ڈار، سعودی ہم منصب نے ’موجودہ علاقائی صورتحال اور حالیہ پیش رفت‘ پر تبادلہ خیال کیا: دفتر خارجہ


 
اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیرداخلہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورت حال، نئی پیش رفت، اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر مفصل طورپر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے وزارت خارجہ کے مطابق، بات چیت کا مرکز مشرق وسطیٰ اور اس سے وسیع تر علاقے میں امن و استحکام کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال، انسانی بحرانوں اور سفارتی اقدامات پر رہا۔

‎دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی کشیدگی میں کمی، تنازعات کے پرامن حل اور سفارت کاری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں تحمل، مکالمے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری انتہائی اہم ہے، تاکہ عام شہریوں کو درپیش مشکلات کم کی جا سکیں اور خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔

‎گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ، برادرانہ اور اسٹریٹجک تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی چیلنجز کے حوالے سے ہم خیال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی قیادت کی جانب سے خطے میں امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

‎سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے جو مشکل حالات میں اعتدال اور ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور مشاورت کو ناگزیر قرار دیا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے دوچار ہے۔

‎دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو میں غزہ اور مشرق وسطیٰ میں انسانی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی قانون کی پاسداری کو یقینی بنائے اور متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

‎علاوہ ازیں، دونوں رہنماؤں نے مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے پلیٹ فارم کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی کو موجودہ بحرانوں میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مسلم ممالک کی اجتماعی آواز عالمی سطح پر مؤثر انداز میں سنی جا سکے۔

‎پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط باقاعدگی سے جاری ہیں، جو باہمی اعتماد اور قریبی تعاون کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت اور دفاعی شعبوں میں جاری اور مجوزہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں ان شعبوں میں مزید پیش رفت ہوگی۔

‎شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان قریبی رابطہ اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت پاکستان کے لیے سرمایہ کاری اور تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، جن سے دونوں ممالک مستفید ہو سکتے ہیں۔

‎دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق، گفتگو کے اختتام پر دونوں وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے آئندہ بھی قریبی رابطے میں رہنے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

‎سیاسی مبصرین کے مطابق، اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطہ مختلف محاذوں پر کشیدگی کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کے درمیان مشاورت کو خطے میں سفارتی توازن اور امن کی کوششوں کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کا مشترکہ مؤقف اور تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا