بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامے کی بڑی کروٹ: طارق رحمان کی وزارتِ عظمیٰ کی تیاری
بنگلہ دیش کی سیاست ایک بار پھر ایک دلچسپ موڑ پر آ پہنچی ہے۔ برسوں جلاوطنی، مقدمات، سیاسی تنہائی اور اسٹیبلشمنٹ سے الجھاؤ کے بعد اب لوگ طارق رحمان کو سنجیدگی سے آئندہ وزیراعظم کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ اس تاثر کو حال ہی میں اس وقت مزید تقویت ملی جب جماعتِ اسلامی نے بھی مان لیا کہ آنے والے سیاسی سیٹ اپ میں طارق رحمان کا کردار مرکزی ہو سکتا ہے۔
یہ محض بیان بازی نہیں۔ یہ اصل میں بنگلہ دیش کی سیاست میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی نشانی ہے۔ برسوں سے اقتدار میں بیٹھی جماعت کے مقابلے میں، اب تک بکھری ہوئی اپوزیشن بھی کچھ حد تک اکٹھی ہوتی نظر آ رہی ہے — اور اس سب کے بیچ طارق رحمان ایک طرح سے اس اتحاد کی علامت بن گئے ہیں۔
طارق رحمان کون ہیں؟ وہ سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش کی ایک بااثر سیاستدان، خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی BNP کے قائم مقام چیئرمین بھی ہیں۔ طویل عرصہ سے لندن میں بیٹھ کر پارٹی کے معاملات چلا رہے ہیں۔ ان پر کرپشن اور مختلف مقدمات کے الزامات ہیں، اس لیے وہ متنازع بھی ہیں، مگر BNP کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے وہی واحد رہنما ہیں جو پارٹی کو دوبارہ اقتدار دلوا سکتے ہیں۔
ان کی واپسی کی خبریں تو کافی عرصے سے چل رہی تھیں، لیکن اس بار پہلی بار لگ رہا ہے کہ سیاسی، مذہبی اور عوامی حلقوں میں ان کی قبولیت کچھ بڑھ گئی ہے۔
اب آتے ہیں جماعتِ اسلامی پر۔ یہ جماعت پہلے بھی BNP کی اتحادی رہی ہے، لیکن پچھلے کچھ سالوں میں اس پر پابندیاں لگیں، رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں اور اندرونی دباؤ نے اسے دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ اب جب جماعتِ اسلامی طارق رحمان کے لیے نرم لہجہ اختیار کر رہی ہے تو یہ مستقبل میں سیاسی پارٹنرشپ کا اشارہ ہے۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ اکیلے رہنے کے بجائے اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننا چاہتی ہے۔ طارق رحمان کی قیادت کو تسلیم کرنا بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اب حکومت کی بات کریں تو پچھلے ڈیڑھ عشرے میں اقتدار پر بیٹھی جماعت نے ترقی اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کا تو خوب کریڈٹ لیا، لیکن سیاسی جبر، انتخابی عمل پر سوالات اور اپوزیشن پر سختی نے عام لوگوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔ اب BNP اور اس کے اتحادی اسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی لیے طارق رحمان کو "تبدیلی کی علامت" کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، چاہے وہ خود ملک میں موجود نہ ہوں۔ ان کے حامی کہتے ہیں کہ اب بنگلہ دیش کو ایسا لیڈر چاہیے جو اسٹیٹس کو توڑ سکے۔
اب اگر چیلنجز کی بات کریں تو راستہ ابھی ہموار نہیں ہوا۔ سیاسی فضا ان کے حق میں جاتی تو نظر آ رہی ہے، لیکن وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے کے لیے طارق رحمان کو کئی کانٹے دار مسائل درپیش ہیں: عدالتی مقدمات، گرفتاری کا خطرہ، فوج اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعلقات، مغربی ممالک کا ردعمل، اور جماعتِ اسلامی جیسے اتحادیوں کے ساتھ نظریاتی اختلافات — سب کچھ ابھی واضح نہیں۔
یہ سارے عوامل ابھی بھی اس بات کو غیر یقینی بناتے ہیں کہ طارق رحمان واقعی اقتدار تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں عوامی جذبات ہمیشہ بڑی طاقت رہے ہیں۔ اگر طارق رحمان اپنے آپ کو "مظلوم سیاسی رہنما" کے طور پر کامیابی سے پیش کر پاتے ہیں تو یہی بیانیہ ان کے لیے بڑا سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا اعتراف بھی شاید اسی عوامی دباؤ کا عکس ہو، جو اپوزیشن اتحاد کو مزید قریب لا رہا ہے۔
آخر میں، جماعتِ اسلامی کے اس اعتراف نے طارق رحمان کے سیاسی قد کو تو بڑھا دیا ہے، مگر ابھی سب کچھ طے نہیں ہوا۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں اچانک سب کچھ بدل جانا کوئی نئی بات نہیں۔ ایک بات تو طے ہے: آنے والے انتخابات میں طارق رحمان کو نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا۔
اگر وہ قانونی، سیاسی اور عوامی سطح پر خود کو سنبھال پائے تو عین ممکن ہے کہ بنگلہ دیش کو جلد ایک نیا وزیراعظم ملے۔ ورنہ یہ اعتراف بھی صرف وقتی حکمتِ عملی بن کر رہ جائے گا۔ اس وقت بنگلہ دیش جس سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں طارق رحمان صرف ایک فرد نہیں، پورے سیاسی بیانیے کی علامت بن گئے ہیں — اور اصل میں یہ ہی اس ساری بحث کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

Comments