ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ خلیج میں امریکی فوج کی تشکیل کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے 'وقت ختم ہو رہا ہے'



 یہ کہنا کہ "ایران کے لیے جوہری معاہدے کا وقت ختم ہو رہا ہے" بس ایک سفارتی انتباہ نہیں، اس میں طاقت کا بھی پیغام ہے، دباؤ ہے، اور خطے میں بدلتے رشتوں کا عندیہ بھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب خلیج میں امریکی فوج کی نئی تعیناتی کے ساتھ یہ وارننگ دیتے ہیں تو پس منظر یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی، خوف اور بے اعتمادی میں لپٹا ہوا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کیا کہنا چاہتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ امریکہ، ایران اور پورا خطہ اب کس طرف جا رہا ہے۔


ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ سے "پریشر کے ذریعے ڈیل" کے اصول پر چلتی آئی ہے۔ ان کے نزدیک مذاکرات تبھی کامیاب ہوتے ہیں، جب سامنے والے کو یہ یقین ہو جائے کہ انکار کی قیمت بہت بھاری ہے۔ یہی حکمت عملی وہ ایران کے معاملے میں بھی آزما رہے ہیں۔ امریکی جنگی جہاز، جدید طیارے اور دفاعی سسٹم خلیج میں کھڑے ہو کر تہران کو یہ بتا رہے ہیں کہ واشنگٹن مذاکرات کے ساتھ ساتھ طاقت کا آپشن بھی رکھتا ہے۔


یہ وارننگ ایران کے لیے معمولی نہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی سخت معاشی پابندیوں، اندرونی مسائل اور عوامی بے چینی سے گزر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل بار بار کہتا ہے کہ وہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دے گا۔ ایسے ماحول میں امریکی دباؤ تہران کو ایک کڑے موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔ ایران کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو وہ سخت شرائط کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی طرف جائے، یا پھر مزید تنہائی، دباؤ اور ممکنہ فوجی تصادم کا رسک لے۔


ٹرمپ کا یہ موقف بھی اہم ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کو کمزور اور یکطرفہ سمجھتے آئے ہیں۔ ان کی نظر میں ایران نے اس معاہدے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں اپنی سرگرمیاں کم نہیں کیں، بلکہ یمن، شام، لبنان اور عراق میں اثر و رسوخ بڑھایا۔ اسی لیے اب وہ ایسے معاہدے کے خواہش مند ہیں جو صرف یورینیم کی افزودگی تک محدود نہ ہو، بلکہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں کردار کو بھی روک سکے۔ سوال یہ ہے، کیا ایران ایسی شرائط مانے گا؟


تہران کی قیادت اب تک یہی تاثر دیتی آئی ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر مذاکرات نہیں کرے گی۔ ان کے مطابق امریکہ نے پہلے معاہدہ توڑا، پابندیاں لگائیں، اور اب نئی شرائط تھوپنا چاہتا ہے۔ ایرانی قیادت اسے قومی وقار اور خودمختاری کا مسئلہ سمجھتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کی معیشت دباؤ میں ہے، عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، اور اس صورت میں قیادت کے لیے مکمل انکار کرنا بھی آسان نہیں رہا۔


خلیج میں امریکی فوج کی موجودگی خطے کے باقی ملکوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔ سعودی عرب، یو اے ای اور دوسری ریاستیں ایک طرف امریکی حمایت پر انحصار کرتی ہیں، دوسری طرف کسی بڑی جنگ کے انجام سے ڈرتی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے براہ راست ٹکراؤ کی صورت میں سب سے زیادہ خطرہ انہی ملکوں کو ہے، جہاں تیل، تجارت اور آبادیاں سب کچھ خطرے میں آ جائے گا۔


پاکستان کے لیے بھی یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، اور خلیج میں کسی بھی جنگ کا اثر پاکستان تک ضرور پہنچے گا۔ توانائی، تجارت اور علاقائی استحکام ہمارے اہم مفادات ہیں، اسی لیے اسلام آباد ہمیشہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات پر زور دیتا آیا ہے۔ لیکن ٹرمپ کا سخت لہجہ اور فوجی دباؤ سفارتی توازن کو مشکل بنا سکتے ہیں۔


اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ وارننگ واقعی جنگ کا آغاز ہے، یا صرف ایران کو مذاکرات کی طرف لانے کا ایک طریقہ؟ ٹرمپ کی پچھلی سیاست دیکھیں تو وہ اکثر سخت بیانات اور طاقت کا مظاہرہ سودے بازی کے لیے کرتے رہے ہیں۔ مگر مشرق وسطیٰ ایسا خطہ ہے جہاں ایک غلطی، ایک جذباتی فیصلہ، یا کوئی چھوٹا واقعہ بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔


آخر میں، "وقت ختم ہو رہا ہے" صرف ایران ہی نہیں، امریکہ کے لیے بھی انتباہ ہے۔ اگر دونوں نے سفارت کاری کا مکمل استعمال نہ کیا تو اس کا خمیازہ صرف واشنگٹن یا تہران نہیں، پورا خطہ بھگتے گا۔ ایک نیا معاہدہ، چاہے جتنا بھی مشکل ہو، جنگ سے بہتر ہے۔ سوال یہ ہے، کیا طاقت کی زبان امن لا سکتی ہے؟ یا پھر یہ وارننگ تاریخ میں ایک اور خطرناک موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے گی؟

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا