امریکہ ایران جوہری مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے کیونکہ جنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔



 امریکی اور ایرانی جوہری مذاکرات دوبارہ ناکام ہو گئے بعد ازاں نہ ہونے والے معاہدے. یہ واقعہ باقی دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور مشرق وسطیٰ کی بے چینی اور ابھرتی ہوئی جنگ کی ظاہری صورت کو دکھاتا. دنیا اس وقت یوکرین اور غزہ اور دوسرے جنگی علاقوں کی توڑ پھوڑ سے متاثر ہے تو واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتا ہوا تنازعہ الیام اس سے پیدا ہونے والا خطرہائے عالمی امن کو برقرار رکھتا. 

‎ان فریقوں نے مذاکرات کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جس میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے کا معاہدہ جس سے پابندیاں ہٹنے والی تھیں. لیکن اعتماد کی عدم موجودگی اور گزشتہ مشکلات اور سیاسی دباؤ نے اسے دوبارہ ناکامی کی صورت میں ختم کر دیا. امریکہ کو خطرہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے. ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اسے مسلسل دباؤ اور پابندیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

‎یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ ماضی میں 2015 کے جوہری معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ اس معاہدے نے کچھ عرصے کے لیے ہی سہی، مگر خطے میں کشیدگی کو کم کیا اور عالمی منڈی میں تیل کی رسد کو استحکام دیا۔ تاہم بعد میں معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور پابندیوں کی بحالی نے نہ صرف ایران کو دوبارہ سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا بلکہ سفارتی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

‎ادرا کے انداز میں دیکھا جائے تو یہ محض دو ملکوں کا تنازع نہیں، بلکہ طاقت، وقار اور علاقائی اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔ امریکہ خود کو عالمی امن کا ضامن سمجھتا ہے اور کسی ایسے ملک کو جوہری طاقت بنتے دیکھنے سے گریزاں ہے جس کے خطے میں اتحادیوں سے تعلقات کشیدہ ہوں۔ ایران، دوسری طرف، خود کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جو بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کو اپنی توہین سمجھتا ہے۔ یہی ضد، یہی انا، مذاکرات کی میز پر بار بار آڑے آ جاتی ہے۔

‎مذاکرات کے ناکام ہونے کا سب سے بڑا نقصان عام ایرانی عوام کو ہو رہا ہے۔ پابندیوں کے باعث معیشت دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی اس کشیدگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد اور خطے میں کسی بھی وقت فوجی تصادم کا خدشہ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

‎جنگ کا خطرہ اب محض ایک نظری امکان نہیں رہا بلکہ ایک حقیقی خدشہ بن چکا ہے۔ خلیج میں فوجی نقل و حرکت، بیانات کی سختی اور اتحادیوں کی صف بندی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر سفارتکاری مکمل طور پر ناکام ہو گئی تو طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی جنگیں کبھی محدود نہیں رہتیں، بلکہ پورا خطہ ان کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔

‎انسانی انداز میں سوچا جائے تو سوال یہ ہے کہ آخر اس ضد کا فائدہ کس کو ہوگا؟ جنگ نہ امریکہ کے عوام کے حق میں ہے، نہ ایران کے شہریوں کے لیے، اور نہ ہی دنیا کے باقی حصوں کے لیے۔ سفارتکاری کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ مشکل ترین اختلافات کو بھی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مگر جب بات چیت کا دروازہ بند ہو جائے تو پھر میدان جنگ ہی باقی رہ جاتا ہے، جہاں جیت کسی کی نہیں ہوتی۔

‎اس تناظر میں عالمی برادری کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ یورپی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر بااثر ریاستیں اگر غیر جانبدار اور سنجیدہ ثالثی کا کردار ادا کریں تو شاید اعتماد کی کچھ فضا بحال ہو سکے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اختلافات ختم نہیں ہو سکتے، مسئلہ یہ ہے کہ فریقین سننے اور سمجھنے پر آمادہ نہیں۔

‎آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کی ناکامی ایک خطرناک موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر اس موڑ پر دانشمندی، صبر اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو آنے والا وقت صرف بیانات اور پابندیوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ وہ دن بھی آ سکتا ہے جب دنیا ایک اور بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہوگی۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں طاقت نہیں، بلکہ عقل اور انسانیت کی جیت ضروری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا