اس میں پرواز کے آخری لمحوں کی تکنیکی معلومات اور کاک پٹ کے اندر ہونے والی بات چیت ریکارڈ کی گئی ہوتی ہے۔

‎حادثہ چند روز قبل اس وقت پیش آیا جب لیبیا کے ایک سینئر جنرل کو لے جانے والا طیارہ بیرون ملک دورے سے واپسی کے دوران حادثے کا شکار ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارہ ایک غیر معمولی صورتحال کے بعد زمین سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جنرل سمیت جہاز میں سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچیں اور ملبے کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کیا گیا۔

‎لیبیا کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور فوجی حکام نے مشترکہ طور پر تصدیق کی ہے کہ بلیک باکس کو ملبے سے نکال لیا گیا ہے اور اسے محفوظ حالت میں متعلقہ تحقیقاتی ادارے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، تاہم ابتدائی نتائج حادثے کی اصل وجہ واضح کرنے میں مدد دیں گے۔

‎ماہرین کے مطابق بلیک باکس میں دو بنیادی حصے ہوتے ہیں: فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر۔ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر طیارے کی رفتار، بلندی، انجن کی کارکردگی اور دیگر تکنیکی عوامل کا ریکارڈ رکھتا ہے، جبکہ وائس ریکارڈر پائلٹس اور عملے کے درمیان ہونے والی گفتگو کو محفوظ کرتا ہے۔ انہی معلومات کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکے گا کہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا کسی انسانی غلطی، موسمی اثرات یا دیگر عوامل نے اس میں کردار ادا کیا۔

‎لیبیا کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات شفاف انداز میں کی جائیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو بین الاقوامی ماہرین کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے جنرل کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کی موت کے اسباب جاننا قومی مفاد میں ہے۔

‎ادھر حادثے کے بعد لیبیا کے مختلف شہروں میں سوگ کی فضا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت نے جنرل کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنرل کی ہلاکت نہ صرف فوج بلکہ ملک کی مجموعی سلامتی کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ کئی اہم آپریشنز اور فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

‎ہوابازی کے ماہرین نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلیک باکس کی برآمدگی ہمیشہ کسی بھی فضائی حادثے کی تحقیقات میں ایک مثبت قدم سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی کئی پیچیدہ حادثات کی وجوہات بلیک باکس کے ڈیٹا کی مدد سے سامنے آئیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا گیا۔

‎علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس حادثے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض ممالک نے لیبیا کو تعاون کی پیشکش کی ہے تاکہ تحقیقات جلد اور مؤثر انداز میں مکمل کی جا سکیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی ثابت ہوتی ہے تو اس سے لیبیا کی فوجی فضائی بیڑے کی دیکھ بھال اور حفاظتی معیارات پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

‎فی الحال تحقیقاتی ٹیمیں بلیک باکس کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ جائے حادثہ سے حاصل ہونے والے دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور سرکاری نتائج کا انتظار کریں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جلد جاری کر دی جائے گی، جس کے بعد حادثے کی اصل تصویر واضح ہو سکے گی۔

‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ فضائی سفر میں حفاظتی اقدامات کی اہمیت کتنی زیادہ ہے، خصوصاً فوجی اور وی آئی پی پروازوں میں، جہاں ذرا سی غفلت بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ بلیک باکس کی برآمدگی کو اس المناک حادثے کی گتھی سلجھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا