مودی کا اسرائیل دورہ پاکستان کی سلامتی کا نیا تناظر
تاریخی پس منظر اور جیو پولیٹیکل اہمیت
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا اسرائیل دورہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کی لکیروں کو دوبارہ کھینچنے والا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔اس دورے نے دو طرفہ ملاقات کے علاوہ اپنے آپ میں ایک سیاسی دستاویز تیارکی جو موجودہ صورتحال میں موجود علاقائی سیاسی دائرے کے درمیان تنازعہ کو بیان کرتی۔جب مودی تل ابیب کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو یہ بھارت کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت کا واضح اعلان تھا جس کے گہرے اثرات پاکستان کی سلامتی اور علاقائی توازن پر پڑتے ہیں
حالیہ دورانیے میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے اندر داخل ہوئے ایک نئے دور کو مزید بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے
دفاعی تعاون انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کے شعبوں میں یہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جاری ہونے والے .ہندوستان اسرائیل کے ساتھ جدید ہتھیاروں کے ڈرون ٹیکنالوجی سائبر سیکیورٹی اور جاسوسی آلات کی فروخت کے ذریعے اپنی اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔اس میدان میں تمام شعبے پاکستان کے دفاعی نظام پر براہ راست اثرات ڈالتے ہیں
پاکستان کے لیے سلامتی کے چیلنجز
پاکستان نسٹ اظہار کرتا ہے اپنی تعلقات کی استعمال کو موجودہ دوستی کے حالات سے پاکستان کو اپنے تعلقات کے اندر چیلنجز چل رہے ہیں پاکستان کے کمدور ہونے والے دوستوں کی نظر میں ان کے مخصوص مواقع پر پاکستان کو دوستی دکھانے کی ضرورت بڑھتی ہے.پہلی اور سب سے اہم بات یہ کہ بھارت کی اسرائیل سے ملنے والی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی براہ راست لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے لیے نئے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔اسرائیلی بنائے گئے ہتھیاروں اور سرویلنس سسٹمز کی موجودگی بھارتی فوجی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ اسرائیل اور بھارت کا مشترکہ مفاد پاکستان میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیوں کا بہانا بنایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں تعاون کا یقین دلاتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ تعاون اکثر پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور بغیر اجازت کارروائیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
خطے میں طاقت کا نیا توازن
مودی کا اسرائیل دورہ خطے میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ جب ایک طرف پاکستان چین کے ساتھ گہرے دفاعی اور اقتصادی تعلقات استوار کرتا ہے، تو دوسری طرف بھارت اسرائیل اور امریکہ سے قربت بڑھا کر اس توازن کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ نئی "محور بندی" جنوبی ایشیا کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کرتی نظر آتی ہے، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسرائیل کی موجودگی بھارت میں اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل اب براہ راست جنوبی ایشیا تک پھیل رہے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ، جو روایتی طور پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہا ہے، اب بھارت اسرائیل تعلقات کے تناظر میں ایک نئے زاویے سے دیکھا جانے لگا ہے۔
اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل اثرات
مودی کے دورے میں اقتصادی معاہدوں پر بھی بات چیت ہوئی، جس میں زرعی ٹیکنالوجی، پانی کے انتظام اور آئی ٹی کے شعبے شامل ہیں۔ اسرائیل کی خشک سالی سے نمٹنے کی ٹیکنالوجی اور پانی کے زیر زمین ذخائر تک رسائی کی تکنیک بھارت میں استعمال ہونے لگی ہے۔ یہ بات پاکستان کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ پانی کے تنازعات پہلے ہی دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم مسئلہ ہیں۔ اگر بھارت پانی کے ذخائر کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ پاکستان کے آبی حقوق پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟
مودی کے اسرائیل دورے کے بعد پاکستان کو اپنی سلامتی کی حکمت عملی پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھائے، خاص طور پر سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید سرویلنس سسٹمز میں۔ چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ اس تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر زیادہ فعال ہونا ہوگا۔ اسرائیل بھارت تعلقات کے جواب میں، پاکستان کو نہ صرف چین بلکہ دیگر مسلم ممالک، خاص طور پر ترکی، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئی جان ڈالنی ہوگی۔ او آئی سی (تنظیم تعاون اسلامی) کے فورمز کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ فلسطین کے مسئلے پر عالمی دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔
تیسری اہم حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ پاکستان اندرونی سلامتی کو مزید مضبوط بنائے۔ بھارت اور اسرائیل کا مشترکہ مفاد پاکستان میں عسکریت پسندی کو ہوا دینے میں پایا جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل، خاص طور پر معیشت اور سماجی استحکام، پر قابو پانا ہوگا تاکہ بیرونی مداخلت کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے۔
نتیجہ
مودی کا اسرائیل دورہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہے جو اب نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان یہ گہری دوستی پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے۔ تاہم، چیلنجز کے ساتھ مواقع بھی موجود ہیں۔ پاکستان کو اس نئی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے، اپنی حکمت عملی میں تنوع اور جدت لانی ہوگی۔ صرف اسی صورت میں پاکستان خطے میں تبدیل ہوتے ہوئے طاقت کے توازن میں اپنی سلامتی اور خودمختاری برقرار رکھ سکے گا۔
یہ دورہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جدید دور میں سلامتی صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ٹیکنالوجی، معیشت، سفارت کاری اور اندرونی استحکام کا ایک جامع تصور بن چکا ہے۔

Comments