عمان کے وزیر خارجہ نے ایران میں کشیدگی بڑھنے پر امریکی وینس سے ملاقات کی۔



 جب Badr al-Busaidi نے ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی سینیٹر J. D. Vance سے ملاقات کی، تو یہ ملاقات محض ایک رسمی سفارتی تصویر یا بیانات تک محدود نہیں تھی۔ درحقیقت یہ خلیجی سیاست کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے کی عکاس تھی جس میں ہر قدم ناپ تول کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ایران اور مغرب کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ، آبنائے ہرمز کی غیر معمولی حساسیت اور عالمی توانائی منڈیوں میں پھیلی بے چینی—ان سب نے اس ملاقات کو ایک گہرا اور غیر معمولی مفہوم دے دیا۔

‎عمان طویل عرصے سے خطے میں خود کو ایک خاموش مگر مؤثر ثالث کے طور پر منواتا آیا ہے۔ Oman کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہی اسی سوچ پر رکھی گئی ہے کہ تنازعات میں فریق بننے کے بجائے بات چیت کا پل بنا جائے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ماضی کے خفیہ مذاکرات ہوں یا یمن بحران میں پس پردہ سفارت کاری—مسقط نے اکثر ایسے لمحوں میں دروازے کھولے جب دنیا کو لگتا تھا کہ سب راستے بند ہو چکے ہیں۔

‎یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب Iran پر سفارتی اور عسکری دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی دارالحکومتوں میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے بڑھتے اثرورسوخ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ تہران ان خدشات کو اپنے دفاع اور خودمختاری کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس کشیدگی نے خلیجی ریاستوں کو بھی بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کی پہلی لہر انہی کے ساحلوں سے ٹکرائے گی۔

‎United States کے اندر بھی ایران ایک نہایت حساس اور جذباتی موضوع ہے۔ امریکی قانون سازوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو سخت موقف کے حامی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ سفارت کاری کے دروازے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ عمانی وزیر خارجہ اور جے ڈی وینس کی ملاقات اسی سوال کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے کہ آیا واشنگٹن میں ایسے کان موجود ہیں جو خطے کے شراکت داروں کی بات سننے اور کشیدگی کم کرنے کی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ ہوں۔

‎عمان کے لیے اصل امتحان توازن برقرار رکھنے کا ہے۔ ایک جانب امریکہ کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات، دفاعی تعاون اور اقتصادی مفادات ہیں، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور تاریخی روابط ہیں جو مکمل لاتعلقی کی اجازت نہیں دیتے۔ آبنائے ہرمز—جو عالمی تیل کی ترسیل کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے—عمان اور ایران دونوں کے ساحلوں کے درمیان واقع ہے۔ اس آبی گزرگاہ میں ذرا سی بے چینی بھی عالمی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر سکتی ہے۔

‎اس ملاقات کے ممکنہ نکات میں خطے کی مجموعی سلامتی، ایران کے ساتھ مکالمے کے امکانات اور کسی ممکنہ عسکری تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی راستوں کی تلاش شامل رہی ہوگی۔ عمانی قیادت کا پیغام ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں اور دیرپا حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تہران اس پیغام کو سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟

‎علاقائی سطح پر بھی اس ملاقات کی اہمیت کم نہیں۔ خلیجی ممالک کے درمیان ایران کے حوالے سے سوچ میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ کچھ ریاستیں سخت مؤقف اپنانے کے حق میں ہیں، جبکہ کچھ مفاہمت اور عملی تعاون کو ترجیح دیتی ہیں۔ عمان عموماً دوسرے راستے کا انتخاب کرتا آیا ہے، اور یہی رویہ اس کی سفارتی پہچان بن چکا ہے۔

‎اگر انسانی زاویے سے دیکھا جائے تو اس ساری کشیدگی کا سب سے بھاری بوجھ عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ پابندیاں، معاشی دباؤ اور جنگ کے خدشات خطے کے عوام کو مسلسل اضطراب میں رکھتے ہیں۔ ایران کے شہری مہنگائی اور معاشی مشکلات جھیل رہے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کے عوام سلامتی کے خدشات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر عمان مکالمے کا کوئی راستہ کھولنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا فائدہ صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

‎یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی مسابقت نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر اسٹریٹجک شطرنج کی بساط بنا دیا ہے۔ چین اور روس کی بڑھتی موجودگی، امریکہ کی روایتی بالادستی اور علاقائی طاقتوں کی اپنی ترجیحات—یہ سب مل کر ایک نہایت پیچیدہ منظر پیش کرتے ہیں۔ عمان کی سفارت کاری اسی پیچیدگی میں توازن ڈھونڈنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

‎آخر میں، بدر البوسعیدی اور جے ڈی وینس کی ملاقات کو کسی فوری نتیجے کے پیمانے پر پرکھنا شاید درست نہ ہو۔ سفارت کاری اکثر خاموش، بتدریج اور صبر آزما عمل ہوتی ہے۔ لیکن ایسے لمحات اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ یہی وہ مواقع ہیں جہاں سخت بیانیے کے پیچھے مکالمے کی ایک کھڑکی کھلتی ہے۔

‎خطہ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر دانش، تحمل اور سفارتی بصیرت کو ترجیح دی گئی تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر جذبات اور طاقت کے مظاہرے غالب آئے تو نتائج سب کے لیے سنگین ہوں گے۔ عمان کی حالیہ سفارتی کوشش اسی امید کی علامت ہے کہ شاید ابھی بھی بات چیت کا راستہ باقی ہے—اور یہی راستہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچا سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

‎امریکی بیری بیدا تباہ

شمالی کوریا کے کم نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے تجربے کی نگرانی کی۔

پاکستان 22 رنز سے جیت گیا