ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے نائجیریا میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف مہلک حملے شروع کر دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ امریکہ نے نائجیریا میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے خلاف منظم اور مؤثر فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مغربی افریقہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے اور علاقائی سلامتی کو بہتر بنانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ان حملوں کا مقصد داعش کے کمانڈ اور کنٹرول کے نظام کو متاثر کرنا، اس کے اہم رہنماؤں کو نشانہ بنانا، اور مقامی آبادی کو درپیش خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں مخصوص اہداف پر درست اور محدود نوعیت کے حملے کیے ہیں، جہاں داعش سے منسلک گروہ سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق کارروائیوں میں جدید انٹیلی جنس، نگرانی اور فضائی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا گیا ہے تاکہ عام شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی خطے میں انتہا پسند گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں قائم نہیں کرنے دے گا۔
نائجیریا میں داعش کی شاخ، جسے عموماً اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پرووِنس (ISWAP) کہا جاتا ہے، برسوں سے سکیورٹی فورسز اور شہری آبادی پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔ یہ گروہ خاص طور پر جھیل چاڈ کے اطراف اور بورنو ریاست کے بعض حصوں میں سرگرم رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس گروہ نے مقامی تنازعات، کمزور ریاستی کنٹرول اور معاشی مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی موجودگی مضبوط کی۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ سوال زیر بحث آ گیا ہے کہ آیا امریکی حملے اس تنظیم کی عملی صلاحیتوں کو واقعی محدود کر سکیں گے یا نہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں نائجیریا کی حکومت اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے تحت کی جا رہی ہیں۔ تاہم نائجیریا کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تفصیل سامنے نہیں آئی۔ بعض دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ماضی میں بھی افریقہ میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف محدود فضائی حملے اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کرتا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق پیچیدہ ہونے کے باعث دیرپا نتائج حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ممکنہ فضائی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور زور دیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی میں شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی نائجیریا پہلے ہی بے گھر افراد، خوراک کی قلت اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے، اس لیے کسی بھی عسکری سرگرمی کے انسانی اثرات پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ کارروائیاں “انتہائی درست” ہیں اور ان میں شہری نقصانات سے بچنے کے لیے سخت پروٹوکول اپنائے گئے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں ٹرمپ کے بیان کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے اور امریکہ کی عالمی قیادت کو مضبوط بناتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایسے بیانات کے ساتھ شفاف معلومات اور شواہد کا ہونا ضروری ہے تاکہ عالمی برادری کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ کچھ تجزیہ کاروں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ افریقہ میں سلامتی کے مسائل صرف فوجی طاقت سے حل نہیں ہوتے بلکہ گورننس، ترقی اور مقامی شراکت داری بھی اتنی ہی اہم ہیں۔
علاقائی سطح پر، مغربی افریقہ کے ممالک دہشت گردی کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ جھیل چاڈ بیسن کمیشن اور دیگر علاقائی فورمز کے ذریعے معلومات کے تبادلے اور مشترکہ آپریشنز کی بات کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر امریکی حملے علاقائی حکمت عملی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں تو ان کے اثرات زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر ٹرمپ کا یہ دعویٰ ایک بار پھر افریقہ میں دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی کردار کو بحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے حملوں کی تفصیل اور نتائج کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ نائجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک کو درپیش سلامتی کے چیلنجز پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ کارروائیاں داعش کے نیٹ ورک کو واقعی کمزور کرتی ہیں یا خطے میں استحکام کے لیے مزید جامع حکمت عملی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔

Comments