حکومت صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔
جمہوریت اپنی اصل حقیقت کو صحافت کی آزادی اور بے خوفیت کی حالت میں جاری رہنے سے دریافت کرتی ہے۔ صحافتی کام اس وقت الكامل برباد ہوتا ہے جب صحافتی کام دباؤ میں آتا ہے اور صحافی اپنی زندگی کے بارے میں خوف کھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے خطے میں صحافت ایک ایسا پیشہ بن چکا ہے جہاں خطرات پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دھمکیاں، ہراسانی، تشدد، اغوا اور حتیٰ کہ قتل—یہ سب وہ تلخ حقیقتیں جن کا سامنا صحافی روزانہ کرتے ہیں۔
صحافت محض خبر رسانی نہیں بلکہ عوامی مفاد کی نگہبانی ہے۔ صحافی اپنے سوالات کے ذریعے طاقتور طبقوں کو جوابدہی کی حالت میں لاتے ہیں جب وہ بدعنوانیوں کو دکھاتے ہیں اور عوام کو پالیسیوں کے اثرات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دبانے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں۔ صحافی کو اگر خوف آ جائے تو وہ احتساب کا عمل بڑھا لینے کے لیے سچائی کے ساتھ پروپیگنڈا اور جھوٹ جھوٹ کو پیش کرنے والے پھیلائے جاتے ہیں۔ اس کا نقصان صرف صحافی کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ہوتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے واضح، مضبوط اور قابلِ عمل پالیسی بنائے۔ سب سے پہلے تو صحافیوں کے خلاف جرائم کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ بیشتر حملوں کے بعد لوگ مقدمات درج کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ کسی پیشرفت کو دیکھ نہیں پاتے۔ نتیجتاً مجرم بے خوف رہتے ہیں اور حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انصاف میں تاخیر دراصل ناانصافی ہے، اور یہی تاخیر تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے۔
قانون سازی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مخصوص قوانین بنائے جائیں جن میں ہراسانی، دھمکی اور تشدد کے خلاف سخت سزائیں مقرر ہوں۔ ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے خصوصی پراسیکیوشن یونٹس اور فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ کیسز برسوں لٹکنے کے بجائے بروقت نمٹ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اور تفتیشی اداروں کو صحافیوں کے حقوق اور پیشہ ورانہ تقاضوں سے آگاہ کرنے کی باقاعدہ تربیت بھی ضروری ہے۔
ڈیجیٹل دور میں خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ آن لائن ہراسانی، ٹرولنگ، ڈوکسنگ اور نفرت انگیز مہمات صحافیوں کے لیے ایک نیا محاذ ہیں۔ حکومت کو سائبر قوانین کو اس انداز میں نافذ کرنا ہوگا کہ آزادیٔ اظہار متاثر نہ ہو مگر ہراسانی کرنے والوں کو کھلی چھوٹ بھی نہ ملے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ تعاون کر کے شکایات کے ازالے کا تیز اور شفاف نظام بنایا جا سکتا ہے۔
میڈیا اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ میڈیا ہاؤسز کے ساتھ مل کر سیفٹی پروٹوکولز بنائے، خاص طور پر تنازعات اور حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے۔ حفاظتی تربیت، انشورنس کوریج، اور ہنگامی مدد کے نظام کو فروغ دیا جائے۔ فیلڈ میں کام کرنے والے رپورٹرز اور کیمرہ پرسنز کے لیے حفاظتی سازوسامان کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔
صحافیوں کی معاشی سلامتی بھی تحفظ ہی کا حصہ ہے۔ کم تنخواہیں، تاخیر سے ادائیگیاں اور ملازمت کا عدم تحفظ صحافی کو دباؤ میں رکھتا ہے۔ جب روزگار غیر محفوظ ہو تو آزادیٔ اظہار بھی کمزور پڑتی ہے۔ حکومت کو میڈیا انڈسٹری کے ساتھ مل کر لیبر قوانین پر عمل یقینی بنانا چاہیے تاکہ صحافی باعزت اور محفوظ روزگار پا سکیں۔
بین الاقوامی تجربات سے سیکھنا بھی مفید ہوگا۔ کئی ممالک نے جرنلسٹ سیفٹی کمیشنز، ہیلپ لائنز اور رسپانس میکانزم قائم کیے ہیں۔ ایسے ماڈلز کو مقامی حالات کے مطابق اپنایا جا سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر، حکومت کو یہ پیغام واضح طور پر دینا ہوگا کہ صحافیوں پر حملہ ریاست پر حملہ سمجھا جائے گا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صحافیوں کا تحفظ کسی ایک طبقے کا مطالبہ نہیں بلکہ جمہوریت کی بقا کی شرط ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں صحافی محفوظ ہوں، وہی معاشرہ باشعور، باخبر اور مضبوط ہوتا ہے۔ پاکستان میں اگر ہم واقعی ایک جمہوری، شفاف اور جوابدہ نظام چاہتے ہیں تو صحافیوں کے تحفظ کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بنانا ہوگا۔ حکومت کے بروقت، سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات ہی اس اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں جو وقت کے ساتھ مجروح ہوا ہے۔

Comments