ریکارڈ بیک لاگز کی وجہ سے سوشل سیکیورٹی میں لاکھوں کی تاخیر ہوئی: رپورٹ
ایک تازہ رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ سوشل سیکیورٹی نظام میں بے مثال بیک لاگ کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو ادائیگیوں، فوائد اور درخواستوں کے منظور ہونے میں بڑی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال بزرگ شہریوں، معذور افراد اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی مسائل میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ یہ تاخیر صرف انتظامی ناکامیوں کی علامت نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل اور پرانی نظام کی وجہ سے ایک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل سیکیورٹی دفاتر میں زیر التوا درخواستوں اور اپیلوں کی تعداد حالیہ برسوں میں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ بعض معاملات میں لوگوں کو اپنے فوائد کے حصول کے لیے کئی مہینوں甚至 کہ ایک سال سے زائد انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر معذوری کے فوائد (ڈس ایبیلٹی بینیفٹس) کے کیسز میں تاخیر سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے، جہاں طبی جانچ، دستاویزی تصدیق اور سماعتوں کے مراحل میں وقت لگ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بحران کی ایک بڑی وجہ عملے کی کمی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں بجٹ کی پابندیوں اور ریٹائرمنٹ کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث سوشل سیکیورٹی اداروں میں ملازمین کی تعداد کم ہوتی گئی، جبکہ درخواست دہندگان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا۔ آبادی کے بوڑھا ہونے کے ساتھ زیادہ لوگ پنشن اور دیگر فوائد کے لیے اہل ہو رہے ہیں، جس نے نظام پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کووڈ-19 وبا کے دوران دفاتر کی بندش اور محدود سرگرمیوں نے بیک لاگز میں نمایاں اضافہ کیا۔ اگرچہ اب بیشتر دفاتر دوبارہ کھل چکے ہیں، مگر وبا کے دوران جمع ہونے والی درخواستوں کو نمٹانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ، آن لائن نظام اور ڈیجیٹل سہولیات میں تکنیکی خامیاں بھی تاخیر کا سبب بن رہی ہیں، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل مہارتوں سے محروم ہیں۔
سوشل سیکیورٹی کے فوائد پر انحصار کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر ان کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔ کئی بزرگ شہریوں کو علاج، ادویات اور کرایہ ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ معذور افراد کے لیے آمدنی کا واحد ذریعہ یہی فوائد ہوتے ہیں۔ کچھ درخواست دہندگان نے بتایا کہ انہیں قرض لینے یا خیراتی اداروں سے مدد مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کیا جا رہا ہے اور بیک لاگز کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں نئے ملازمین کی بھرتی، عملے کی تربیت میں اضافہ، اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا شامل ہے۔ حکام کے مطابق خودکار نظام (آٹومیشن) کے ذریعے بعض سادہ کیسز کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے، تاہم پیچیدہ کیسز کے لیے انسانی جانچ اب بھی ناگزیر ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور فوری و جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ، جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر کی تنصیب، اور عملے کے لیے بہتر مراعات کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو سکے گا۔ بعض سماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر عارضی فوائد فراہم کیے جائیں تاکہ انتظار کرنے والے افراد کو کم از کم بنیادی مالی سہارا مل سکے۔
رپورٹ میں قانون سازوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بعض اراکین پارلیمنٹ نے سوشل سیکیورٹی نظام کی بہتری کے لیے قانون سازی اور اضافی فنڈز کی منظوری کا وعدہ کیا ہے، جبکہ دیگر نے انتظامی اصلاحات پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی اتفاق رائے نہ ہوا تو بیک لاگز کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر رپورٹ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ سوشل سیکیورٹی میں تاخیر محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی و معاشی بحران ہے، جس کے اثرات لاکھوں خاندانوں پر پڑ رہے ہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مستقبل میں مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس سے عوام کا اعتماد بھی مجروح ہونے کا خدشہ ہے۔

Comments