سعودی عرب کے یمن پر حملے کے بعد متحدہ عرب امارات نے علیحدگی پسندوں کی حمایت مسترد کردی


 
‎سعودی عرب کی جانب سے یمن پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد اس خطے میں سیاسی اور سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے یمن میں کام کر رہے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت کے الزامات کو سختی سے ماننے سے انکار کیا ہے۔ اماراتی حکام بیان کرتے ہیں کہ ان کا نقطہنظر یمن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی حل کی ترقی پر مرکوز ہے۔اور وہ کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتے جو ملک کو مزید تقسیم کی طرف لے جائے۔

‎سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں، جن کا مقصد سعودی سرزمین پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دینا بتایا جا رہا ہے۔ ریاض کا مؤقف ہے کہ حوثی ملیشیا ایران کی پشت پناہی سے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ان حملوں کے بعد یمن کے جنوبی علاقوں میں سیاسی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی، جہاں جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سمیت مختلف علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں۔

‎ماضی میں یہ تاثر پایا جاتا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات جنوبی یمن میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرتا رہا ہے، خصوصاً عدن اور اس کے نواحی علاقوں میں۔ تاہم حالیہ بیانات میں یو اے ای نے واضح کیا ہے کہ وہ یمن میں کسی ایک فریق کی عسکری یا سیاسی بالادستی کی حمایت نہیں کرتا۔ اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق، یو اے ای کی ترجیح انسانی امداد، انسداد دہشت گردی اور سیاسی مفاہمت ہے، نہ کہ داخلی تقسیم کو ہوا دینا۔

‎سیاسی مبصرین کے مطابق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے مسئلے پر ماضی میں حکمت عملی کے فرق ضرور رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک مجموعی طور پر حوثیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور ایران کے بڑھتے ہوئے کردار کو روکنے پر متفق ہیں۔ یو اے ای کی جانب سے علیحدگی پسندوں کی حمایت کی تردید کو اسی وسیع تر سفارتی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ خلیجی ممالک یمن کے بحران کا حل سیاسی عمل کے ذریعے چاہتے ہیں۔

‎یمن کے اندرونی حالات اس وقت انتہائی پیچیدہ ہیں۔ ایک طرف حوثی تحریک شمالی علاقوں میں مضبوط کنٹرول رکھتی ہے، تو دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو جنوبی علاقوں میں مختلف گروہوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جنوبی عبوری کونسل کی خودمختاری کی خواہش اور مقامی سطح پر اس کی حمایت نے یمن کی وحدت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسے میں یو اے ای کا یہ کہنا کہ وہ کسی علیحدگی پسند ایجنڈے کی پشت پناہی نہیں کرتا، ایک اہم سفارتی بیان تصور کیا جا رہا ہے۔

‎انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حالیہ سعودی حملوں کے بعد تشویش کا اظہار کیا ہے اور شہری آبادی کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، یمن پہلے ہی دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یو اے ای کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں انسانی امداد فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور اس کی کوششیں جنگ کے اثرات کو کم کرنے پر مرکوز ہیں۔

‎علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو خلیج میں اتحاد اور ہم آہنگی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ یمن کا بحران فوجی حل سے زیادہ سیاسی مفاہمت کا متقاضی ہے۔ اسی لیے یو اے ای نے بارہا مذاکرات، جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے امن عمل کی حمایت کی ہے۔

‎ماہرین کے مطابق، علیحدگی پسندوں کی حمایت سے انکار دراصل یو اے ای کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کی عکاسی بھی کرتا ہے، جس میں براہ راست عسکری کردار کے بجائے سفارتی اور اقتصادی اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

‎آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے یمن پر حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کا علیحدگی پسندوں کی حمایت سے انکار ایک اہم سیاسی اشارہ ہے۔ یہ بیان خطے میں جاری قیاس آرائیوں کو کم کرنے اور یہ واضح کرنے کی کوشش ہے کہ خلیجی ممالک یمن میں استحکام، وحدت اور دیرپا امن کے خواہاں ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اور مختلف فریقوں کے مفادات کو دیکھتے ہوئے یہ راستہ آسان نہیں، اور آنے والے دنوں میں سفارتی کوششوں کی کامیابی ہی یمن کے مستقبل کا تعین کرے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا