ایران نے ٹرمپ کے نئے حملوں کی دھمکی کے تناظر میں 'سخت' ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔
ایران نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئے حملوں کی دھمکیوں کے جواب میں “سخت اور موثر” ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کے حکام نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب فوراً، مناسب طور پر اور ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو خطے میں عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران دھمکیوں کی زبان کو مسترد کرتا ہے اور ایسے بیانات بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دی ہے، تاہم اگر اس کی خودمختاری، سلامتی یا مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو “سخت ردِعمل” ناگزیر ہوگا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایران دفاعی صلاحیتوں میں خودکفیل ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کی مکمل تیاری رکھتا ہے۔
ایرانی عسکری قیادت نے بھی اسی نوعیت کے بیانات دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات پر نظر رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق کسی بھی حملے کی صورت میں ردِعمل صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، مگر دفاع کے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں سے منسوب بیانات میں کہا جا رہا ہے کہ ایران کو اس کے علاقائی کردار اور بعض مبینہ سرگرمیوں پر “سخت پیغام” دینا ضروری ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں انتخابی سیاست کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں، جن کا مقصد داخلی سطح پر حمایت حاصل کرنا یا مخالفین پر دباؤ ڈالنا ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کے دورِ صدارت کے دوران ایران کے ساتھ تعلقات انتہائی کشیدہ رہے، جن میں جوہری معاہدے سے امریکا کی یکطرفہ علیحدگی اور سخت اقتصادی پابندیاں شامل تھیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ خلیج فارس میں توانائی کی اہم گزرگاہیں، عراق اور شام میں موجود مختلف مسلح گروہ، اور اسرائیل کی سلامتی جیسے عوامل کسی بھی ممکنہ تصادم کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر براہِ راست فوجی کارروائی نہ بھی ہوئی تو پراکسی تنازعات میں شدت آ سکتی ہے، جس سے علاقائی استحکام مزید کمزور ہوگا۔
یورپی ممالک اور اقوامِ متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پسِ پردہ رابطے جاری ہیں تاکہ صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، اس لیے کسی نئے تنازع کی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق بات چیت اور سفارت کاری ہی دیرپا حل ہے۔
ایران کے اندرونی سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ اصلاح پسند عناصر کا مؤقف ہے کہ سخت بیانات کے ساتھ ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنا ضروری ہے تاکہ عالمی تنہائی سے بچا جا سکے۔ اس کے برعکس قدامت پسند حلقے زور دیتے ہیں کہ امریکا کی زبان صرف طاقت سے سمجھ آتی ہے اور کسی بھی کمزوری کا فائدہ اٹھایا جائے گا۔ عوامی سطح پر اگرچہ معاشی دباؤ اور پابندیوں کے باعث بے چینی پائی جاتی ہے، تاہم قومی سلامتی کے معاملات پر اکثریت سخت مؤقف کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتے اس حوالے سے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوئے تو صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔ تاہم اگر فریقین دباؤ کے باوجود مذاکرات یا ثالثی کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کشیدگی میں کمی کا امکان بھی موجود ہے۔ فی الحال ایران کا “سخت ردِعمل” کا انتباہ واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ حملے کو برداشت نہیں کرے گا، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ بحران الفاظ کی حد تک رہے گا یا عملی تصادم کی شکل اختیار کرے گا۔

Comments