ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی مذاکرات سے قبل جوہری معاہدہ 'پہنچ کے اندر' ہے۔


جب امید اور تشویش ایک ساتھ چلتی ہیں. 
‎تہران سے آنے والی یہ خبر کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکا سے مذاکرات سے قبل ہی "پہنچ کے اندر" ایک معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے، دراصل ایک پیچیدہ سیاسی منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے. یہ بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے دیا گیا جو ایک سفارت کار کے ساتھ 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے کے اہم معماروں میں سے ایک بھی ہیں. 
‎"پہنچ کے اندر" — لفظوں کے پیچھے کیا ہے؟ 
‎جب عراقچی کہتے ہیں کہ معاہدہ "پہنچ کے اندر" ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ طے پا گیا ہے. یہ ایک سفارتی اصطلاح ہے جو یہ بتاتی ہے کہ بنیادی ڈھانچہ تیار ہے لیکن ابھی کئی تفصیلات ایسی ہیں جن پر اتفاق رائے درکار ہے. یہ ایسی صورت ہے جس میں گھر کا تعمیراتی نقشہ مکمل ہو چکا ہے لیکن دیواروں پر ابھی تک پلستر کام باقی ہے.
‎ایران کی یہ پیش قدمی دراصل ایک حکمت عملی ہے. وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بھی کہ وہ بغیر کسی شرط کے میز پر نہیں بیٹھیں گے. یہ "پہلے شرطیں پھر مذاکرات" کا رویہ نہیں بلکہ "ہم تیار ہیں لیکن ہماری تیاری کا مطلب کمزوری نہیں" کا رویہ ہے.
‎امریکا کی دو راہی
‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ اب بھی ایک معمہ ہے. انہوں نے حالیہ بیانات میں "ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے" کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بات کہی ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی آپشن بھی موجود ہے. اس پالیسی میں "شہد کی چھڑی اور گاجر" پالیسی شامل ہے جو امریکی سفارت کاری کی ایک پرانی روایت ہے.
‎ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی اختلافات نظر آتے ہیں۔ کچھ حلقے سخت پابندیوں پر زور دیتے ہیں، جبکہ دوسرے معتدل راستے کے حامی ہیں۔ ایران کا یہ بیان دراصل ان معتدل حلقوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ "آؤ بات کریں، ہم تیار ہیں"۔
‎علاقائی کھیل میں نئے کھلاڑی
‎اس مذاکراتی منظرنامے میں صرف ایران اور امریکا ہی نہیں، بلکہ علاقائی طاقتیں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا نیا معاہدہ 2015 والے سے مختلف ہوگا۔ ان دونوں ممالک کا خدشہ یہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر نرم رویہ علاقائی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔
‎دوسری طرف، چین اور روس، جو 2015 کے معاہدے کے شریک تھے، اب بھی ایران کے اہم اتحادی ہیں۔ وہ امریکا پر یہ دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ one-sided معاہدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ایران کا "پہنچ کے اندر" والا بیان ان طاقتوں کی حمایت کا بھی مظہر ہے۔
‎عوام کی امیدیں اور خدشات
‎تہران کی سڑکوں پر عام ایرانیوں کے لیے یہ خبریں اہم ہیں۔ 2015 کے معاہدے کے بعد جو معاشی راحت ملی تھی، اس کے ختم ہونے سے عام لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ اب پھر سے امید کی ایک کرن نظر آتی ہے، لیکن تجربہ نے انہیں احتیاطی بھی بنا دیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سفارتی بیانات اور حقیقی تبدیلی میں فرق ہوتا ہے۔
‎ایران کے اندر بھی سخت گیر اور معتدل حلقوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ عراقچی کا بیان دراصل اس اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہے — وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن یہ بات چیت بغیر شرم و حیا کے نہیں۔
‎کیا آنے والا ہے؟
‎مستقبل کے بارے میں کوئی یقینی پیش گوئی مشکل ہے، لیکن کئی امکانات نظر آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مختصر مدت میں کوئی بڑا معاہدہ ہو جائے، لیکن یہ امکان کم ہے کیونکہ دونوں طرف کے موقف میں ابھی فرق ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ مرحلہ وار معاہدہ ہو، جس میں پہلے کچھ پابندیاں ہٹائی جائیں اور پھر مزید مذاکرات ہوں۔
‎تیسرا اور تشویشناک امکان یہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خطے میں پہلے ہی کئی بحران ہیں — یمن، شام، لبنان — اور ایران کے جوہری مسئلے میں کوئی نیا بحران ان سب کو متاثر کر سکتا ہے۔
‎ایک انسانی نظریہ
‎آخر میں، یہ ساری سفارتی چالوں اور بیانات کے پیچھے انسان ہیں — ایرانی جو معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، امریکی جو اپنے سپاہیوں کی واپسی چاہتے ہیں، اور خطے کے وہ لوگ جو ایک اور جنگ نہیں دیکھنا چاہتے۔ عراقچی کا "پہنچ کے اندر" والا بیان دراصل انسانوں کی امید کی عکاسی ہے کہ شاید سیاستدان اس بار بہتر فیصلہ کریں گے۔
‎لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جوہری معاہدے آسان نہیں ہوتے۔ 2015 کا معاہدہ سالوں کی محنت کا نتیجہ تھا، اور اس کی ٹوٹنے میں صرف ایک فیصلہ درکار تھا۔ اب اگر نیا معاہدہ ہونا ہے، تو دونوں طرفوں کو سمجھوتے کے لیے تیار ہونا ہوگا — اور یہ سب سے مشکل حصہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا