مودی نے فلسطین کے خرچے پر بھارت اور اسرائیل کے درمیان کس طرح ’دیواریں توڑ دیں‘
نریندرمودی کا فلسطینی معاملہ پر اختیار کردہ موقف بھارتی ملک کی بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک خاص اور عمیق مثال کے طور پر موجود ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد مبصرین نے پیش گوئی کی تھی کہ نریندرمودی اپنی پہلی کابینہ کے دنوں میں بھارت کا فلسطینی معاملات میں روایتی موقف ترک کریں گے۔ مودی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی بلندیاں پہنچانے کے ساتھ فلسطین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے ساتھ اپنے عمل کو مکمل کیا۔ ان کی "ڈبل اِن گیم" حکمت عملی میں تمام چیزیں پوشیدہ ہیں۔
روایتی پالیسی سے انحراف
2014 سے پہلے بھارت کی مشرق وسطیٰ پالیسی نے اپنے مرکزی اصولوں کو واضح طور پر ظاہر کیا۔ 1948 سے بھارت نے فلسطینی آزادی کی تحریک کی حمایت کرنا شروع کیا۔ بھارت نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو اپنا سرکاری درجہ دینے کے ساتھ یاسر عرفات کو "ریاستی مہمان" کا اعزاز دیا۔ مودی نے اس مشن کو شروع کیا تاکہ وہ موجودہ روایتی طریقوں کو مکمل طور پر ختم کرے۔
مودی نے جو کچھ کیا، اسے بہترین انداز میں "تدریجی تبدیلی" کہا جا سکتا ہے۔ فلسطین کو انہوں نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے "مفروضہ" میں تبدیل کر دیا۔ بھارتی پالیسی اب فلسطین کو شامل رکھتی ہے لیکن اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ظاہر کرتی ہے۔
اسرائیل سے نئی دوستی
مودی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ایک "نئی زبان" ایجاد کی۔ 2017 میں وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے جو اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے فلسطین کا دورہ نہیں کیا، جو پہلے کے تمام بھارتی وزیر اعظموں کے برعکس تھا۔ 2018 کے بعد انہوں نے فلسطین کا دورہ کیا تاکہ دونوں فریقین کو یہ پیغام دے سکیں کہ بھارت نے دونوں ممالک سے الگ الگ تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ آئرن ڈوم نظام ڈرونز اور جاسوسی ٹیکنالوجی کی فروخت نے اس تعلقات کو مضبوط بنایا۔ مودی نے اس چیز کو "فلسطین کے خرچے پر" نہیں کیا بلکہ مودی نے اس چیز کو "فلسطین سے الگ" کر دیا۔ بھارت اب اسرائیل پر اپنی موجودہ تعلقات کو برقرار رکھتا ہے
اسرائیل سے نئی دوستی
مودی نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ایک "نئی زبان" ایجاد کی۔ 2017 میں وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے جو اسرائیل کا دورہ کیا۔ اس دورے میں انہوں نے فلسطین کا دورہ نہیں کیا، جو پہلے کے تمام بھارتی وزیر اعظموں کے برعکس تھا۔ لیکن اس کے بعد، 2018 میں، انہوں نے فلسطین کا بھی دورہ کیا، یوں دونوں فریقین کو یہ پیغام دیا کہ بھارت کسی ایک کا طرفدار نہیں، بلکہ دونوں سے الگ الگ تعلقات چاہتا ہے۔
اسرائیل کے ساتھ بھارت کے دفاعی تعلقات نے نئی بلندیوں کو چھوا۔ آئرن ڈوم، ڈرونز، اور جاسوسی ٹیکنالوجی کی فروخت نے اس تعلقات کو مضبوط بنایا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ مودی نے اسے "فلسطین کے خرچے پر" نہیں کیا، بلکہ اسے "فلسطین سے الگ" کر دیا۔ یعنی اب بھارت اسرائیل سے تعلقات اس لیے نہیں رکھتا کہ وہ فلسطین کی مخالفت کرے، بلکہ اس لیے کہ دونوں ممالک کے مفادات ملتے ہیں۔
فلسطین سے "تعلقات برقرار"
مودی کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ انہوں نے فلسطین کو "ناراض" نہیں ہونے دیا۔ جب وہ 2018 میں فلسطین گئے، تو انہوں نے وہاں اسپتال اور ٹیکنالوجی پارک بنانے کا وعدہ کیا۔ 2019 میں، بھارت نے فلسطین کو 5 ملین ڈالر کی امداد دی۔ 2022 میں، بھارت نے اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ سب کچھ اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات کے باوجود ہوا۔ مودی نے فلسطین کو یہ باور کرایا کہ بھارت کی اسرائیل سے دوستی فلسطین کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک باریک بات ہے، لیکن اس نے کام کیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے کبھی بھارت کی اسرائیل دوستی پر سخت تنقید نہیں کی، جو کہ ایک معجزے سے کم نہیں۔
"دیواریں توڑنا" کا مطلب
مودی نے دراصل دو قسم کی دیواریں توڑی ہیں۔ پہلی، وہ "نفسیاتی دیوار" جو بھارت میں یہ سمجھتی تھی کہ اسرائیل اور فلسطین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔ مودی نے ثابت کیا کہ دونوں سے دوستی ممکن ہے۔
دوسری دیوار وہ تھی جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تھی۔ بھارت اب ایک ایسا ملک بن گیا جو دونوں فریقین سے بات کر سکتا ہے، دونوں کو اثر انداز کر سکتا ہے۔ 2020 میں، جب عرب ممالک اسرائیل سے معاہدے کر رہے تھے (ابراہیم معاہدات)، تو بھارت نے اس کی حمایت کی، لیکن فلسطین سے بھی تعلقات برقرار رکھے۔
اصل راز: "پریکٹیکل ایدیالزم"
مودی کی پالیسی کا اصل راز "پریکٹیکل ایدیالزم" یا عملی مثبت اندریختی میں ہے۔ انہوں نے فلسطین کی حمایت کو ایک "مفروضہ" سے "عملی" سطح پر لے آئے۔ یعنی اب بھارت فلسطین کی "سیاسی آزادی" کی بات کم، اور "عملی امداد" کی بات زیادہ کرتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ، سیاسی رشتوں کو "عملی دفاعی تعلقات" میں بدل دیا گیا۔
یہ پالیسی اسرائیل کو یہ پیغام دیتی ہے کہ بھارت ایک قابل اعتماد دوست ہے جو عوامی جذبات کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ فلسطین کو یہ پیغام جاتا ہے کہ بھارت اب بھی ان کا دوست ہے، لیکن ایک "نئے انداز" میں۔
نتیجہ
مودی نے فلسطین کے "خرچے" پر کچھ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے فلسطین کو ایک "نئے ڈھانچے" میں رکھا جو بھارت کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ وہ "دیوار" جو بھارت کو اسرائیل سے دور رکھتی تھی، وہ بھارت کے اندرونی "نفسیاتی رکاوٹ" تھی۔ مودی نے اسے توڑا، نہ کہ فلسطین کے حقوق کو داؤ پر لگا کر۔
یہ پالیسی مکمل طور پر کامیاب ہے یا نہیں، یہ وقت بتائے گا۔ لیکن اتنا طے ہے کہ مودی نے بھارت کو مشرق وسطیٰ میں ایک "مؤثر کھلاڑی" بنا دیا ہے جو دونوں فریقین سے بات کر سکتا ہے۔ اس معنی میں، انہوں نے واقعی "دیواریں توڑ دیں"، لیکن یہ دیواریں بھارت کی اپنی بنائی ہوئی تھیں، فلسطین نے نہیں۔

Comments