سعودی عرب نے علیحدگی پسندوں کے زیر قبضہ بندرگاہ پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے یمن سے نکل جانے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
سعودی عرب نے یمن میں علیحدگی پسندوں کے کنٹرول میں موجود ایک اہم بندرگاہ پر ہونے والے حملے کے بعد، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے یمن سے نکلنے کی اپیل کی حمایت کی ہے۔ اس واقعے سے خطے میں جاری تنازع کے دوران نئے سفارتی اور عسکری تناؤ کا آغاز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس پیش رفت کو یمن کی جنگ کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو واضح کرتا ہے بلکہ مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ اس بندرگاہ پر ہوا جو جنوبی یمن میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ کے کنٹرول میں ہے۔ یہ گروہ طویل عرصے سے جنوبی یمن کی خودمختاری یا علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے اور بعض مواقع پر اسے علاقائی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ حملے کے بعد یو اے ای کے خلاف شدید تنقید سامنے آئی اور یمنی حکومت کے حامی حلقوں نے الزام عائد کیا کہ اماراتی پالیسیوں نے یمن میں تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔
سعودی عرب، جو 2015 سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے، نے اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے یو اے ای سے یمن سے اپنے فوجی اور سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے بلکہ مکمل طور پر واپس لینے کے مطالبے کی حمایت کی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یمن کی وحدت اور خودمختاری کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی جو ملک کی تقسیم یا اندرونی انتشار کو بڑھا دے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاض اور ابوظہبی کے درمیان یمن کے معاملے پر پالیسی اختلافات وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے ابتدا میں ایک ہی مقصد کے تحت اتحاد قائم کیا تھا، یعنی حوثیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا، لیکن زمینی حقائق اور مقامی اتحادیوں کے انتخاب نے ان کے راستوں کو کسی حد تک جدا کر دیا ہے۔
یو اے ای نے حالیہ برسوں میں یمن کے جنوبی علاقوں میں اپنی موجودگی کو بتدریج کم کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود اسے جنوبی علیحدگی پسندوں کی سیاسی اور عسکری حمایت کا الزام دیا جاتا رہا ہے۔ اماراتی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ساحلی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ یمن کو تقسیم کرنا۔
بندرگاہ پر ہونے والے حالیہ حملے نے نہ صرف انسانی ہمدردی کے خدشات کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی تجارت اور بحیرۂ احمر کے ذریعے گزرنے والی شپنگ لائنز کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کی بندرگاہیں نہایت اہم جغرافیائی حیثیت رکھتی ہیں اور ان پر کسی بھی قسم کا عدم استحکام علاقائی معیشت اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری جانب، یمنی حکومت نے سعودی موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے غیر ملکی کردار کو قبول نہیں کرے گی جو ریاستی اداروں کو کمزور کرے یا علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت دے۔ حکومت کے ترجمان کے مطابق یمن کو اس وقت اتحاد اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت ہے، نہ کہ متوازی طاقت کے مراکز کی۔
حوثی باغیوں نے بھی اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سعودی اتحاد کے اندر اختلافات کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اختلافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیرونی مداخلت نے یمن میں امن کے بجائے افراتفری کو جنم دیا ہے۔ تاہم سعودی عرب اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا ہدف اب بھی سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہے۔
بین الاقوامی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقائی طاقتوں کے درمیان ہم آہنگی مزید کمزور ہوئی تو امن مذاکرات کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب کی جانب سے یو اے ای کے انخلا کے مطالبے کی حمایت یمن تنازع میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔ یہ قدم ایک طرف یمن کی وحدت کے حامی حلقوں کے لیے تقویت کا باعث ہے، تو دوسری جانب اس سے اتحاد کے اندر توازنِ قوت اور مستقبل کی عسکری حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ اختلافات سفارتی سطح پر حل ہو پاتے ہیں یا یمن کا بحران ایک اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔

Comments